جنرل نیوز

گنجِ انوار حضرت خواجہ انور علی شاہ افتخاریؒ کے 31ویں یومِ وصال کا انعقاد۔ جلسۂ فیضانِ اولیاء اللہ سے علماء کرام و مشائخ عظام کے خطابات

اولیاء اللہ کی زندگیاں قرآن و سنت کی عملی ترجمان 

گنجِ انوار حضرت خواجہ انور علی شاہ افتخاریؒ کے 31ویں یومِ وصال کا انعقاد۔ جلسۂ فیضانِ اولیاء اللہ سے علماء کرام و مشائخ عظام کے خطابات

 

حیدرآباد 19 ستمبر (پریس نوٹ) 31 ویں سالانہ یومِ وصال گنجِ انوار حضرت خواجہ شیخ محمد انور علی شاہ چشتی قادری حقانی افتخاریؒ، چشتی منزل، شاہ نگر، مصری گنج کے موقع پر مختلف روحانی و دینی پروگراموں کا انعقاد عمل میں آیا۔ کل بعد نمازِ عشاء خدمتِ صندل مالی کی سعادت حاصل ہوئی جس کے بعد عظیم الشان پیمانہ پر جلسۂ فیضانِ اولیاء اللہ منعقد ہوا۔ جلسۂ فیضانِ اولیاء اللہ سے نبیرۂ حضرت وطنؒ پیرِ طریقت مولانا سید شاہ انواراللہ افتخاری چشتی قادری سرپرست کے علاوہ نگران جلسۂ مولانا ڈاکٹر خواجہ شیخ شاہ محمد شجاع الدین افتخاری حقانی پاشاہ سجادہ نشین حضرت گنجِ انوارؒ، اسدالعلماء مولانا محمد محسن پاشاہ قادری نقشبندی کامل جامعہ نظامیہ و جنرل سکریٹری کل ہند سنی علماء مشائخ بورڈ محبوب نگر اور امیرِ امارتِ امتِ اسلامیہ مولانا قاضی محمد عبدالرزاق نقشبندی جامع السلاسل نے قرآنِ حکیم اور احادیثِ نبویؐ کی روشنی میں خطاب کیا۔

 

مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ اولیاء اللہ کی زندگیاں کتاب و سنت کی عملی ترجمانی کا عظیم الشان مظہر ہیں۔ ان کی تعلیمات انسان کو اللہ تعالیٰ کی معرفت، اتباعِ رسول اکرمؐ، حسنِ اخلاق، محبت، اخوت اور خدمتِ خلق کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ اولیائے کرام کی یاد منانے کا مقصد ان کی تعلیمات کو عام کرنا اور نئی نسل کو دین و سنت سے وابستہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایمان کے درخت کی جڑ کلمہ طیبہ ہے، اس جڑ کو مضبوط کرنے کے لئے ضروری ہے کہ عشق رسالتؐ کی شمع کی لو دلوں میں خوب روشن کیا جائے۔ اس درخت کے پیڑ کا تنا حقوق اللہ اور حقوق العباد ہیں۔ جڑوں اور تنے کی مضبوطی کے بعد ٹہنیوں کو مضبوط کرنے کے لئے ضروری ہے کہ نفس سے جہاد کرکے نفس کو مطمئن بنایا جائے۔

 

تبھی ایمان کا درخت کامل، انتہائی مضبوط اور مستحکم سایہ دار و پھل دار ہوگا۔ کامل ایمان کے فیضان سے دونوں جہاں روشن ہوجائیں گے۔ عرس تقاریب میں مولانا سید ولی بادشاہ قادری الجیلانی ہاشم پاشاہ، مولانا ڈاکٹر سید سمیع اللہ محمد محمد الحسینی بندہ نوازی، مولانا سید فرید الدین محمد محمد الحسینی بندہ نوازی، مولانا سید اسلم حسین حافظی، مولانا سید نظام الدین ہارونی، مولانا عرفان اللہ شاہ نوری، مولانا سید شاہ رحمت محمد محمد الحسینی بندہ نوازی رحمت بابا، مولانا سید سیف اللہ حسینی افتخاری، مولانا منور علی سلطانی، مولانا سید شاہ آیت اللہ حسینی سجادہ نشین بارگاہِ قتالیہؒ کولم پلی، مولانا سید کلیم اللہ محمد محمد الحسینی بندہ نوازی، مولانا سید ولی اللہ محمد محمد الحسینی نصیر پاشاہ، مولانا سید عبدالقادر محمد محمد الحسینی قادر پاشاہ، مولانا عبداللہ بن سالم بایمین چشتی قادری نقشبندی سہروردی جامع السلاسل، مولانا سید شاہ نجم الدین قادری چشتی وحدتی، مولانا سید قطب الدین قادری بخاری، مولانا سید حامد علی صابری، مولانا حافظ شاہ قطب الرحمٰن افتخاری سنگاریڈی، مولانا ڈاکٹر حسن محمد نقشبندی، مولانا حکیم اعجاز شریف مرزائی سدی پیٹ، مولانا حکیم عرفانی سنگاریڈی، مولانا غلام سبحانی صدیقی القادری چشتی، مولانا سید سراج محمد قادری شرفی، مولانا صوفی سیف احمد یافعی، مولانا قاضی عظمت اللہ جعفری، مولانا اسحاق پاشاہ قادری، صاحبزادہ ڈاکٹر نجم ریحان، مولانا سید عمران بخاری، مولانا سید احمد قادری، مولانا عمران پاشاہ کنج نشین، مولانا سید خالد حسینی چشتی، مولانا سید مظفر قادری الجیلانی مشائخ بالاپور، مولانا صوفی عبدالصمد قادری شطاری، مولانا شجاع الدین قادری مقیت پاشاہ، مولانا صوفی علی الدین قادری، مولانا اعجاز علی افتخاری ظہیرآباد، مولانا صوفی حافظ شاہنواز ابوالعلائی، مولانا طاہر حسین شطاری، صوفی برکت علی شاہ قادری اور دیگر ممتاز علمائے کرام و مشائخ عظام موجود تھے۔ اس روحانی اجتماع میں عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور حضرت گنجِ انوارؒ سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کیا۔ رات دیر گئے تک محفلِ سماع کا سلسلہ جاری رہا۔ اس موقع پر منتظمین مولانا خواجہ شاہ محمد سلام محی الدین افتخاری، مولانا سید خلیل اللہ حسینی افتخاری، قاری محمد محی الدین افتخاری واصل پاشاہ کی جانب سے زائرین اور عقیدت مندوں کے لئے انتظامات کئے گئے تھے۔ علماء و مشائخ نے حضرت گنجِ انوارؒ کے سالانہ یومِ وصال کی مناسبت سے ان کی دینی و روحانی خدمات کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے امتِ مسلمہ کے لئے امن، اتحاد، محبت اور خیر و برکت کی دعائیں کیں۔

تناول طعام، خاص وعام کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button