وقف جائیدادیں خدا کی امانت۔تحفظ ناگزیر۔ صدر ٹی آر ایس کےکویتا کی پریس کانفرنس

بھو لکشمی اسکیم کے تحت ہر غریب خاندان کو ایک ایکڑ اراضی کی فراہمی کا وعدہ
ریاست تلنگانہ میں "ریونت راکشس راج”۔ غریبوں کی اراضیات کو چھیننے کی کوششیں ناقابل برداشت
وقف جائیدادیں خدا کی امانت۔تحفظ ناگزیر۔ صدر ٹی آر ایس کےکویتا کی پریس کانفرنس
حیدرآباد: تلنگانہ رکشنا سینا کی چیف کلواکنٹلہ کویتا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں حقیقی سماجی انصاف اسی وقت ممکن ہے جب ایک مرتبہ پھر بڑے پیمانے پر اراضی کی تقسیم عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اقتدار میں آنے کے بعد غریب خاندانوں کو ’بھولکشمی‘ اسکیم کے تحت فی خاندان ایک ایکڑ زمین فراہم کی جائے گی
۔کویتا نے کہا کہ سماجی انصاف کی تلنگانہ میں اشد ضرورت ہے اور اس کے لئے غریبوں کو زمین فراہم کرنا بنیادی قدم ہے۔ ہماری جانب سے منعقدہ ’سماجی انصاف تلنگانہ سنکلپ سبھا‘ کے بعد ہی حکومت اور چیف منسٹر سماجی انصاف کی بات کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔چیف منسٹر کو سماجی انصاف کی بات کرتے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے، کیونکہ ان کے اقدامات سماجی انصاف کے بجائے جنگل راج کی عکاسی کرتے ہیں۔اگر حکومت واقعی سماجی انصاف کے لئے سنجیدہ ہے تو کابینہ، سرکاری عہدوں اور مختلف اداروں میں پسماندہ طبقات، ایس سی، ایس ٹی اور اقلیتوں کو مناسب نمائندگی کیوں نہیں دی جا رہی ہے؟ پسماندہ طبقات کے لئے حکومت کے بجٹ اور حقیقی اخراجات میں بھی واضح فرق ہے۔
گزشتہ دو برسوں میں تقریباً 5.96 لاکھ کروڑ روپئے کے بجٹ میں پسماندہ طبقات کے لئے صرف تقریباً 5,500 کروڑ روپئے ہی خرچ کئے گئے، جو ان کی آبادی کے لحاظ سے انتہائی ناکافی ہے۔خواتین، بی سی، ایس سی، ایس ٹی اور اقلیتی طبقات کو بھی حکومت میں مناسب نمائندگی اور مساوی مواقع فراہم کئے جانے چاہئیں۔کویتا نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں غریبوں کی زمینیں مختلف منصوبوں اور صنعتی ترقی کے نام پر حاصل کی جا رہی ہیں
اور انہیں بااثر افراد کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ’ریونت راکشس راج‘ (Triple R) چل رہا ہے ۔ چیف منسٹر کے خاندان پر اراضی کے معاملات کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کویتا نےکہا کہ حکومت کو ان معاملات پر وضاحت کرنی چا ہئے۔انہوں نے کہا کہ اندرما دور میں غریبوں کو دی گئی زمینوں کے ساتھ ساتھ اسائنڈ لینڈ بھی محفوظ رہنی چاہئے۔ حکومت نے انتخابات میں جو وعدے کئے تھے، ان کے مطابق اسائنڈ اراضی کے مالکان کو مالکانہ حقوق فراہم کئے جائیں۔
کویتا نے دعویٰ کیا کہ وقارآباد میں صنعتوں کے نام پر بڑی مقدار میں اسائنڈ لینڈ حاصل کی گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غریبوں کی زمینیں چھیننے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور تلنگانہ رکشنا سینا متاثرین کے حق میں بھرپور جدوجہد کرے گی۔سماجی انصاف کے لئے دوبارہ اراضی کی تقسیم ضروری ہے۔ کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ قبائلیوں، غریبوں اور متوسط طبقے کے لئے زمین صرف جائیداد نہیں بلکہ ان کی عزت، روزگار اور مستقبل کا سہارا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست میں سماجی انصاف قائم کرنے کے لئے ایک مرتبہ پھر اراضی کی منصفانہ تقسیم ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس بڑی مقدار میں سرکاری زمین موجود ہے، اس کے علاوہ بھو دان کی زمینیں اور دیگر اراضی بھی موجود ہیں۔ اگر حکومت سنجیدگی سے اقدامات کرے تو غریب خاندانوں کو زمین فراہم کی جا سکتی ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ دھرانی اور بھو بھارتی جیسے اراضی ریکارڈ نظام کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے اور دفعہ 22-A کو بھی اراضی کے معاملات میں غلط طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے
۔کویتا نے تلنگانہ کے دانشوروں اور عوام سے اپیل کی کہ غریبوں کی زمینوں کے تحفظ اور سماجی انصاف کے لئے متحد ہوکر جدوجہد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح تلنگانہ ریاست کے قیام کے لئے عوام نے متحد ہوکر جدوجہد کی تھی، اسی جذبے کے ساتھ سماجی انصاف اور غریبوں کے حقِ ملکیتِ اراضی کے لئے بھی تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اقتدار میں آنے کے بعد ’بھولکشمی‘ اسکیم کے تحت ہر مستحق غریب خاندان کو ایک ایکڑ زمین فراہم کی جائے گی، تاہم کانگریس حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ یہ اقدام ابھی سے شروع کرے۔
کویتا نے کہا کہ وقف اراضیات خدا کی امانت ہیں، ان کا استعمال عبادت گاہوں میں بہتر سہولیات اور عوامی فلاح و بہبود کے لئے ہونا چاہئے۔ افسوس کی بات ہے کہ بعض وقف اراضیات کو کم قیمت پر کرایوں پر فراہم کرکے ان کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے، جس پر فوری توجہ ضروری ہے۔
وقف املاک کا تحفظ کیا جائے۔ تلنگانہ رکشنا سینا وقف اراضیات کے تحفظ اور ان کے صحیح استعمال کے لئے ہمیشہ اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔ کوہ مولا علی کے خادمین کے مسائل کے لئے بھی ہم نے آواز اٹھائی ہے۔ حکومت سے مطالبہ ہے کہ خادمین کوہ مولا علی کے لئے مناسب مکانات فراہم کئے جائیں تاکہ وہ باعزت زندگی گزار سکیں۔



