ایجوکیشن

خانگی و اقلیتی اسکولوں کو شوکاز نوٹس تعلیمی اداروں میں تشویش کی لہر، نوٹس واپس لینے کا مطالبہ

خانگی و اقلیتی اسکولوں کو شوکاز نوٹس تعلیمی اداروں میں تشویش کی لہر، نوٹس واپس لینے کا مطالبہ

DCEB و اسپورٹس فیس کے حسابات منظرِ عام پر لانے پر زور، ایمس وکومی

آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی (AIMES) اور کانفیڈریشن آف مائنارٹی انسٹی ٹیوشنز (COMI) نے تلنگانہ کے وزیراعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ تسلیم شدہ نجی غیر امدادی اور اقلیتی اسکولوں کو جاری کیے گئے حالیہ شوکاز نوٹسوں کا فوری ازسرِنو جائزہ لیا جائے اور جہاں خامیاں معمولی اور قابلِ اصلاح انتظامی نوعیت کی ہوں، وہاں نوٹس واپس لینے یا مناسب مہلت فراہم کرنے کی ہدایت دی جائے۔ AIMES کے جنرل سکریٹری اور COMI کے صدر ایم ایس فاروق ایڈووکیٹ نے حکومت کو پیش کردہ نمائندگی میں کہا کہ چھوٹے اور بجٹ نجی اسکول پہلے ہی مالی و انتظامی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

 

معمولی انتظامی یا طریقہ کار کی خامیوں پر بار بار نوٹس جاری کرنا اور سخت کارروائی کی دھمکی دینا اسکول انتظامیہ کے لیے غیر ضروری مشکلات پیدا کر سکتا ہے، جس کا اثر بالآخر طلبہ اور اساتذہ پر بھی پڑتا ہے۔AIMES اور COMI نے واضح کیا کہ وہ تعلیمی قوانین اور محکمہ تعلیم کے قواعد کی پابندی کے حامی ہیں، تاہم تسلیم شدہ اداروں کے خلاف کارروائی سے قبل انہیں اپنی خامیوں کی اصلاح کے لیے مناسب موقع دیا جانا چاہیے

 

۔ تنظیموں نے محکمہ تعلیم سے مطالبہ کیا کہ اصلاحی اور سہولت کارانہ طریقہ اختیار کیا جائے اور کسی بھی تادیبی کارروائی سے قبل انصاف اور قانونی طریقہ کے اصولوں کی پابندی کی جائے۔تنظیموں نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ کارروائی کا اصل مرکز ایسے ادارے ہوں جو مناسب اجازت یا Recognition کے بغیر چل رہے ہیں یا اپنی منظور شدہ سطح سے زائد کلاسیں منعقد کر رہے ہیں،

 

خصوصاً حیدرآباد اور سکندرآباد کے جڑواں شہروں میں۔دریں اثنا AIMES اور COMI نے نجی اسکولوں سے وصول کی جانے والی DCEB اور اسپورٹس فیس کے معاملے میں مکمل شفافیت کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیموں نے محکمہ اسکول ایجوکیشن سے کہا ہے کہ اپنی سرکاری ویب سائٹ پر سال وار DCEB اور اسپورٹس فیس کی وصولی کی تفصیلات، فیس ادا کرنے والے اسکولوں کی تعداد، وصولی کی قانونی بنیاد یا متعلقہ G.O.، سال وار اخراجات و استعمال، آڈٹ شدہ حسابات اور غیر استعمال شدہ یا بقایا رقم کی تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی جائیں

 

۔ایم ایس فاروق ایڈووکیٹ نے کہا کہ اگر نجی اسکولوں سے اپنے حسابات آڈٹ کروانے اور مالی تفصیلات محکمہ تعلیم کو فراہم کرنے کا تقاضا کیا جاتا ہے تو حکومت کو بھی نجی اداروں سے وصول کی جانے والی رقوم کے استعمال میں اسی معیار کی شفافیت اختیار کرنی چاہیے۔AIMES اور COMI نے وزیراعلیٰ سے اپیل کی کہ شوکاز نوٹسوں پر فوری نظرِثانی کی جائے، قابلِ اصلاح خامیوں کو دور کرنے کے لیے مناسب وقت دیا جائے

 

اور بغیر قانونی طریقہ کار مکمل کیے کسی بھی اسکول کے خلاف سخت کارروائی سے گریز کیا جائے۔ تنظیموں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اس معاملے میں فوری مداخلت کرتے ہوئے محکمہ اسکول ایجوکیشن کو ضروری ہدایات جاری کرے گی، تاکہ غیر ضروری قانونی تنازعات سے بچتے ہوئے طلبہ کے مفاد میں تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button