نابالغ لڑکی سے پولیس کانسٹیبل کی خفیہ شادی۔ تلنگانہ کے سوریہ پیٹ میں واقعہ

حیدرآباد: کم عمری کی شادیوں کو روکنے کی ذمہ داری رکھنے والے ایک پولیس کانسٹیبل نے مبینہ طور پر ایک نابالغ لڑکی سے خاموشی سے شادی کر لی۔اس غیر قانونی شادی کی اطلاع ملنے پر اعلیٰ حکام کے احکامات کے مطابق حضور نگر پولیس اسٹیشن میں متعلقہ کانسٹیبل کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
پولیس کے مطابق سوریا پیٹ ضلع کے سیتارام پورم گاؤں سے تعلق رکھنے والا نانی انیل کمار پولیس محکمہ میں کانسٹیبل کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔ وہ اس وقت یادیادری گٹہ ٹریفک پولیس اسٹیشن میں تعینات ہے۔تاہم قانونی معلومات رکھنے کے باوجود اس نے مبینہ طور پر اسی ماہ 9 تاریخ کو اننت گیری منڈل کی ایک نابالغ لڑکی سے خفیہ طور
پر شادی کر لی جب یہ بات بعد میں سامنے آئی تو مقامی سطح پر یہ معاملہ بحث کا موضوع بن گیا۔ اطلاع ملنے پر آئی سی ڈی ایس اور محکمۂ خواتین و اطفال بہبود کے حکام فوری طور پر حرکت میں آئے۔ انہوں نے موقع پر جا کر تحقیقات کیں اور لڑکی کے نابالغ ہونے کی تصدیق کی، جس کے بعد حضور نگر پولیس کو باضابطہ شکایت دی گئی۔
حکام کی شکایت کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پولیس نے کانسٹیبل نانی انیل کمار اور اس شادی میں مدد کرنے والے افراد کے خلاف کم عمر شادیوں کی ممانعت کے قانونکے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔اس کے ساتھ ہی محکمہ جاتی کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
پولیس اس معاملے کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔



