معصوم لڑکے کے ساتھ جنسی زیادتی ۔ حیدرآباد میں مدرسہ کے ٹیچر کو 20 سال قید کی سزا

حیدرآباد: بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی سمت میں ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے نامپلی حیدرآباد کی معزز XII ایڈیشنل سیشن جج نے ایک 11 سالہ معصوم بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کے جرم میں مدرسہ کے استاد کو 20 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی ہے۔
پولیس کے مطابق 23 مارچ 2022ء کومتاثرہ بچے کے والدنے بالا پور پولیس اسٹیشن میں ایک شکایت درج کروائی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ان کا 11 سالہ بیٹا شاہین نگر کے ایک مدرسہ میں باقاعدگی سے پڑھنے جاتا تھا۔ والد نے جب دیکھا کہ ان کے بیٹے نے ایک ہفتے سے مدرسہ جانا بند کر دیا ہے اور وہ شدید ذہنی تناؤ کا شکار لگ رہا ہے
تو انہوں نے بچے سے پوچھ گچھ کی۔ بچے نے انکشاف کیا کہ تقریباً ایک ماہ قبل مدرسہ کے استاد سید ندیم نے اسے زبردستی اپنے گھر لے جا کر اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ ملزم نے بچے کو یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر اس نے یہ بات کسی کو بتائی تو وہ اسے جان سے مار دے گا۔ابتدا میں ایف آئی آر بالا پور پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی
تھی جسے بعد میں چندرائن گٹہ پولیس اسٹیشن منتقل کر کے وہاں دوبارہ رجسٹر کیا گیا اور تحقیقات کے بعد چارج شیٹ داخل کی گئی۔ عدالت میں یہ مقدمہ زیر دوراں تھا۔ معزز جج ارچنا کماری ایم نے ملزم سید ندیم (عمر 22 سال، مدرسہ ٹیچر) کو قصوروار قرار دیتے ہوئے
20 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی اور 10,000 روپے جرمانہ عائد کیا۔



