مضامین

الوداع فاروق سیّد۔بھولی بسری یادیں، ایک مشن اور پُرعزم انسان کی رخصتی

جاوید جمال الدین جاوید

معروف صحافی اور بچوں کے مقبول رسالہ “گل بوٹے” کے مدیر فاروق سید کی رحلت کی خبر نے دل کو گہرے رنج و ملال میں مبتلا کردیا۔ منگل کی شام جب یہ اطلاع موصول ہوئی کہ فاروق سید زندگی اور موت کی طویل کشمکش کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں تو یوں محسوس ہوا جیسے اردو صحافت اور بچوں کے ادب کا ایک روشن چراغ بجھ گیا ہو۔

 

سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغامات کی بھرمار ہے، مگر میرے لیے یہ صرف ایک مدیر، صحافی یا ادیب کے انتقال کی خبر نہیں، بلکہ ایک ایسے مخلص دوست، محسن، رفیقِ سفر اور اردو کے سپاہی کی جدائی ہے جس نے اپنی پوری زندگی اردو زبان کی بقا اور نئی نسل کو اس سے جوڑنے کے مشن کے لیے وقف کردی۔

 

آج فیس بک نے بھی عجیب اتفاق سے ماضی کے دریچے کھول دیے۔ پرانی یادوں کے درمیان اچانک فاروق سید کی تصویر سامنے آگئی اور ذہن کئی دہائیاں پیچھے چلا گیا۔ وہ زمانہ جب ڈاکیہ دروازے پر دستک دیتا تھا، اور اگر چند لمحوں کی تاخیر ہوجاتی تو خط اور رسائل دروازے کی جالی میں اٹکا کر چلا جاتا۔ انہی دنوں میرے گھر آنے والی ڈاک میں بچوں کا رسالہ “گل بوٹے” بھی شامل ہوتا تھا۔ اس کے تازہ شمارے کو ہاتھ میں لیتے ہی بچپن کی دنیا جاگ اٹھتی تھی۔ “کھلونا”، “نور”، “کلیاں” اور دوسرے بچوں کے رسائل کی مہک جیسے دوبارہ فضا میں گھل جاتی تھی۔ مگر وقت بدل رہا تھا، مطالعے کا ذوق کم ہورہا تھا، اردو قارئین سکڑ رہے تھے اور بچوں کا تعلق کتابوں سے ٹوٹتا جارہا تھا۔ ایسے مایوس کن دور میں فاروق سید نے “گل بوٹے” کا پرچم سنبھالا اور اسے محض ایک رسالہ نہیں بلکہ ایک تحریک بنادیا۔

 

1990 کی دہائی میں جب اردو اخبارات اور رسائل شدید بحران سے گزر رہے تھے، فاروق سید نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے “گل بوٹے” کو ایک مشن کے طور پر آگے بڑھایا۔ ابتدا میں صرف ڈھائی سو کاپیاں شائع ہونے والا یہ رسالہ ان کی محنت، لگن، اخلاص اور غیر معمولی جذبے کے باعث ہزاروں گھروں تک پہنچنے لگا۔ اردو داں طبقے کا شاید ہی کوئی گھر ہوگا جہاں “گل بوٹے” کا نام ناواقف ہو۔ تعلیمی اداروں، ادیبوں، شاعروں، اساتذہ اور اردو سے محبت کرنے والے عام لوگوں نے ان کا ساتھ دیا، مگر اصل قوت فاروق سید کا وہ یقین تھا جو ان کے دل و دماغ میں رچا بسا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ اگر نئی نسل کو اردو سے جوڑنا ہے تو بچوں کے ادب کو زندہ رکھنا ہوگا۔

 

فاروق سید کی شخصیت کا ایک پہلو ان کی فراخ دلی اور انسان دوستی بھی تھی۔ مجھے آج بھی غالباً 1996 کا وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب ہماری روبرو ملاقات مدنپورہ کی بڑی مسجد کے قریب ایک ہوٹل میں ہوئی تھی۔ ہم دونوں ایک قتل کی رپورٹنگ کے سلسلے میں وہاں پہنچے تھے۔ گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ ہم دونوں بی بی سی اردو سروس لندن میں ملازمت کے لیے انٹرویو دینے والے ہیں۔ بعد میں ہم دونوں اس انٹرویو میں کامیاب نہ ہوسکے، مگر اس واقعے کے بعد فاروق سید کی شخصیت میرے لیے اور بھی بڑی ہوگئی۔

 

چند ماہ بعد میں شمالی ہند کے سفر پر تھا۔ ایس ٹی ڈی فون کا زمانہ تھا۔ رات گئے گھر فون کیا تو پیغام ملا کہ فاروق سید نے اطلاع دی ہے کہ ایک انگریزی اخبار میں بی بی سی اردو سروس کی نئی اسامی کا اشتہار شائع ہوا ہے۔ اتفاق سے اس وقت میں لکھنؤ میں تھا اور سینئر صحافی حسین افسر نے بھی وہ اخبار مجھے فراہم کردیا تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ ہم دونوں ایک ہی ملازمت کے امیدوار تھے، ایک دوسرے کے حریف تھے، مگر فاروق سید نے مقابلے کی پروا کیے بغیر مجھے فون کرکے اس اشتہار کی خبر دی۔ یہ ظرف، یہ کشادہ دلی اور یہ اخلاق ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتا۔ یہ صرف وہی شخص کرسکتا ہے جس کے دل میں حسد نہیں بلکہ محبت اور خیرخواہی ہو۔

 

بعد کے برسوں میں جب میں روزنامہ “راشٹریہ سہارا” سے الگ ہوا تو فاروق سید نے مجھے “گل بوٹے” اور ایک نئے روزنامہ کے سلسلے میں ساتھ کام کرنے کی پیشکش بھی کی۔ وہ ہمیشہ چاہتے تھے کہ اردو کے لوگ بکھریں نہیں بلکہ ایک دوسرے کا سہارا بنیں۔ یہی وجہ تھی کہ وہ نوجوان صحافیوں کی رہنمائی کرتے، نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور ہر اس شخص کی مدد کرتے تھے جو اردو کے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا۔

 

کورونا وبا نے ویسے ہی اردو صحافت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اخبارات کی سرکولیشن کم ہوگئی، قارئین ناپید ہونے لگے اور مطالعے کا ذوق سوشل میڈیا کی نذر ہوگیا۔ ایسے بحرانی دور میں بھی فاروق سید مایوس نہیں ہوئے۔ وہ ہر روز کسی نہ کسی نئی منصوبہ بندی میں مصروف رہتے۔ ان کی گفتگو میں شکوہ کم اور فکر زیادہ ہوتی تھی۔ وہ صرف اردو والوں تک محدود نہیں تھے بلکہ غیر اردو داں طبقے کو بھی اردو سے جوڑنے کی کوشش کرتے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ زبانیں صرف رسم الخط سے نہیں بلکہ تہذیب، محبت اور تعلق سے زندہ رہتی ہیں۔

 

ان کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ انہوں نے “گل بوٹے” کو وقت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔ ان کے صاحبزادے عاصم نے مصنوعی ذہانت اور انٹرنیٹ کی دنیا میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے “گل بوٹے” کو آن لائن ایک نئی شناخت دی۔ یہ دراصل فاروق سید کے خواب کی توسیع تھی کہ اردو نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ آگے بڑھے اور نئی نسل تک پہنچے۔

 

فاروق سید کی زندگی خود ایک جدوجہد کی داستان تھی۔ ان کا تعلق جنوبی مہاراشٹر کے شہر شولاپور سے تھا۔ بچپن میں والد کے انتقال کے بعد انہوں نے انتہائی سخت حالات میں زندگی گزاری۔ غربت، محرومی اور مشکلات نے انہیں توڑا نہیں بلکہ مزید مضبوط بنادیا۔ بہتر مستقبل کی تلاش انہیں ممبئی لے آئی جہاں تعلیم کے ساتھ انہوں نے چھوٹے موٹے کام کیے، یہاں تک کہ پھیری بھی کی، مگر اپنے خوابوں کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔

 

مہاراشٹر کالج میں تعلیم کے دوران انہیں روزنامہ “اردو ٹائمز” میں ملازمت ملی اور یہی ان کی صحافتی زندگی کا آغاز تھا۔ بعد میں انہوں نے کے سی کالج سے صحافت میں ڈپلومہ کیا اور مسلسل محنت کے ذریعے اپنی شناخت بنائی۔ “اردو مہانگر”، “اردو ٹائمز” اور پھر “گل بوٹے” کے ذریعے انہوں نے اردو دنیا میں اپنی الگ پہچان قائم کی۔ شولاپور میں “اردو میلہ” کا انعقاد بھی ان کے خوابوں میں شامل تھا، جس نے انہیں مزید مقبولیت عطا کی۔

 

ان کی شخصیت میں انکساری نمایاں تھی۔ وہ نرم خو، ملنسار اور محبت بانٹنے والے انسان تھے۔ بچوں سے انہیں غیر معمولی محبت تھی۔ “جشنِ بچپن” جیسے پروگراموں کے ذریعے انہوں نے بچوں میں مطالعے کا ذوق پیدا کیا اور انہیں اردو زبان، تہذیب اور اخلاقی اقدار سے جوڑنے کی کوشش کی۔ “گل بوٹے” میں شائع ہونے والی کہانیاں، نظمیں، معلوماتی مضامین اور دلچسپ مواد نے کئی نسلوں کی ذہنی و ادبی تربیت کی۔

 

آخری ایام میں ان کی بیماری نے دوستوں اور چاہنے والوں کو بے حد فکرمند کردیا تھا۔ شاعر قاسم امام کے مطابق رمضان المبارک میں عمرہ کے دوران انہیں برین ہیمریج ہوا، بعد ازاں دل کا آپریشن بھی ہوا، مگر وہ مکمل صحت یاب نہ ہوسکے۔ سانتا کروز کے بینز اسپتال میں ان کی عیادت کے لیے صحافیوں، ادیبوں اور دوستوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ ہر شخص دعاگو تھا، مگر تقدیر کو کچھ اور منظور تھا۔

 

آج جب فاروق سید ہمارے درمیان نہیں رہے تو محسوس ہوتا ہے کہ اردو بچوں کے ادب کا ایک سنہرا باب بند ہوگیا۔ مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ ایسے لوگ مرتے نہیں، اپنی محنت، اخلاص اور خوابوں کی صورت زندہ رہتے ہیں۔ “گل بوٹے” صرف ایک رسالہ نہیں، بلکہ فاروق سید کی زندگی کی روشن تعبیر ہے۔ آنے والی نسلیں جب بھی اردو بچوں کے ادب کی تاریخ پڑھیں گی تو فاروق سید کا نام احترام، محبت اور عقیدت کے ساتھ لیا جائے گا۔

 

وہ واقعی ایک One Man Army Mission تھے۔ ایک ایسا شخص جس نے تن تنہا ایک چراغ جلایا اور پھر پوری زندگی اس چراغ کی حفاظت میں گزار دی۔ آج وہ چراغ بردار تو رخصت ہوگیا مگر اس کی روشنی ابھی باقی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button