جنرل نیوز

تقدیر کو بہانہ بناکر گناہوں سے بری الذمہ نہیں ہوا جاسکتا انسان تقدیر کے رازوں کا نہیں، احکامِ شریعت کا پابند ہے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

تقدیر کو بہانہ بناکر گناہوں سے بری الذمہ نہیں ہوا جاسکتا

انسان تقدیر کے رازوں کا نہیں، احکامِ شریعت کا پابند ہے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

حیدرآباد، 9 اگست:( پریس ریلیز)انسان کی زندگی بظاہر واقعات و حوادث کا ایک طویل سلسلہ ہے؛ کبھی کامیابی کے چراغ روشن ہوتے ہیں اور کبھی ناکامی کے سائے انسان کو گھیر لیتے ہیں، کبھی خوش حالی دروازے پر دستک دیتی ہے اور کبھی مشکلات کے طوفان راستہ روک لیتے ہیں۔ ایسے میں ایک صاحبِ ایمان کا سہارا اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کا علم، اس کی حکمت اور اس کی تقدیر ہے۔ تاہم تقدیر کے عظیم عقیدے کو صحیح طور پر سمجھنا بھی ضروری ہے، کیونکہ جب تقدیر کے مفہوم کو غلط سمجھ لیا جائے تو انسان اپنی کوتاہیوں، گناہوں اور جرائم کے لیے بھی اسے ڈھال بنا لیتا ہے۔ اسلام انسان کو بے عملی، مایوسی اور جبر کا درس نہیں دیتا بلکہ ایمان کے ساتھ عمل، کوشش کے ساتھ توکل اور ذمہ داری کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر اعتماد کی تعلیم دیتا ہے۔

چیئرمین لینگویجز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے آج صدر دفتر بنجارہ ہلز روڈ نمبر 12 پر منعقدہ ’’عوامی مسائل کا حل احکامِ شریعت کی روشنی میں‘‘ پروگرام میں عوام کی جانب سے پیش کئے گئے مختلف دینی و شرعی سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ تقدیر اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے، لیکن تقدیر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے اعمال میں مجبورِ محض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل، شعور، ارادہ اور اختیار عطا فرمایا ہے اور اسی اختیار کی بنیاد پر اسے احکامِ شریعت کا مکلف بنایا ہے۔

انہوں نے حدیثِ مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسان کی تخلیق کے مراحل اور اس کے رزق، عمر، عمل اور سعادت و شقاوت سے متعلق جو مضمون احادیثِ مبارکہ میں وارد ہوا ہے، اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ازلی و ابدی علم سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کو ازل سے معلوم ہے کہ بندہ اپنے اختیار سے کیا کرے گا، لیکن اللہ تعالیٰ کا پہلے سے جان لینا بندے کو اس عمل پر مجبور نہیں کرتا۔

مولانا صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ یہ بنیادی نکتہ ہمیشہ پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ ’’ہم تقدیر کے مکلف نہیں بلکہ احکامِ شریعت کے پابند ہیں۔‘‘ تقدیر کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، جبکہ شریعت کے احکام ہمارے سامنے واضح ہیں۔ ہمیں نماز کا حکم معلوم ہے، روزہ رکھنے کا حکم معلوم ہے، حلال و حرام کا علم دیا گیا ہے، ظلم و زیادتی سے روکا گیا ہے، قتل و غارت، چوری، رشوت، سود، خیانت اور بدکاری کی ممانعت واضح طور پر بیان کردی گئی ہے۔ لہٰذا انسان ان معلوم احکام کا پابند ہے، نہ کہ اس غیبی نوشتۂ تقدیر کا جسے وہ جانتا ہی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض لوگ اپنے گناہوں اور جرائم کو تقدیر کے نام سے منسوب کرکے اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ ’’میری تقدیر میں یہی لکھا تھا‘‘، کوئی ظلم کو تقدیر کا نام دیتا ہے اور کوئی اپنی بے عملی کو قسمت کے کھاتے میں ڈال دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آپ کو اپنی تقدیر کا علم کیسے ہوا؟ کیا آپ نے لوحِ محفوظ کو پڑھ لیا ہے؟ اگر نہیں، تو پھر ایسے غیبی علم کو اپنے گناہ کا جواز بنانا عقل و شرع دونوں کے خلاف ہے۔

 

مولانا نے کہا کہ دنیاوی معاملات میں انسان تقدیر کا سہارا لے کر بیٹھ نہیں جاتا۔ روزگار کے لیے کوشش کرتا ہے، کاروبار کے لیے سرمایہ لگاتا ہے، تعلیم کے لیے محنت کرتا ہے، بیماری میں دوا لیتا ہے، سفر کے لیے سواری اختیار کرتا ہے اور مستقبل بہتر بنانے کے لیے منصوبہ بندی کرتا ہے۔ لیکن افسوس کہ بعض افراد دینی ذمہ داریوں کے معاملے میں نفس کے وسوسوں کا شکار ہوکر تقدیر کو بہانہ بنا لیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو شخص دنیا کے رزق کے لیے جدوجہد کرسکتا ہے، وہ آخرت کے رزق کے لیے بھی جدوجہد کرے۔ دنیا میں کامیابی کے لیے محنت ضروری سمجھی جاتی ہے تو پھر جنت کے حصول کے لیے عمل صالح کیوں ضروری نہ سمجھا جائے؟

قرآنِ کریم انسان کو عمل کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے:

﴿وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ﴾

یعنی انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔

مولانا نے کہا کہ اس آیت میں انسان کے عمل، جدوجہد اور ذمہ داری کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ تقدیر پر ایمان کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کوشش چھوڑ دے، بلکہ مسلمان کوشش کرتا ہے اور نتیجہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہے۔

 

عوام کی جانب سے کئے گئے اہم سوال کہ ’’جب انسان کی عمر پہلے ہی مقدر میں لکھی جاچکی ہے تو خودکشی حرام کیوں ہے؟‘‘ کا جواب دیتے ہوئے مولانا صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ موت کا وقت اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے سے موجود ہونا اور انسان کا اپنی جان کو خود ختم کرنا دو الگ امور ہیں۔

اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ انسان کب دنیا میں آئے گا اور کب دنیا سے جائے گا، لیکن انسان کو یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ اپنی جان خود ختم کردے۔ شریعت نے انسانی جان کو محترم قرار دیا ہے اور خودکشی سے سختی سے منع کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر تقدیر کے غلط مفہوم کو قبول کرلیا جائے تو دنیا کا کوئی مجرم مجرم نہیں رہے گا۔ قاتل کہے گا کہ مقتول کا قتل میری تقدیر میں تھا، چور کہے گا کہ چوری کرنا میرے مقدر میں تھا اور ظالم اپنے ظلم کو بھی تقدیر کا نام دے گا۔ لیکن شریعت نے کسی مجرم کو اس طرح کا جواز فراہم نہیں کیا۔

قاتل کے سامنے حرمتِ قتل کا حکم واضح تھا، چور کے سامنے حرمتِ سرقہ کا حکم واضح تھا اور ظالم کے سامنے ظلم کی قباحت واضح تھی؛ تقدیر کا علم اس کے سامنے نہیں تھا۔ اس لیے وہ اس علم کا حوالہ دے کر شرعی حکم سے فرار اختیار نہیں کرسکتا۔

رزق بھی مقدر، مگر حلال راستہ اختیار کرنا ضروری

مولانا نے رزق کے حوالے سے کہا کہ رزق اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور اس کا اندازہ و تقسیم اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت میں ہے، لیکن بندے کو رزق حاصل کرنے کے لیے حلال ذرائع اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَلَا تَطْغَوْا فِيهِ﴾

یعنی جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں عطا فرمائی ہیں ان میں سے کھاؤ اور حد سے تجاوز نہ کرو۔

اسی طرح قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:

﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ﴾

یعنی ایک دوسرے کے مال آپس میں ناحق نہ کھاؤ۔

مولانا نے کہا کہ رزق مقدر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان حرام راستہ اختیار کرے۔ اگر کوئی شخص سود، رشوت، چوری یا خیانت کے ذریعے مال کماتا ہے تو یہ کہنا کہ ’’رزق تو مقدر تھا‘‘ اس کے گناہ کو جائز نہیں بنا سکتا۔ رزق اللہ کی طرف سے ہے، مگر رزق کمانے کا راستہ انسان کے اختیار اور شریعت کی پابندی کے دائرے میں ہے۔

جبر و قدر کے مسئلے میں اعتدال ضروری

مولانا صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ اسلام نہ انسان کو مکمل خودمختار اور اللہ تعالیٰ کی قدرت سے بے نیاز قرار دیتا ہے اور نہ اسے ایسا مجبورِ محض قرار دیتا ہے کہ اس کے اعمال کی کوئی ذمہ داری ہی نہ ہو۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل، فہم، شعور، ارادہ اور اختیار عطا فرمایا۔ اسے خیر و شر میں امتیاز کی صلاحیت دی، انبیائے کرام علیہم السلام کے ذریعے ہدایت پہنچائی، آسمانی کتابیں نازل فرمائیں اور نیکی و بدی کے انجام سے آگاہ کیا۔ اب انسان جس راستے کا انتخاب کرتا ہے، اسی کے مطابق اسے جواب دہ ہونا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسان کی عزت اور اس کی آزمائش دونوں اس کے اختیار سے وابستہ ہیں۔ اگر انسان بالکل بے اختیار ہوتا تو پھر امر و نہی، ثواب و عذاب اور جزا و سزا کا نظام بے معنی ہوجاتا۔

تقدیر کا غلط تصور معاشرے کے لیے نقصان دہ

مولانا نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں بعض لوگ اپنی ناکامیوں، کوتاہیوں اور سماجی برائیوں کے لیے بھی تقدیر کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ غربت، جہالت، بے روزگاری، ظلم، رشوت، لوٹ کھسوٹ اور دیگر جرائم کے خاتمے کے لیے انسان کو اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ تقدیر کا عقیدہ انسان کو ظلم سہنے یا ظلم کرنے کا لائسنس نہیں دیتا۔ قرآنِ کریم نے مظلوموں کو ظلم کے خلاف دفاع کی اجازت دی اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ﴾

ترجمہ: ’’ان لوگوں کو اجازت دی گئی ہے جن سے ناحق جنگ کی جاتی ہے، اس وجہ سے کہ ان پر ظلم کیا گیا، اور بے شک اللہ ان کی مدد پر قادر ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ مظلوم کو ظلم کے خلاف اپنے جائز حق کے لیے جدوجہد کی اجازت ہے۔ تقدیر کا نام لے کر ظلم کو قبول کرتے رہنا یا ظالم کو ظلم کا جواز فراہم کرنا اسلامی تعلیمات نہیں۔

علامہ اقبالؒ نے تقدیر کا مفہوم نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا

مولانا صابر پاشاہ قادری نے علامہ اقبالؒ کے معروف اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:

تقدیر کے پابند ہیں جمادات و نباتات

مومن فقط احکامِ الٰہی کا ہے پابند

انہوں نے کہا کہ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتا ہے، اپنی ذمہ داری سے فرار اختیار نہیں کرتا، اپنی پوری کوشش کرتا ہے اور پھر نتیجہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرکے مطمئن رہتا ہے۔

تقدیر کا صحیح عقیدہ مایوسی نہیں، توکل پیدا کرتا ہے

مولانا نے کہا کہ تقدیر پر ایمان کا ایک عظیم فائدہ یہ ہے کہ انسان کامیابی پر غرور نہیں کرتا اور ناکامی پر مایوس نہیں ہوتا۔ وہ جانتا ہے کہ اس نے اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کرنی ہے اور نتیجہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔

کامیابی ملے تو شکر، ناکامی آئے تو صبر، آزمائش آئے تو استقامت، نعمت ملے تو تواضع اور مشکل پیش آئے تو اللہ تعالیٰ پر توکل—یہی تقدیر کے صحیح عقیدے کا عملی اثر ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسان کو اپنے نفس کے وسوسوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ دین کے فرائض میں سستی کو تقدیر کا نام دینا، گناہوں کو ماحول کا نتیجہ قرار دینا اور اپنی ذمہ داری دوسروں پر ڈال دینا دراصل نفس کی خود فریبی ہے۔

’’تقدیر کی نہیں، اپنی ذمہ داری کی فکر کیجیے‘‘

مولانا صابر پاشاہ قادری نے عوام کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ تقدیر کے ان رازوں میں نہ الجھیں جن کا علم اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے خاص رکھا ہے؛ ان احکام پر عمل کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے واضح فرمائے ہیں۔

نماز پڑھنی ہے تو نماز پڑھیے، حلال کمانا ہے تو حلال کمائی اختیار کیجیے، حرام سے بچنا ہے تو بچیے، والدین کے حقوق ادا کیجیے، اولاد کی تربیت کیجیے، ظلم سے اجتناب کیجیے، مظلوم کا ساتھ دیجیے، معاشرے کی اصلاح کے لیے اپنا کردار ادا کیجیے اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر توکل رکھیے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں کامیابی کے لیے انسان جس قدر منصوبہ بندی، محنت اور جدوجہد کرتا ہے، اگر اسی جذبے کے ساتھ آخرت کی کامیابی کے لیے بھی نیک اعمال اختیار کرے تو فرد بھی سنور سکتا ہے اور معاشرہ بھی۔

آخر میں مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ تقدیر کا صحیح عقیدہ انسان کو ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے نہیں دیتا بلکہ اسے عمل کی دعوت دیتا ہے۔ تقدیر اللہ تعالیٰ کے علم کا نام ہے، جبکہ ہماری ذمہ داری اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنا ہے۔ لہٰذا تقدیر کو گناہ کا بہانہ بنانے کے بجائے اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت پر ایمان کا ذریعہ بنایا جائے اور اپنی زندگی کو قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ڈھالا جائے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں اپنے اعمال کا حساب دینا ہے، اس لیے اپنے اختیار میں موجود ہر لمحے کو نیکی، اصلاح، خدمت اور اطاعتِ الٰہی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔‘‘

متعلقہ خبریں

Back to top button