حیدراباد کی نلسار یونیورسٹی میں چیف جسٹس سوریہ کانت کی مخالفت – 450 سے زائد طلبہ کا کانووکیشن میں نہ بلانے کا مطالبہ – یونیورسٹی انتظامیہ کو لکھا خط

حیدراباد – سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت کو اپنی کانووکیشن تقریب میں بحیثیت مہمانِ خصوصی مدعو کرنے کی تجویز پر نلسار نیشنل اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ (نلسار) کے طلبہ نے اعتراض کیا ہے۔ دہلی میں نیٹ احتجاج کے معاملہ کی سماعت کے دوران سی جے آئی کے تبصروں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے 450 سے زائد طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ انہیں کانووکیشن میں مدعو نہ کیا جائے۔
اگرچہ یونیورسٹی انتظامیہ نے 2026 بیاچ کے کانووکیشن کی تاریخ اور مہمانِ خصوصی کے نام کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، تاہم نلسار میں چیف جسٹس کو کانووکیشن میں مدعو کرنا ایک روایت رہی ہے۔ اسی پس منظر میں طلبہ نے اس بار جسٹس سوریہ کانت کو مدعو نہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک وقت کا کھانا چھوڑ کر احتجاج بھی کیا۔
22 جولائی کو دہلی میں نیٹ احتجاج کرنے والوں کے خلاف پولیس کارروائی پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے سماعت کرنے سے چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ کے انکار کے بعد طلبہ کی ناراضی مزید بڑھ گئی تھی۔ اس دوران چیف جسٹس کے یہ ریمارکس بھی زیرِ بحث آئے تھے کہ ’’ہمیں ویڈیوز میں دلچسپی نہیں ہے، ہمارے پاس انہیں دیکھنے کا وقت نہیں‘‘ اور ’’ہمارا اور آپ کا وقت ضائع نہ کریں‘‘۔ طلبہ کا مطالبہ ہے کہ ان حالات کے پیش نظر جسٹس سوریہ کانت کو نلسار کی کانووکیشن تقریب میں مدعو نہ کیا جائے۔
قومی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق طلبہ نے کہا ہے کہ اگر ان کے مطالبہ کو نظرانداز کیا گیا تو وہ انتظامیہ کو ایک ہفتہ پہلے اطلاع دے کر احتجاج کرنے کے آپشن پر غور کریں گے۔
جسٹس سوریہ کانت کے معاملہ میں کسی تعلیمی ادارے کی جانب سے اعتراض کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ رواں ماہ 2 اگست کو ممبئی کے معروف ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز (TISS) کی 865ویں کانووکیشن تقریب میں جسٹس سوریہ کانت کو مہمانِ خصوصی اور بمبئی ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس رویندر گھوگے کو اعزازی مہمان کی حیثیت سے شرکت کرنا تھا
۔ تاہم خفیہ اداروں کی جانب سے یہ انتباہ ملنے کے بعد کہ معروف شخصیات کی آمد کے خلاف کیمپس میں ایس ایف آئی سے وابستہ طلبہ احتجاج کر سکتے ہیں، تقریب اچانک ملتوی کردی گئی تھی۔ اس واقعہ کے چند ہی دن بعد نلسار یونیورسٹی میں بھی چیف جسٹس کے خلاف طلبہ کے اعتراضات سامنے آنے سے معاملہ موضوعِ بحث بن گیا ہے۔




