مضامین

تاریخ مٹانے سے تاریخ نہیں بدلتی۔اپنی وراثت سے انکار یا سیاسی انتقام؟

 

جاوید جمال الدین

ملک میں عدم رواداری، سیاسی انتقام اور تاریخ کو اپنے اپنے سیاسی مفاد کے مطابق دیکھنے کا رجحان اب کوئی نئی بات نہیں رہی۔ گزشتہ کچھ عرصے سے یہ معاملہ زیادہ نمایاں ہوا ہے اور سیاسی سطح پر یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا موجودہ قیادت اپنی سیاسی کامیابی کو ثابت کرنے کے لیے ماضی کی قیادت اور اس کے تاریخی کردار کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے؟ سوال یہ نہیں ہے کہ ماضی کے حکمرانوں سے غلطیاں نہیں ہوئیں۔ یقیناً ہوئیں اور ان پر تنقید بھی ہونی چاہیے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی اختلاف کی بنیاد پر کسی رہنما کی پوری خدمات کو نظرانداز کیا جاسکتا ہے؟

 

راجیہ سبھا میں عدم رواداری کے موضوع پر ہونے والی بحث کے دوران جنتا دل یونائیٹڈ کے سینئر رہنما کے۔ سی۔ تیاگی نے ایک اہم بات کہی تھی۔ انہوں نے برسراقتدار طبقے سے کہا کہ ملک کی سابق قیادت اور اس کے تاریخی ورثے کو مٹانے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔ ماضی کے رہنماؤں کو سیاسی عینک سے دیکھنے کے بجائے ملک کے لیے ان کی خدمات کو بھی تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ان کا اشارہ موتی لال نہرو، جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی کی طرف تھا۔

 

یہ بات اس لیے اہم ہے کہ ہندوستان کی سیاست میں اب یہ بحث صرف حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نہیں رہی بلکہ تاریخ بھی سیاسی مقابلے کا میدان بنتی جارہی ہے۔ موتی لال نہرو ایک کامیاب وکیل تھے اور ان کی مالی حیثیت بہت مضبوط تھی، لیکن آزادی کی تحریک میں انہوں نے حصہ لیا اور جیل بھی گئے۔ جواہر لال نہرو نے آزادی سے پہلے طویل عرصہ قید میں گزارا اور آزادی کے بعد ملک کے پہلے وزیر اعظم کی حیثیت سے ہندوستان کے سیاسی، معاشی اور خارجی نظام کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

 

ان کے فیصلوں پر تنقید ہونی چاہیے، لیکن ان کے تاریخی کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی شخصیت کی خدمات کا اعتراف کرنا اس کی سیاسی حمایت نہیں ہوتا۔ہندوستان کی تاریخ میں گاندھی، نہرو، پٹیل، امبیڈکر، مولانا ابوالکلام آزاد، سبھاش چندر بوس، بھگت سنگھ، راجندر پرساد، لال بہادر شاستری، جے پرکاش نارائن اور بعد کے ادوار کے کئی رہنماؤں کا حصہ ہے۔ ان میں سے کسی ایک کو بڑا ثابت کرنے کے لیے دوسرے کو چھوٹا کرنا ضروری نہیں۔

 

لیکن گزشتہ کچھ برسوں میں ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ سیاسی تاریخ میں بھی ’’کس کا نام لیا جائے اور کس کا نہیں‘‘ کا سوال اہم ہوگیا ہے۔مہاراشٹر میں قومی اور علاقائی شخصیات کی سرکاری تقریبات سے متعلق فہرستوں پر ماضی میں بھی اعتراضات ہوئے ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد کا نام سرکاری سطح کی ایسی فہرست سے خارج ہونے پر بھی سوال اٹھائے گئے تھے۔ اس معاملے کو صرف ایک نام کے شامل یا خارج ہونے کا معاملہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

 

مولانا آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم تھے۔ وہ آزادی کے مجاہد، صحافی، دانشور اور قومی سیاست کے اہم رہنما تھے۔ ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم اور علمی اداروں کے فروغ میں ان کا اہم کردار رہا۔ 11 نومبر کو ان کی پیدائش کی مناسبت سے قومی یوم تعلیم منایا جاتا ہے۔اس کے باوجود اگر انہیں کسی سیاسی ترجیح یا نظریاتی اختلاف کی بنیاد پر قومی یادداشت میں کم جگہ دی جاتی ہے تو سوال اٹھنا فطری ہے۔

 

مسئلہ صرف مولانا آزاد کا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان کی تاریخ کو سیاسی نظریات کے مطابق دوبارہ ترتیب دیا جائے گا؟مہاراشٹر کی سیاسی تاریخ بھی کئی مسلم رہنماؤں کی خدمات سے بھری ہوئی ہے۔ اے۔ آر۔ انتولے ریاست کے پہلے مسلم وزیر اعلیٰ تھے۔ وہ اپنی بے باکی اور انتظامی انداز کے لیے جانے جاتے تھے۔ سیاسی مخالفین میں بھی بعض لوگ ان کے انتظامی انداز کے معترف تھے۔

 

بال ٹھاکرے اور انتولے کا حوالہ اس لیے اہم ہے کہ دونوں کی سیاست ایک دوسرے سے بہت مختلف تھی، لیکن اس کے باوجود ٹھاکرے انتولے کے بعض سیاسی اور انتظامی اوصاف کی تعریف کرتے تھے۔رفیع احمد قدوائی بھی ایسی شخصیت ہیں جنہیں آزادی کے بعد کے ہندوستان میں ان کی خدمات کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔ شہری رسد کے وزیر کی حیثیت سے انہوں نے اس وقت ذمہ داری سنبھالی جب ملک غذائی بحران سے گزر رہا تھا۔ ان کے بارے میں یہ بات مشہور رہی کہ وزیر ہونے کے باوجود ان کے گھر میں بھی راشن کا وہی اناج پہنچتا تھا جو عام شہریوں کو ملتا تھا۔

 

یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ پہلے سیاسی اختلاف کے باوجود قومی خدمات کا اعتراف کرنے کی روایت موجود تھی۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ روایت ختم نہ ہو۔نہرو کے خلاف سیاسی مہم کئی برسوں سے جاری ہے۔ کشمیر، چین، معاشی پالیسی اور خارجہ پالیسی سمیت کئی معاملات میں ان کے فیصلوں پر تنقید کی جاسکتی ہے۔ لیکن نہرو کو کم کرنے سے سردار پٹیل کی اہمیت کم یا زیادہ نہیں ہوگی۔ پٹیل کا کردار اپنی جگہ ہے اور نہرو کا کردار اپنی جگہ۔

 

نہرو کے دور میں سائنسی اداروں، اعلیٰ تعلیم، صنعتی منصوبہ بندی اور سرکاری شعبے کے کئی اہم ادارے قائم ہوئے۔ غیر وابستہ تحریک میں ہندوستان کی قیادت بھی اسی دور کی ایک اہم خارجہ پالیسی تھی۔ سرد جنگ کے دوران ہندوستان نے امریکہ یا سوویت یونین کے کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے اپنی الگ پوزیشن برقرار رکھنے کی کوشش کی۔

 

اس پالیسی سے اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن اسے تاریخ سے نکالا نہیں جاسکتا۔اندرا گاندھی کے معاملے میں بھی یہی اصول ہونا چاہیے۔1971 کی جنگ اور بنگلہ دیش کے قیام کے دوران اندرا گاندھی کی حکومت نے جو سیاسی اور سفارتی فیصلے کیے، وہ ہندوستان کی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔ اسی دور کے حوالے سے اٹل بہاری واجپئی سے منسوب وہ بیان بھی سیاسی تاریخ میں درج ہے جس میں انہوں نے اندرا گاندھی کو ’’درگا‘‘ کہا تھا۔یہ اس دور کی سیاست کا ایک مختلف پہلو تھا۔ سیاسی مخالف ہونے کے باوجود قومی کامیابی کے موقع پر مخالف رہنما کی تعریف کی گئی لیکن اندرا گاندھی کے سیاسی دور کا دوسرا رخ بھی ہے جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

 

1975 کی ایمرجنسی ہندوستانی جمہوریت کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ سیاسی مخالفین کی گرفتاریاں، پریس پر پابندیاں اور شہری آزادیوں پر قدغنیں ناقابل دفاع ہیں۔ ترکمان گیٹ، جبری نس بندی اور دیگر واقعات پر بھی شدید تنقید ہوئی۔آپریشن بلیو اسٹار اور اس کے بعد کے واقعات نے ملک کو ایک اور سنگین بحران سے دوچار کیا۔ 1984 کے سکھ مخالف فسادات نے ہندوستانی سیاست اور سماج پر گہرا اثر ڈالا۔لہٰذا اندرا گاندھی کی کامیابیوں کا ذکر کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی تمام پالیسیوں کی حمایت کی جائے۔ اسی طرح ان کی غلطیوں کا ذکر کرنے کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ان کی تمام خدمات کو رد کردیا جائے۔

 

1977 کا سیاسی واقعہ موجودہ سیاست کے لیے بھی ایک سبق رکھتا ہے۔ ایمرجنسی کے بعد جنتا پارٹی نے بڑی کامیابی حاصل کی اور اندرا گاندھی اقتدار سے باہر ہوگئیں۔ عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا تھا۔ اس کے بعد جنتا پارٹی کے پاس موقع تھا کہ وہ ملک کو ایک نئے سیاسی دور میں لے جائےلیکن حکومت اندرونی اختلافات میں گھری رہی۔ اقتدار کی کشمکش بڑھی اور اندرا گاندھی کے خلاف کارروائیوں نے انہیں دوبارہ سیاسی میدان میں مظلوم کے طور پر پیش ہونے کا موقع فراہم کیا۔چک منگلور کے ضمنی انتخاب نے انہیں دوبارہ قومی سیاست کے مرکز میں پہنچا دیا اور 1980 میں وہ اقتدار میں واپس آگئیں۔

 

اس واقعے سے ایک واضح سیاسی سبق ملتا ہے کہ عوام جس رہنما کو شکست دے چکے ہوں، اسے غیر ضروری انتقامی کارروائیوں کے ذریعے دوبارہ سیاسی فائدہ نہ دیا جائے۔سیاسی مقابلہ انتخابات میں ہونا چاہیے۔ حکومت اپنی کارکردگی کے ذریعے اپوزیشن کو جواب دے، نہ کہ صرف اس کے ماضی کو کرید کر۔2014 میں بی جے پی کو ملنے والی انتخابی کامیابی ہندوستانی سیاست میں ایک بڑا موڑ تھی۔ اس کے بعد پارٹی نے کئی ریاستوں اور قومی انتخابات میں اپنی سیاسی قوت ثابت کی۔ اس کامیابی نے اسے ملک کی سیاست میں ایک مضبوط پوزیشن دی لیکن بڑی سیاسی طاقت کے ساتھ بڑی ذمہ داری بھی آتی ہے۔

 

حکومت کے لیے دو چیزیں خاص طور پر اہم ہیں: خود ستائی سے بچنا اور انتقامی سیاست کا تاثر پیدا نہ ہونے دینا ہر حکومت اپنے کام کی تشہیر کرتی ہے، یہ فطری بات ہے۔ لیکن جب ہر کامیابی کو صرف ایک شخص، ایک جماعت یا ایک نظریے سے جوڑنے کی کوشش ہونے لگے تو سیاسی مباحث کا دائرہ محدود ہوجاتا ہے۔اسی طرح اگر ہر مخالف کو دشمن تصور کیا جائے اور ہر سابق حکومت کو ملک کی خرابی کا ذمہ دار قرار دیا جائے تو جمہوری سیاست کمزور ہوتی ہے۔مخالف جماعت دشمن نہیں ہوتی۔ وہ اقتدار کا متبادل ہوتی ہے۔اگر حکومت اچھی کارکردگی دکھاتی ہے تو اسے عوام دوبارہ منتخب کریں گے۔ اگر حکومت ناکام ہوتی ہے تو عوام اسے تبدیل کرسکتے ہیں۔ یہی جمہوریت ہے۔

 

حالیہ سیاسی بیانات میں یہ تاثر بھی سامنے آیا ہے کہ اپوزیشن کے بعض رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں سیاسی دباؤ کا حصہ ہیں۔ حکومت کو ایسے تمام معاملات میں شفافیت برقرار رکھنی چاہیے تاکہ اداروں کی کارروائیوں پر سیاسی انتقام کا الزام نہ لگے۔

 

لیکن اپوزیشن کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہیے۔ ہر قانونی کارروائی کو سیاسی انتقام کہنا بھی مناسب نہیں۔ اگر کسی کے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو اسے عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے، پارلیمنٹ میں سوال اٹھایا جاسکتا ہے اور عوام کے سامنے سیاسی جواب دیا جاسکتا ہے۔

 

جمہوریت میں اداروں کا احترام دونوں طرف سے ضروری ہے۔الطاف حسین حالی نے ’’حیات جاوید‘‘ میں یورپی قوموں کے حوالے سے ایک اہم بات نقل کی تھی کہ وہ اپنے وطن کے لیے خدمات انجام دینے والوں کی خدمات کو یاد رکھتی ہیں اور ان کی ذاتی کمزوریوں کو ان کی قومی خدمات پر حاوی نہیں ہونے دیتیں۔ہندوستان کو بھی اس معاملے میں ایک متوازن رویہ اختیار کرنا ہوگا ہم اپنے رہنماؤں کو بت بنا کر پیش نہ کریں لیکن انہیں تاریخ سے مٹائیں بھی نہیں۔

 

نہرو کی غلطیاں بھی پڑھائی جائیں اور ان کی خدمات بھی۔اندرا گاندھی کی ایمرجنسی بھی پڑھائی جائے اور 1971 کی جنگ بھی۔مولانا آزاد کے سیاسی نظریات پر بحث بھی ہو اور ان کی تعلیمی خدمات کو بھی یاد رکھا جائے۔پٹیل اور امبیڈکر کو وہ مقام ملے جس کے وہ مستحق ہیں، لیکن اس کے لیے نہرو کو مٹانے کی ضرورت نہیں۔گاندھی کے سیاسی نظریات سے اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن ان کی قربانیوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ بھگت سنگھ کی جدوجہد اور قربانی کو بھی اسی قومی تاریخ کا حصہ رہنا چاہیے۔یہ ملک کسی ایک خاندان، جماعت یا نظریے نے نہیں بنایا یہ مختلف نظریات، مختلف سیاسی تحریکوں، مختلف طبقوں اور مختلف قوموں کی مشترکہ کوششوں سے بنا ہے‌اسی لیے تاریخ کو سیاسی مقابلے کا ہتھیار بنانا درست نہیں۔

 

آج ضرورت تاریخ کو نئے سرے سے لکھنے سے زیادہ اسے مکمل طور پر پڑھنے کی ہے۔ جو غلط ہوا اسے غلط کہا جائے، جس نے غلط فیصلہ کیا اس پر تنقید ہو، لیکن جو کام اچھا ہوا اسے بھی تسلیم کیا جائے۔ماضی کی حکومتوں کی ناکامیوں کو سامنے لانا موجودہ حکومت کا حق ہے، لیکن اپنی کامیابی ثابت کرنے کے لیے ماضی کے ہر کردار کو ناکام ثابت کرنا سیاسی ضرورت نہیں ہونی چاہیے اقتدار بدلتا رہتا ہے۔ حکومتیں آتی ہیں اور جاتی ہیں۔ سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی ہیں اور اپوزیشن میں چلی جاتی ہیں لیکن ملک باقی رہتا ہے اور تاریخ بھی باقی رہتی ہے آج جو لوگ تاریخ کے صفحات سے کسی کا نام کم کررہے ہیں، انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آنے والی نسلیں ان کے اپنے دور کا بھی اسی معیار سے جائزہ لیں گی اگر آج ایک حکومت نہرو کا نام کم کرتی ہے تو کل کوئی دوسری حکومت موجودہ حکمرانوں کے نام کم کرنے کا جواز تلاش کرسکتی ہے۔ اگر آج تاریخ کو سیاسی انتقام کا ذریعہ بنایا جائے گا تو کل یہی طریقہ کسی اور کے خلاف استعمال ہوگا۔

 

اس لیے سیاسی لڑائی سیاست کے میدان میں لڑی جائے۔ انتخابات میں لڑی جائے۔ پارلیمنٹ میں لڑی جائے۔ عوام کے درمیان لڑی جائے۔تاریخ کو انتقام کا میدان نہ بنایا جائے۔اپنی سیاسی وراثت کو مضبوط کرنے کے لیے دوسروں کی وراثت مٹانے کی ضرورت نہیں۔ہندوستان کو آج نئی تاریخ سے زیادہ ایک متوازن تاریخی شعور کی ضرورت ہے۔ ایسا شعور جو اپنے ہیروز کو یاد رکھے، ان کی غلطیوں سے سبق لے، مخالفین کی خوبیوں کو بھی تسلیم کرے اور قومی تاریخ کو پارٹی کی تاریخ بننے سے روکے۔کیونکہ تاریخ مٹانے سے تاریخ نہیں بدلتی۔صرف تاریخ کے ساتھ ہمارا رویہ بدلتا ہے‌اور اگر ہم نے اپنے ماضی کو سیاسی ضرورت کے مطابق بار بار کھرچنے کی کوشش کی تو آنے والی نسلوں کے پاس ہندوستان کی ایک مکمل تاریخ نہیں بلکہ مختلف سیاسی حکومتوں کے بنائے ہوئے کئی متضاد ہندوستان رہ جائیں گے۔

javedjamaluddin@gmail.com

9867647741

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button