ایجوکیشن

اکیڈمک انسپیکشن ٹیموں کی تشکیل میں تاخیر، ٹی ایس پی ٹی اے اور ایس سی/ایس ٹی ٹیچرز یونین کا اعلیٰ حکام سے مداخلت کا مطالبہ

اکیڈمک انسپیکشن ٹیموں کی تشکیل میں تاخیر، ٹی ایس پی ٹی اے اور ایس سی/ایس ٹی ٹیچرز یونین کا اعلیٰ حکام سے مداخلت کا مطالبہ

 

نرمل، 9 اگست(ایم۔اے۔وحید): تلنگانہ اسٹیٹ پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن (TSPTA)، ضلع نرمل اور ایس سی/ایس ٹی ٹیچرز یونین نے ضلع نرمل میں اکیڈمک پینل انسپیکشن ٹیموں کی تشکیل اور فعالیت میں مبینہ تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ضلع کلکٹر نرمل سمیت اعلیٰ عہدیداروں سے فوری تحقیقات اور ضروری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

 

متعلقہ اعلیٰ حکام کو پیش کردہ نمائندگی میں اساتذہ کی تنظیموں نے کہا کہ ڈائریکٹر آف اسکول ایجوکیشن کی واضح ہدایات کے باوجود ضلع نرمل میں اکیڈمک پینل انسپیکشن ٹیموں کی تاحال مناسب طریقے سے تشکیل، اعلامیہ اور فعالیت عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔

 

تنظیموں کے مطابق ان ٹیموں کا مقصد سرکاری اسکولوں میں تعلیمی نگرانی کو مستحکم کرنا، اسکولوں کی کارکردگی کا جائزہ لینا اور اساتذہ و اسکولوں کو تعلیمی رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ طویل عرصے سے ٹیموں کے غیر فعال رہنے سے ضلع میں تعلیمی نگرانی کے نظام پر منفی اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

 

نمائندگی میں کہا گیا کہ اکیڈمک پینل انسپیکشن ٹیموں کے ارکان کی شناخت اور انتخاب کا عمل مبینہ طور پر ضلع سطح پر شروع کرکے مکمل بھی کرلیا گیا تھا۔ اس کے باوجود ٹیموں کو باضابطہ طور پر نوٹیفائی کرکے فعال کیوں نہیں کیا گیا، اس کی وضاحت طلب کی گئی ہے۔ اگر انتخاب کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا ہے تو اس میں تاخیر کی وجوہات کی بھی جانچ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

 

معاملے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ اکیڈمک پینل انسپیکشن ٹیموں کے لیے دو روزہ تربیتی پروگرام 19 اگست 2026 سے شروع ہونے والا ہے۔ تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ٹیموں کی فوری تشکیل اور نوٹیفکیشن عمل میں نہ لایا گیا تو ضلع نرمل کے اہل ارکان مذکورہ تربیتی پروگرام میں شرکت سے محروم ہوسکتے ہیں۔

 

تنظیموں نے ضلع کلکٹر سے مطالبہ کیا کہ متعلقہ ریکارڈ طلب کرکے یہ معلوم کیا جائے کہ محکمہ تعلیم کی ہدایات ضلع حکام کو کب موصول ہوئیں، ان پر کیا کارروائی کی گئی، ارکان کے انتخاب کا عمل مکمل ہوا یا نہیں اور مقررہ طریقہ کار پر عمل کیا گیا یا نہیں۔

 

ساتھ ہی تمام منتخب اور اہل ارکان کو 19 اگست سے شروع ہونے والے تربیتی پروگرام میں شرکت کا موقع فراہم کرنے اور اکیڈمک پینل انسپیکشن ٹیموں کو مزید تاخیر کے بغیر مکمل طور پر فعال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

 

تنظیموں نے اس بات کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا کہ آیا کسی اہل استاد یا عہدیدار کو جائز اور تحریری وجوہات کے بغیر انتخاب کے عمل سے خارج کیا گیا ہے۔ اگر تحقیقات کے دوران غفلت، ضابطے کی خلاف ورزی یا انتظامی کوتاہی ثابت ہوتی ہے تو متعلقہ عہدیداروں کی ذمہ داری طے کرتے ہوئے مروجہ قواعد کے مطابق کارروائی کرنے کی اپیل کی گئی۔

 

یہ نمائندگی شیخ شبیر علی، صدر TSPTA ضلع نرمل؛ ڈاکٹر ساجد معراج، جنرل سکریٹری TSPTA ضلع نرمل؛ بی۔ راجیش نائیک، صدر ایس سی/ایس ٹی ٹیچرز یونین ضلع نرمل؛ اور کرانتی کمار، جنرل سکریٹری ایس سی/ایس ٹی ٹیچرز یونین ضلع نرمل نے پیش کی۔

 

تنظیموں نے ضلع کلکٹر سمیت اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ اس نمائندگی کو باضابطہ انتظامی شکایت کے طور پر قبول کرتے ہوئے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری اسکولوں میں مؤثر تعلیمی نگرانی کے مفاد میں فوری اصلاحی اقدامات کیے جائیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button