بولنے سے پہلے تول یہی دانش کی راہ ہے کیا مدارس اسلامیہ دہشت گردی کی فیکٹریاں ہیں؟

تحریر: سید سرفراز احمد
الفاظ انسان کی شخصیت کا آئینہ ہوتے ہیں اور معاشرے کی تعمیر یا تخریب کا ذریعہ بھی۔ ایک ذمہ دار شخص، خصوصاً جب وہ عوامی منصب پر فائز ہو یا رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والی شخصیت ہو، اس کے ہر لفظ کی اپنی اہمیت اور ذمہ داری ہوتی ہے۔ اسی لیے اہلِ دانش نے کہا ہے۔ "بولنے سے پہلے تول، یہی دانش کی راہ ہے۔” یہ صرف ایک شعر نہیں بلکہ مہذب معاشرے کی بنیادی اخلاقی تعلیم ہے۔ عوامی عہدوں پر فائز افراد کے الفاظ محض ذاتی رائے نہیں ہوتے بلکہ ان کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ اسی طرح معروف شخصیات کے بیانات بھی سماجی ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور قومی یکجہتی پر مثبت یا منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ اس لیے جب مذہبی اداروں، مذاہب یا تعلیمی مراکز کے بارے میں کوئی عمومی الزام عائد کیا جائے تو اس کا معیار جذبات نہیں بلکہ دلیل، تحقیق اور انصاف ہونا چاہیے۔
حال ہی میں اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کے ایک بیان اور متنازع مصنفہ تسلیمہ نسرین کے تبصرے نے مدارسِ اسلامیہ کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی۔ بعض حلقوں نے مدارس کو شدت پسندی سے جوڑنے کی کوشش کی، جب کہ دوسرے طبقے نے اس کی سخت مخالفت کی اور اسے لاکھوں طلبہ، اساتذہ اور دینی اداروں کی کردار کشی قرار دیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا چند واقعات، انفرادی جرائم یا مخصوص الزامات کی بنیاد پر ہزاروں مدارس کے بارے میں یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ وہ دہشت گردی کی فیکٹریاں ہیں؟ انصاف کا تقاضا ہے کہ اس سوال کا جواب جذبات سے نہیں بلکہ تاریخ، قانون، اعداد و شمار اور زمینی حقائق کی روشنی میں تلاش کیا جائے۔ مدارسِ اسلامیہ برصغیر کی قدیم ترین تعلیمی روایت کا حصہ ہیں۔ صدیوں سے یہ ادارے قرآن، حدیث، فقہ، عربی زبان، اخلاقیات اور دینی علوم کی تعلیم دیتے آئے ہیں۔ برصغیر میں مختلف ادوار میں مدارس نے صرف مذہبی تعلیم ہی نہیں بلکہ زبان، ادب، ثقافت اور سماجی اصلاح میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ آزادیِ ہند کی جدوجہد میں بھی متعدد علماء اور مدارس سے وابستہ شخصیات نے اہم خدمات انجام دیں۔ بلکہ ہزاروں کی تعداد میں اپنی شہادتیں بھی پیش کیئں۔ اس تاریخی پس منظر کو نظر انداز کرکے مدارس کو صرف ایک مخصوص زاویے سے دیکھنا علمی دیانت کے خلاف ہوگا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندوستان میں مدارس کی اکثریت مقامی مسلمانوں کے چندوں، زکوٰۃ اور عطیات سے چلتی ہے۔ ان میں لاکھوں بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں، جن میں سے بڑی تعداد غریب اور پسماندہ خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے۔ ایسے والدین، جو مہنگے نجی اسکولوں کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے، اپنے بچوں کو دینی تعلیم اور بنیادی اخلاقی تربیت کے لیے مدارس میں داخل کرتے ہیں۔ ان اداروں کا بنیادی مقصد مذہبی تعلیم، کردار سازی اور اخلاقی اقدار کی آبیاری ہے۔
یہ کہنا درست ہوگا کہ دنیا کا کوئی بھی نظام سو فیصد کامل نہیں ہوتا۔ اگر کسی مدرسے، اسکول، کالج یا یونیورسٹی سے وابستہ کوئی فرد قانون شکنی کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ لیکن انصاف کا اصول یہ ہے کہ جرم فرد کا ہوتا ہے، ادارے کا نہیں، جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ ادارہ خود منظم طور پر جرم میں شریک تھا۔ یہی اصول قانون، آئین اور عدالتی نظام کی بنیاد ہے۔ اگر یہی معیار اختیار نہ کیا جائے تو پھر کسی بھی اسکول، کالج، انجینئرنگ ادارے، میڈیکل کالج یا سرکاری دفتر میں کسی فرد کے جرم کی بنیاد پر پورے ادارے کو مجرم قرار دینا بھی درست ماننا پڑے گا، جو انصاف اور منطق دونوں کے خلاف ہے۔
یہ بھی قابلِ غور ہے کہ ہندوستان میں دہشت گردی کے مختلف مقدمات میں مسلمانوں یا مدارس اسلامیہ سے وابستہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ متعدد ایجنسیوں نے جامع تحقیقات بھی کی ہیں۔ کئی مواقع پر گرفتار افراد عدالتوں سے باعزت بری بھی ہوئے اور بعض معاملات میں ثبوت ناکافی ثابت ہوئے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ صرف الزام کو حقیقت نہیں سمجھا جا سکتا۔ قانون میں جرم کا فیصلہ عدالت کرتی ہے، نہ کہ عوامی جذبات یا سیاسی بیانات۔ اسی لیے جب کسی مذہبی تعلیمی ادارے پر عمومی الزام لگایا جائے تو ضروری ہے کہ اس کے حق میں مضبوط، قابلِ تصدیق اور عدالتی طور پر ثابت شدہ شواہد موجود ہوں۔ بصورتِ دیگر ایسے بیانات نہ صرف ایک پوری برادری کو مجروح کرتے ہیں بلکہ معاشرے میں بے اعتمادی اور تقسیم کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ اس مسئلہ پر سنجیدہ سوال کا تقاضا یہ ہے کہ مدارس کو بغیر ثبوت دہشت گردی کا مرکز قرار کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟۔ جب کہ مدارس اسلامیہ اس ملک کا کوئی نیا حصہ نہیں ہے۔ اس کی اپنی ایک الگ تاریخ ہے۔ اور ملک کی ترقی میں ان مدارس اسلامیہ کا جو کردار ہے اس کو ملک کی عوام کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔
ہندوستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو ملک میں ہزاروں مدارس کام کر رہے ہیں۔ ان میں سرکاری بورڈوں سے منظور شدہ مدارس بھی ہیں اور آزادانہ طور پر چلنے والے ادارے بھی۔ لاکھوں طلبہ ان میں زیرِ تعلیم ہیں۔ اگر یہ دعویٰ کیا جائے کہ مدارس دہشت گردی کی "فیکٹریاں” ہیں تو پھر اس کے حق میں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان اداروں کی اکثریت منظم انداز میں تشدد، نفرت یا دہشت گردی کی تعلیم دیتی ہے۔ اب تک ایسا کوئی جامع اور عدالتی طور پر ثابت شدہ ثبوت سامنے نہیں آیا جس کی بنیاد پر پورے نظامِ مدارس کو اس الزام کا مستحق قرار دیا جا سکے۔ پھر کیشو پرساد موریہ کس بناء پر مدارسِ اسلامیہ کو دہشت گردی کے فیکٹری قرار دے رہے ہیں؟ دراصل کیشو پرساد موریہ کا یہ بیان ایسے وقت میں دیا جارہا ہے جہاں رام مندر کے چندہ چوری کا معاملہ طول پکڑتا جارہا ہے۔ اس چندہ چوری معاملہ نے یوپی سرکار کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔ اور بھاجپا بوکھلاہٹ شکار ہے۔ اس لیئے کہ عنقریب یوپی اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں۔ بھاجپا کو اندازہ ہے کہ رام مندر چندہ چوری یوپی میں بھاجپا کا کام مکمل طور پر بگاڑ سکتی ہے۔ ایسے حالات میں مسلمانوں پر برق گرانا لازمی ہوجاتا ہے تاکہ عوام کی توجہ اصل مسئلہ سے ہٹائی جاۓ۔ کیشو پرساد موریہ وہی کام کررہے ہیں۔ مسلمانوں کو چھیڑو اور سماج کو ہندو مسلم میں تقسیم کرو تاکہ لوگ رام مندر کے چندہ چوری کے سوالات پوچھنے کے بجاۓ ہندو مسلم میں مشغول رہے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا دہشت گردی صرف مذہبی تعلیم سے پیدا ہوتی ہے؟ اگر دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے اسباب کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ سیاسی انتہاپسندی، نسلی تعصب، علیحدگی پسندی، شدت پسند قوم پرستی، نظریاتی تشدد، سماجی ناانصافی، بین الاقوامی تنازعات اور نفسیاتی عوامل بھی مختلف دہشت گرد تنظیموں کے پس منظر میں موجود رہے ہیں۔ دنیا میں ایسے متعدد دہشت گرد گروہ بھی رہے ہیں جن کا مذہبی مدارس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد، انجینئر، ڈاکٹر، سائنس دان یا دیگر پیشہ ور افراد بھی بعض اوقات جرائم یا شدت پسند تنظیموں میں شامل پائے گئے ہیں۔ کیا اس بنیاد پر انجینئرنگ کالجوں، میڈیکل کالجوں یا یونیورسٹیوں کو جرائم کی "فیکٹری” کہا جا سکتا ہے؟ یقیناً نہیں۔ انصاف یہی تقاضا کرتا ہے کہ فرد کے جرم کو پورے ادارے پر مسلط نہ کیا جائے۔
خود متعدد دینی ادارے گزشتہ برسوں میں کمپیوٹر، انگریزی، ریاضی، سائنس اور سماجی علوم کو اپنے نصاب میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہاں اگر سرکار مدارسِ اسلامیہ کے ساتھ مل کر مدارس کی بہتری کے لیئے اصلاح کرنا چاہتی ہے تو کوئی مضائقہ نہیں۔لیکن پوری طرح سے مدارس کو بدنام کرنا اور دہشت گردی سے جوڑنا یہ غیر اخلاقی ہی نہیں گھناؤنی حرکت کہلاۓ گی۔ خاص طور پر عوامی عہدوں پر فائز افراد کے بیانات کا اثر عام شہریوں سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی ذمہ دار شخصیت پورے نظامِ مدارس کو دہشت گردی سے جوڑتی ہے تو اس کے نتیجے میں لاکھوں بے گناہ طلبہ، اساتذہ اور ان کے خاندان ذہنی اور سماجی طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس سے معاشرے میں اعتماد کمزور ہوتا ہے اور مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
جمہوریت میں اختلافِ رائے ہر شہری کا حق ہے، لیکن آزادیِ اظہار کے ساتھ ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ عوامی نمائندوں، دانشوروں اور میڈیا کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ ایسے الفاظ سے گریز کریں جو کسی پوری برادری یا تعلیمی نظام کو بلا دلیل مجرم بنا دیں۔ ایسے بیانات نہ صرف سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرتے ہیں بلکہ نوجوانوں میں احساسِ محرومی بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ آج ہندوستان کو ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں اختلافات کے باوجود مکالمہ زندہ رہے، جہاں تنقید تحقیق پر مبنی ہو، جہاں مذہبی آزادی اور قومی سلامتی دونوں کو یکساں اہمیت دی جائے، اور جہاں کسی بھی فرد یا ادارے کے بارے میں فیصلہ عدالت، ثبوت اور قانون کی بنیاد پر ہو، نہ کہ افواہوں، تعصبات یا سیاسی جذبات کی بنیاد پر۔
آخر میں پھر وہی بات یاد رکھنی چاہیے:
"بولنے سے پہلے تول، یہی دانش کی راہ ہے۔”
یہ اصول صرف عام لوگوں کے لیے نہیں بلکہ سیاست دانوں، مصنفین، مذہبی رہنماؤں، صحافیوں اور میڈیا سب پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔ الفاظ دل بھی جوڑ سکتے ہیں اور فاصلے بھی بڑھا سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مدارسِ اسلامیہ یا کسی بھی تعلیمی ادارے کے بارے میں گفتگو کرتے وقت انصاف، توازن اور تحقیق کو بنیاد بنایا جائے۔ ناکہ کسی مخصوص طبقہ کو نشانہ بنایا جاۓ۔
دوسری طرف گستاخ نبیۖ و متنازع شخصیت کی حامل تسلیمہ نسرین جو ان دنوں بنگال کی سرزمین پر قدم رکھ چکی ہے۔ جس نے دعویٰ کیا کہ "بعض مدارس جہادی پیدا کرنے کی فیکٹریاں بن چکے ہیں۔” اور حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ مدارس پر سخت نگرانی اور اصلاحات نافذ کی جائیں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ مدارس کو ختم کرکے ان کی جگہ سیکولر اسکول قائم کیے جائیں، جہاں جدید اور سائنسی تعلیم دی جائے اور مذہبی تعلیم کو ریاستی تعلیمی نظام سے الگ رکھا جائے۔ تسلیمہ نسرین شروع سے ہی اسلام مخالف ذہنیت رکھتی ہیں۔ لہذا اس کی باتوں کو کوئی اہمیت نہ دی جاۓ۔ وہ بالکل ملعون وسیم رضوی عرف تیاگی کی طرح ہے۔ کوئی مسلم نام رکھنے سے تسلیمہ نسرین نہیں بن جاتی۔ بس یہ یاد رکھیں کہ مدارسِ اسلامیہ کو مجموعی طور پر "دہشت گردی کی فیکٹریاں” قرار دینا ایک ایسا دعویٰ ہے جس کے لیے انتہائی مضبوط، جامع اور عدالتی طور پر ثابت شدہ شواہد درکار ہیں۔ ہندوستان کے تناظر میں ایسی عمومی بات ثابت نہیں ہوئی۔ اگر کہیں قانون شکنی ہو یا کوئی بلاوجہ الزام بھی لگاۓ تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے، لیکن کسی فرد یا محدود واقعے کی بنیاد پر ہزاروں اداروں اور لاکھوں طلبہ کو مشتبہ قرار دینا نہ آئینی انصاف سے ہم آہنگ ہے، نہ علمی دیانت سے، اور نہ ہی قومی یکجہتی کے مفاد میں ہے۔ بقول نامعلوم شاعر
بولنے سے پہلے تول، یہی دانش کی راہ ہے
ایک لفظ ہی عزت بھی، ایک لفظ ہی گناہ ہے




