انٹر نیشنل

اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ عصمت ریزی، جنسی زیادتی اور جبری لباس اتارنے کے واقعات۔اقوام متحدہ کی رپورٹ میں چونکا دینے والا انکشاف

Social media photo

نئی دہلی: اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ نے اسرائیل اور اقوام متحدہ کے درمیان ایک بڑا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے فلسطینی قیدیوں کے خلاف جنسی تشدد اور ہراساں کرنے کے متعدد واقعات کیے جس کے بعد اسرائیل نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس کے دفتر سے تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کر دیا۔

 

رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران فلسطینی قیدیوں کے خلاف جنسی تشدد کے 31 تصدیق شدہ واقعات کی نشاندہی کی گئی جن میں عصمت ریزی، عصمت ریزی کی کوشش، پرائیویٹ پارٹس پر تشدد، جبری لباس اتارنے، ذلت آمیز تلاشی اور جنسی ہراسانی شامل ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہت سے معاملات میں مردوں اور لڑکوں کو نشانہ بنایا گیا

 

جب کہ خواتین قیدیوں کو ریپ، جبری برہنہ کرنے اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعات مختلف حراستی مراکز، جیلوں اور تفتیشی مراکز میں پیش آئے۔ رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کچھ صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن بھی شامل ہیں۔

 

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام نے اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کو مناسب رسائی فراہم نہیں کی جس سے بہت سے معاملات میں آزادانہ تحقیقات میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ قیدیوں کے ساتھ جنسی تشدد اور توہین آمیز سلوک کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔

 

رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد اسرائیل نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے کہا کہ ہم اب آپ کے ساتھ کام نہیں کریں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حماس جیسی تنظیموں کی فہرست میں اسرائیلی فوجیوں کو شامل کرنا ناانصافی ہے۔اقوام متحدہ نے اپنے نتائج کا دفاع کیا ہے۔

 

سیکرٹری جنرل کے ترجمان نے واضح طور پر کہا "سیکرٹری جنرل اپنی رپورٹ پر قائم ہیں اور کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔” یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل کو غزہ جنگ اور فلسطینی قیدیوں کے ساتھ اس کے سلوک پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنقید کا سامنا ہے۔

 

اقوام متحدہ کی اس رپورٹ نے ایک بار پھر اسرائیل اور بین الاقوامی اداروں کے درمیان تنازع کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button