نیشنل

گجرات میں "چاندی پورہ” وائرس 23 اموات

نئی دہلی: گجرات میں ’چاندی پورہ‘ وائرس کو لے کر تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ ریاستی محکمۂ صحت کی جانب سے ہفتہ کو جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 30 جون سے 8 اگست تک چاندی پورہ وائرس کے 217 مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔

 

ان میں سے 39 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ تصدیق شدہ کیسز میں 23 مریضوں کی موت درج کی گئی ہے۔ محکمۂ صحت کے مطابق مشتبہ معاملات کے زیادہ تر نمونوں کی لیبارٹری جانچ مکمل ہو چکی ہے۔ 217 میں سے 208 نمونوں کی رپورٹ موصول ہو چکی ہے جبکہ 9 نمونوں کی جانچ رپورٹ آنا باقی ہے۔ریاست میں نگرانی اور جانچ کی مہم تیز کیے جانے کے بعد کیسز کی تعداد میں اضافہ درج کیا گیا ہے۔

 

اس سے قبل 14 جولائی کو محکمۂ صحت نے 27 مشتبہ کیسز کی جانکاری دی تھی۔ اس وقت 7 کیسز میں انفیکشن کی تصدیق ہوئی تھی 12 رپورٹس نگیٹو آئی تھیں اور 8 رپورٹس کا انتظار تھا۔ اس مرحلے میں وائرس سے متاثرہ 3 بچوں کی موت ہوئی تھی۔ اس وبا کے حوالے سے سب سے پہلے پنچ محل ضلع سے معاملہ سامنے آیا تھا، جہاں گودھرا تعلقہ کے 2 گاؤں کے 2 چھوٹے بچوں کی وائرس سے متاثر ہونے کے بعد موت ہو گئی تھی۔

 

ان کیسز کے سامنے آنے کے بعد محکمۂ صحت نے متاثرہ علاقوں میں گھر گھر سروے اور کیڑے مار ادویات کے چھڑکاؤ کی مہم تیز کر دی تھی۔افسران کے مطابق پنچ محل ضلع میں سینکڑوں ہیلتھ ورکرز کی ٹیموں کو لوگوں کی جانچ اور نمونے جمع کرنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔ جولائی کے وسط تک انفیکشن کے مشتبہ کیسز میں مزید اضافہ ہوا اور ریاست کے کئی اضلاع سے کیسز سامنے آنے لگے۔

 

ماہرین کے مطابق ’چاندی پورہ‘ وائرس بنیادی طور پر سینڈ فلائی (ریتیلی مکھی) کے ذریعے پھیلتا ہے اور خاص طور پر بچوں میں شدید انسیفلائٹس سنڈروم کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ بیماری تیزی سے سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے اس لیے وقت پر تشخیص اور علاج انتہائی ضروری سمجھا جاتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ اگست کے پہلے ہفتے میں جاری ہونے والی ایک بریفنگ میں 184 مشتبہ کیسز، 35 تصدیق شدہ کیسز اور 22 اموات کی معلومات دی گئی تھی۔

 

تازہ ترین اعداد و شمار میں مشتبہ اور تصدیق شدہ کیسز کے ساتھ ساتھ مرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ درج کیا گیا ہے۔ محکمۂ صحت نے کہا کہ ریاست بھر میں نگرانی، جانچ اور نمونوں کے ٹیسٹ کا عمل مسلسل جاری ہے۔ اب سب کی نظریں ان 9 زیر التوا رپورٹس پر ہیں

 

جن سے یہ واضح ہوگا کہ مشتبہ کیسز میں مزید کتنے انفیکشن کی تصدیق ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button