6 یا اس سے زیادہ بچوں والے افراد کے ووٹ حذف کرنے کا انکشاف – اتر پردیش میں ہزاروں نام فہرست سے خارج

لکھنؤ: کیا 6 یا اس سے زیادہ بچوں والے شہریوں کا حقِ رائے دہی ختم کیا جا سکتا ہے؟ اتر پردیش میں انتخابی عمل کے دوران سامنے آئے ایک معاملے نے اس سوال کو جنم دیا ہے۔ نیشنل ہیرالڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق، وارانسی کنٹونمنٹ حلقہ کے 35سالہ سونوگیری کو الیکشن کمیشن کی جانب سے 6 جنوری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پوچھا گیا کہ کیا ان کے 6 بچے ہیں؟ مثبت جواب ملنے پر ان کا نام فائنل ووٹر لسث سے حذف کر دیا گیا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسی بنیاد پر حلقہ کے 20 پولنگ بوتھوں کے دائرے میں ہزاروں ووٹروں کے نام فہرست سے خارج کئے گئے۔ ایسے ووٹروں کو "کیو” زمرے میں رکھا گیا۔
اس کے علاوہ جن ووٹروں کی عمر اور ان کے دادا دادی یا نانا نانی کی عمر میں 40 سال سے کم فرق تھا، یا والدین اور ووٹر کی عمر میں 15 سال سے کم فرق پایا گیا، ان کے نام بھی فہرست سے حذف کئے گئے۔
اتر پردیش کے سابق چیف الیکٹورل آفیسر احمد نور نے اس عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ووٹر نظرثانی کا یہ طریقہ مشتبہ معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بے بنیاد وجوہات کی بنا پر ہزاروں ووٹ حذف کئے گئے ہیں اور اس پورے عمل کو دوبارہ انجام دیا جانا چاہئے۔




