جرائم و حادثات

ٹرین میں مسلم خاتون کی تذلیل کا ویڈیو وائرل، ’’سامان کی لی گئی تلاشی ‘‘ — آسام میں ہنگامہ – آسام سے دہلی جانے والی ٹرین میں واقعہ

سلچار: آسام میں ایک مسلم خاتون کو ٹرین کے اندر ہراساں اور رسوا کئے جانے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگیا، جس کے بعد عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے اور ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

 

متاثرہ خاتون کی شناخت شمساد بیگم چودھری کے طور پر ہوئی ہے، جو ہفتہ کے روز سلچر سے دہلی جانے والی ٹرین میں سفر کررہی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ سلچر ریلوے اسٹیشن سے سوار ہوکر دیماپور جارہی تھیں۔

 

ساتھی مسافروں کے مطابق ٹرین کے پنچگرام علاقہ عبور کرنے کے بعد ایک خاتون، جس نے خود کو پولیس افسر کی بیوی بتایا، اپنے ساتھ موجود چند مردوں کے ہمراہ شمساد بیگم کا بیگ چیک کرنے لگی اور ان سے سوالات شروع کردیے۔ سوشل میڈیا پر ویڈیو پوسٹ کرنے والے صارف نے خاتون کی شناخت مدھومیتا رائے مو کے طور پر بتائی ہے، جو خود کو بلاگر قرار دیتی ہیں۔

 

وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گروپ شمساد بیگم سے ان کی جنس کے بارے میں سوالات کررہا ہے اور ان سے خاتون ہونے کا ثبوت مانگ رہا ہے۔ اس دوران ان کے ذاتی سامان اور کھانے پینے کی اشیا کی بھی تلاشی لی گئی۔ گروپ کا دعویٰ تھا کہ انہیں شبہ ہے کہ خاتون کسی غیر قانونی چیز یا بیف کا گوشت کو چھپا رہی ہیں۔

 

ساتھی مسافروں کے مطابق شمساد بیگم سلچر صدر پولیس اسٹیشن حدود کے بدرپار علاقے کی رہنے والی ہیں اور گزشتہ تقریباً دس برسوں سے دیماپور میں درزی کا کام کررہی ہیں۔ ان کے والد محمد علی چودھری ریٹائرڈ پولیس ملازم بتائے جاتے ہیں۔

 

واقعہ کی ویڈیوز منظرعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین اور انسانی حقوق کارکنوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ کئی افراد نے کہا کہ ایک خاتون کو دوران سفر عوامی طور پر ذلیل کرنا، ہراساں کرنا اور اس سے اس طرح پوچھ گچھ کرنا انسانی وقار اور رازداری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

 

ویڈیو پوسٹ کرنے والے صارف نے الزام لگایا کہ مدھومیتا رائے مو نے خاتون کو شدید ذہنی اذیت پہنچائی اور سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے کے لیے کسی کی تذلیل کو جائز نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔

 

کئی مقامی شہریوں نے اس واقعہ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات نہ کی گئیں تو خاص طور پر خواتین خود کو عوامی ٹرانسپورٹ میں غیر محفوظ محسوس کریں گی۔

 

تاہم خبر لکھے جانے تک پولیس کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button