ایجوکیشن

ایم ایس حفظ اکیڈیمی کے معلمین و معلمات کے لیے منعقدہ بیس روزہ جزوقتی قرأت کورس کی تقریبِ تقسیمِ اسناد  

معاشرے کے ہر فرد کو تجوید کے ساتھ قرآن کریم سیکھنا لازمی : قاری محمد نصیرالدین منشاوی

حیدرآباد، 23 جون 2026 ( پریس ریلیز)حیدرآباد کے تاریخی محلے مہدی پٹنم میں واقع ’’مسجد قطب شاہی المعروف چھوٹی مسجد مراد نگر میں تجوید و قرأت امام عاصم کوفیؒ کے بیس روزہ جزوقتی کورس کے پانچویں "علماء و عالمات اسپیشل بیاچ” کے کامیاب انعقاد کے ساتھ ہی ایم ایس ایجوکیشن سوسائٹی کے مرکزی دفتر کے میٹنگ ہال میں بڑے ہی اہتمام واحتشام کے ساتھ جلسہ تقسیم اسناد عمل میں لایا گیا جس میں مہمان خصوصی حضرت حافظ محمد بانعیم (جمعیت علمائے ہند) نے شرکت کی۔

 

اس بیاچ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس کے تمام شرکاء حافظ عالم اور کچھ مفتی بھی تھے اور تمام کے تمام ایم ایس حفظ اکیڈیمی کے معلمین و معلمات ہیں ہندوستان بھرمیں یہ اعزاز صرف ایم ایس حفظ اکیڈیمی کو حاصل ہے کہ جس کے سارے معلمین و معلمات سند یافتہ قاری ہوچکے ہیں اور شرفیہ قرأت اکیڈیمی کے جزوقتی قرأت کورس

 

کے کامیاب بیاچوں کی یہ پانچویں کڑی ہے جس میں خصوصی طور پر ممتاز و ماہراستادِ تجوید و قرأت حافظ قاری ڈاکٹر محمد نصیرالدین منشاوی کی تدریس و تربیت شامل رہی مہمان خصوصی مولانا محمد بانعیم مظاہری (جمعیت علمائے ہند) نے اپنے خطاب میں کہا کہ تجوید و قرأت کے خشک اور دو سال پر مبنی کورس کو صرف بیس دن میں کامیابی کے ساتھ تکمیل کرنا یہ قاری محمد نصیرالدین منشاوی کی فن تجوید و قرأت میں مہارت تحقیق و جستجو اوروالہانہ شوق کا نتیجہ ہے اور انہوں نے اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ ایک عرصے سے حیدرآباد میں مختلف روایتوں سے قرآن پڑھنے کا رجحان تقریباً ختم ہوچکا ہے ایسے میں قرأت امام عاصم کوفی رح کے ذریعہ سبعہ و عشرہ قرأتیں پڑھنے کی راہیں بھی ہموار ہوں گی

 

اسی مقصد کے تحت اس کورس کی بنیاد رکھی گئ جناب محمد لطیف خان (چیرمین ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی) نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایم ایس حفظ اکیڈیمی میں اس سال پانچ سو طلباء و طالبات نے داخلہ لیا ہے اساتذہ کرام پر اب یہ لازم ہے کہ ان کو حافظ قرآن بنانے کے ساتھ ساتھ قاری بنانے کی فکر کریں تاکہ طلباء وطالبات حفظ کی سند کے ساتھ ساتھ قرأت کی سند بھی حاصل کر سکیں ۔

 

اس موقع پر جناب محمد لطیف خان نے بتایا کہ چھوٹی مسجد مراد نگر سے اب تک گزشتہ سال میں تقریباً تین سو طلباء وطالبات استاذ قاری محمد نصیرالدین منشاوی کی نگرانی میں قاری بن چکے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ منشاوی صاحب کا پڑھانے کا انداز نہایت منفرد شیریں اور آسان ہے جس سے طالب علم کے اندر قرآن کریم سے محبت پیدا ہوجاتی ہے۔

 

اس تحریک کے بانی و محرک قاری محمد نصیرالدین منشاوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ عام رجحان یہ ہے کہ جو حافظ ہوتے ہیں عالم ہوتے ہیں یا مفتی ہوتے ہیں وہ خود بخود قاری بھی ہوتے ہیں انہوں نے اس غلط فہمی کا ازالہ کرتے ہوۓ کہا کہ جس طرح ایک حافظ عالم مفتی کا ایک مقررہ کورس ہوتاہے اسی طرح قرأت کا بھی ایک کورس ہوتا ہے اور جس کی طرف عوام تو کجا خواص کی بھی توجہ نہیں ہوتی اس کورس کے مکمل کرنے کے بعد ہی کوئ قاری کہلاتا ہے اور اس فن کی الگ ڈگری ہوتی ہے اور آپ قرآن کریم کی تلاوت کا حق اسی وقت ادا کر سکتے ہیں جبکہ آپ کسی ماہر قاری کو مکمل قرآن سنائیں اس سلسلے میں انہوں اپنے شاگردوں کے علاوہ عوام الناس سی بھی اپیل کی

 

آپ کبھی بھی مجھ سے استفادہ کر سکتے ہیں اور اس استفادے کی کوئ فیس نہیں ہوگی انہوں نے مزید بتایاکہ ان کا مقصد اس فن کو عام کرنا ہے تاکہ ہر گھر میں قرآنِ مجید کو تجوید اور حسن صوت کے ساتھ پڑھا جاۓ اس کورس میں نامور دینی اداروں، دارالعلوم دیوبند، ندوۃ العلماء مظاہر العلوم سہارنپور اور گجرات کے علاوہ دیگر مدارس کے فارغین کی کثیر تعداد شریک رہی ۔

 

علاوہ ازیں حیدرآباد و دیگر ریاستوں کی فارغ عالمات نے بھی جوق در جوق اس کورس سے استفادہ کیا اور امتیازی کامیابی حاصل کرتے ہوے سند قرأت حاصل کی حافظ الھند قاری محمد شعیب شرف الدین کی قرأت کلام پاک سے تقریب کا آغاز ہوا اور مولانا انعام الحق نے نعت شریف پیش کی – امتیازی کامیابی حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کے درمیان جناب محمد بانعیم نے اسناد تقسیم کۓ اور جناب اویس خان نے جلسے کی کامیاب کاروائ چلائ اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button