ریپ کے ملزم کا شاہانہ استقبال – جیل سے نکلتے ہی پھولوں کی بارش اور قافلہ کا ہنگامہ

غازی آباد: اترپردیش کے غازی آباد میں عصمت ریزی کیس میں 9 ماہ بعد ضمانت پر رہا ہونے والے ملزم کا شاندار استقبال کیا گیا. ملزم ہندو واہنی کا رکن بتایا جاتا ہے جس پر مختلف گوشوں سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ اتوار کو جیل کے دروازے سے باہر نکلتے ہی ملزم کے حامیوں نے اس کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے، ہاتھ ملائے اور اس کے قدموں میں جھکتے ہوئے زبردست ہنگامہ آرائی کی۔ بعد ازاں اسے کندھوں پر اٹھا کر جلوس بھی نکالا گیا۔ یہ واقعہ دہلی کے قریب واقع غازی آباد کے مرادنگر میں 17 مئی کو پیش آیا۔
واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ملزم سشیل پرجاپتی، ہندو یووا واہنی کا رکن بتایا جا رہا ہے۔ الزام ہے کہ اس نے قانون کی تعلیم حاصل کرنے والی طالبہ کو وکیل سے ملوانے کے بہانے فلیٹ پر لے جا کر اس کی عصمت ریزی کی تھی۔ کیس درج ہونے کے بعد پولیس نے اسے گرفتار کرکے جیل بھیج دیا تھا۔ اور گزشتہ اتوار کو وہ ضمانت پر رها ہوا تھا
اسہ دوران ملزم کی داسنا جیل سے ضمانت پر رہائی کے بعد نکالی گئی جشن ریلی پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم سمیت 12 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
اتوار کو جیل سے رہائی کے بعد ملزم کے حامیوں نے اس پر پھول نچھاور کیے، اسے کندھوں پر اٹھایا اور بعد ازاں گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ روڈ شو نکالا۔ اس واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔



