جنرل نیوز

تلنگانہ تحریک کاروں کی شناخت کے لیے درخواستیں دیہات میں پہنچ کر وصول کی جائیں

تلنگانہ تحریک کاروں کی شناخت کے لیے درخواستیں دیہات میں پہنچ کر وصول کی جائیں

 

اوٹکور: تلنگانہ ریاست کے قیام کے لیے انتھک جدوجہد کرنے والے حقیقی تلنگانہ تحریک کاروں کی شناخت کرکے انہیں مناسب عزت و احترام اور فلاحی سہولیات فراہم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے کیشو راؤ کمیٹی تشکیل دینا خوش آئند اقدام ہے۔ تاہم کمیٹی کو چاہیے کہ وہ دیہات دیہات کا دورہ کرتے ہوئے تحریک کاروں سے درخواستیں وصول کرے۔ ان خیالات کا اظہار تلنگانہ تحریک کے رہنما و ایوارڈ یافتہ ایچ۔ نرسِمھا کے علاوہ تحریک کے رہنماؤں دورولہ کرشنیا، واکٹی شیوا کمار، سوریہ کانت، چنا نرسِمھا، رمیش اور دیگر نے بجوار میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کیا۔

 

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کے حصول کے لیے گاؤں گاؤں عوام، طلبہ، مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین اور تلنگانہ تحریک کاروں نے مسلسل اور انتھک جدوجہد کی، جس کے نتیجے میں علیحدہ تلنگانہ ریاست کا قیام عمل میں آیا۔

 

انہوں نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ کے پہلے وزیراعلیٰ کے۔ چندرشیکھر راؤ نے تلنگانہ کے شہداء کے خاندانوں اور تحریک کاروں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ان وعدوں کو پورا نہیں کیا گیا اور صرف کے سی آر کے خاندان اور ان کے رشتہ داروں کے خاندان ہی فائدہ اٹھاتے رہے۔

 

انہوں نے کہا کہ 2023 کے انتخابات کے دوران کانگریس حکومت اقتدار میں آنے پر تلنگانہ تحریک کاروں کو خصوصی شناخت، عزت و احترام اور سرکاری سطح پر تعاون فراہم کرنے کا وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے وعدہ کیا تھا۔ اسی سلسلے میں تحریک کاروں کی شناخت اور انہیں مناسب حقوق فراہم کرنے کے لیے کیشو راؤ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس کا وہ خیرمقدم کرتے ہیں۔

 

انہوں نے مطالبہ کیا کہ کیشو راؤ کمیٹی تلنگانہ کے تمام دیہات کا دورہ کرتے ہوئے حقیقی تلنگانہ تحریک کاروں سے درخواستیں وصول کرے۔ انہوں نے بتایا کہ کمیٹی کی جانب سے متحدہ اضلاع کے مراکز میں تلنگانہ کے شہداء کی یادگاروں کے قریب کاؤنٹر قائم کرکے ریاست بھر سے تقریباً 30 ہزار تحریک کاروں کی درخواستیں وصول کرنے کی بات کہی گئی ہے، لیکن دیہی علاقوں میں اس سلسلے میں بہت سے لوگوں کو مناسب معلومات نہیں ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ اگر کمیٹی کے لیے ہر گاؤں میں پہنچ کر درخواستیں وصول کرنا ممکن نہ ہو تو آن لائن درخواستیں داخل کرنے کی سہولت بھی فراہم کی جائے، تاکہ کوئی حقیقی تحریک کار شناخت سے محروم نہ رہے۔

اہم مطالبات

تلنگانہ تحریک کاروں کو خصوصی شناختی کارڈ جاری کیے جائیں۔

ہر تحریک کار کو ماہانہ 20 ہزار روپے پنشن دی جائے۔

تلنگانہ کے شہداء کے خاندانوں میں کم از کم ایک فرد کو سرکاری ملازمت فراہم کی جائے۔

تحریک کاروں کو اندِراما مکانات اور گھر کے پلاٹ فراہم کیے جائیں۔

مجاہدین آزادی کی طرز پر ریاست بھر میں تمام سرکاری بسوں اور ٹرینوں میں مفت سفر کی سہولت فراہم کی جائے۔

تحریک کاروں کی شناخت کا عمل شفاف اور گاؤں کی سطح پر انجام دیا جائے۔

 

رہنماؤں نے کہا کہ اگر کہیں دور بیٹھ کر صرف درخواستوں کی بنیاد پر تلنگانہ تحریک کاروں کی شناخت کی جائے گی تو حقیقی تحریک کاروں کے ساتھ ناانصافی ہونے کا خدشہ ہے۔ اس لیے کیشو راؤ کمیٹی کو چاہیے کہ وہ گاؤں گاؤں پہنچ کر تحریک کاروں کے ریکارڈ اور جدوجہد کی تفصیلات کی جانچ کرے اور حقیقی تلنگانہ تحریک کاروں کو انصاف فراہم کرے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button