مضامین

میرے بچپن کا بازار ڈے

از : ڈاکٹر تبریز حسین تاج حیدرآباد

نارائن پیٹ ٹاؤن کا چہارشنبہ صرف ایک دن نہیں ہوتا تھا، بلکہ پورے علاقے کے لیے ایک چھوٹا سا تہوار ہوتا تھا۔ آج بھی جب ذہن کی دھندلی گلیوں میں وہ مناظر ابھرتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے مٹی کی خوشبو، لوگوں کی چہل پہل اور بازار کی گہما گہمی ایک ساتھ لوٹ آئی ہو۔

 

میرے بچپن میں چہارشنبہ کے دن لگنے والا بازار نارائن پیٹ کی زندگی کا سب سے روشن منظر ہوا کرتا تھا۔ شہر کے اردگرد کے تقریباً بیس بیس کلومیٹر دور دیہاتوں سے لوگ صبح سویرے ہی چل پڑتے تھے۔ کوئی پیدل، کوئی بیل گاڑی پر، تو کوئی سامانِ تجارت کے ساتھ۔ ہر چہرے پر ایک امید ہوتی تھی اور ہر قدم کے ساتھ بازار کی طرف بڑھتی ہوئی خوشی۔

 

اسی دن مدرسہ دینیہ جامع مسجد میں بھی ایک خاص نظم ہوتا تھا۔ چہارشنبہ، یعنی بازار کے دن، دوپہر کے وقت چھٹی کر دی جاتی تھی تاکہ لوگ اپنے ضروری کام نمٹا سکیں اور بازار کی رونقوں سے لطف اندوز ہو سکیں۔ یہ صرف ایک انتظام نہیں تھا بلکہ پورے سماج کی زندگی کے ساتھ جڑا ہوا ایک خوبصورت ربط تھا۔

 

بیڑی مزدوروں کی زندگی بھی اسی بازار سے جڑی ہوئی تھی۔ انہیں ہفتے بھر کی مزدوری منگل کے دن دی جاتی تھی، تاکہ اگلے دن یعنی بازار ڈے پر وہ اپنی ضرورت کی اشیاء خرید سکیں۔ اسی طرح نارائن پیٹ کی مشہور ریشمی ساڑیوں کے بافندوں کو بھی ہفتہ وار محنتانہ منگل کو ہی ملتا تھا، گویا بازار کی تیاری پہلے ہی سے شروع ہو جاتی تھی۔

 

چہارشنبہ کا بازار قدیم گنج کے آس پاس سجتا تھا، جہاں ہر طرف رنگوں اور آوازوں کا سمندر ہوتا تھا۔ مٹی کے برتنوں کی کھنکتی ہوئی آوازیں، کپڑوں کی دکانوں کی چمک، خشک میووں کی خوشبو، سبز ترکاریوں کی تازگی، بیل اور بکریوں کی منڈی—سب کچھ ایک ہی جگہ پر زندگی کا پورا نقشہ بنا دیتا تھا۔ یہاں زرعی ساز و سامان بھی ملتا اور گھریلو ضرورت کی ہر چیز بھی۔

 

بچوں کے لیے یہ بازار کسی جنت سے کم نہ تھا۔ جھولے، کھیل تماشے، اور وہ مشہور ’’تصویر والا ڈبہ‘‘ جس میں آگرہ کا تاج محل اور دہلی کا لال قلعہ دکھایا جاتا تھا، بچوں کو حیرت اور خوشی میں مبتلا کر دیتا تھا۔ بانسری کی دھنیں، گولیئر لٹھو، اور شور مچانے والے گرگرے ہماری دنیا کو مزید رنگین بنا دیتے تھے۔

 

اس دن بازار کسی عام دن کی طرح نہیں بلکہ ایک جشن کی طرح محسوس ہوتا تھا۔ گویا پورا گاؤں کسی تہوار میں ڈوبا ہوا ہو۔ ہر چہرہ خوش، ہر ہاتھ مصروف، اور ہر دل کسی نہ کسی خرید و فروخت یا ملاقات کی خوشی میں سرشار ہوتا تھا۔

 

میرے نانا مرحوم غلام محمود انپور بیل بازار میں چھٹیوں کے کاغذات لکھا کرتے تھے۔ ہم بچے اکثر ان کے پاس جا پہنچتے، اور کچھ پیسے مانگ کر بازار کی رنگینیوں میں کھو جاتے۔ وہ لمحے آج بھی دل کے کسی گوشے میں محفوظ ہیں، جیسے وقت نے انہیں سنبھال کر رکھا ہو۔

 

بازار کے دن ہمارے علاقے ’’نیچے وار‘‘ میں واقع میٹھے پانی کا کنواں بھی خاص اہمیت رکھتا تھا۔ دور دراز سے آنے والے لوگ یہاں آ کر اپنی پیاس بجھاتے تھے۔ ڈول ہمیشہ تیار رکھا جاتا تھا، جیسے خدمت کا ایک خاموش مگر خوبصورت جذبہ وہاں ہمیشہ موجود ہو۔

 

آج وقت بدل گیا ہے، بازار بدل گئے ہیں، مگر وہ چہارشنبہ کا بازار آج بھی یادوں میں ایک روشن چراغ کی طرح جلتا ہے۔ وہ صرف خرید و فروخت کی جگہ نہیں تھا، بلکہ زندگی، تعلق، محنت اور خوشی کا ایک مکمل منظر نامہ تھا جو آج بھی دل کو گرما دیتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button