نیشنل

نفرت کی سیاست اب خوف کی سیاست بن چکی ہے: مولانا ارشد مدنی

جمعیۃ علماء ہند نے ملک میں بڑھتی فرقہ پرستی، آئینی اداروں کی خاموشی اور مسلمانوں و اسلامی شعائر کے خلاف مبینہ خوف و ہراس کی سیاست پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کی دو روزہ ورکنگ کمیٹی اجلاس میں منظور کردہ اعلامیہ میں موجودہ صورتحال کو ’’انتہائی تشویشناک‘‘ قرار دیا گیا۔

 

جمعیۃ کے صدر مولانا ارشد مدنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان کبھی طاقت اور ظلم کے سامنے نہیں جھکے، تاہم وہ محبت اور بھائی چارہ کے ساتھ جواب دینے کیلئے ہمیشہ تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نفرت پر مبنی سیاست اب باقاعدہ خوف کی سیاست میں تبدیل ہوچکی ہے، جس کا مقصد مسلمانوں کو ڈرا کر مخصوص سماجی اور سیاسی حالات قبول کرنے پر مجبور کرنا ہے۔

 

اعلامیہ میں کہا گیا کہ اقتدار کے حصول کیلئے ملک کے امن و اتحاد کے ساتھ خطرناک کھیل کھیلا جارہا ہے۔ تنظیم نے الزام عائد کیا کہ مذہبی انتہا پسندی اور نفرت میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ قانون کے محافظ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

 

جمعیۃ علماء ہند نے حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بعض سیاسی قائدین اقتدار برقرار رکھنے کیلئے فرقہ وارانہ پولرائزیشن کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔ تنظیم نے اکثریتی طبقہ کو اقلیتوں کے خلاف مذہبی جذبات کے ذریعہ بھڑکانے کی کوششوں کو آئین کے انصاف، مساوات اور غیرجانبداری کے اصولوں کے منافی قرار دیا۔

 

اعلامیہ میں مغربی بنگال کے چیف منسٹر سویند ادھیکاری کے مبینہ بیان پر بھی تنقید کی گئی، جس میں انہوں نے صرف ہندوؤں کیلئے کام کرنے کی بات کہی تھی۔ جمعیۃ نے اسے آئینی حلف کی خلاف ورزی قرار دیا، کیونکہ عوامی نمائندے تمام شہریوں کی بلاامتیاز خدمت کے پابند ہوتے ہیں۔

 

تنظیم نے الزام لگایا کہ ملک کو ایک ’’نظریاتی ریاست‘‘ میں تبدیل کرنے کی منظم کوشش کی جارہی ہے۔ اس ضمن میں یکساں سول کوڈ، ’وندے ماترم‘ کو لازمی قرار دینے، مساجد و مدارس کے خلاف کارروائیوں اور ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے نام پر حقیقی شہریوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے جیسے اقدامات کا حوالہ دیا گیا۔

 

اعلامیہ میں کہا گیا کہ ماضی کی حکومتوں نے مسلمانوں کو سماجی، تعلیمی، سیاسی اور معاشی سطح پر نقصان پہنچایا، لیکن موجودہ صورتحال اس لئے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اب براہ راست اسلام کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ تنظیم نے 2014 کے بعد نافذ قوانین اور حالیہ پالیسیوں کو اس تبدیلی کا ثبوت قرار دیا۔

 

جمعیۃ علماء ہند نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ عالمی سطح پر اسلام مخالف پروپیگنڈہ منظم انداز میں چلایا جارہا ہے، تاہم اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اسلام اپنی تاریخی مضبوطی کے باعث ایسی مہمات کو ناکام بنادے گا۔

 

مولانا ارشد مدنی نے اپوزیشن جماعتوں، سماجی تنظیموں اور محب وطن شہریوں سے اپیل کی کہ وہ مبینہ فرقہ پرست اور فسطائی طاقتوں کے خلاف متحد ہوں اور بھائی چارہ، رواداری، انصاف اور آئین کی بالادستی کیلئے مشترکہ جدوجہد کریں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button