اب آسام میں ایک سے زیادہ شادی کرنے والے ملازمین کو ملازمت سے نکال دینے کا قانون

آسام میں تعددِ ازدواج پر مزید سختی، ایک سے زیادہ شادیاں کرنے والوں کو سرکاری ملازمت اور فلاحی اسکیموں سے محروم کرنے کی تجویز
آسام حکومت نے کثرت ازدواج (ایک سے زیادہ شادیاں) کے خلاف سخت اقدامات کرتے ہوئے ایک اور اہم فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی بجٹ میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ ایک سے زیادہ شادیاں کرنے والے افراد کو سرکاری فلاحی اسکیموں کا فائدہ نہیں دیا جائے گا، جبکہ اگر کوئی سرکاری ملازم اس عمل میں ملوث پایا گیا تو اسے ملازمت سے بھی برطرف کیا جائے گا۔
مالی سال 2026-27 کا مکمل بجٹ جمعہ کو آسام اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے وزیر فینانس جینت ملا باروا نے کہا کہ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے اور صنفی مساوات کو فروغ دینے کے لیے یہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کثرت ازدواج اختیار کرنے والا کوئی بھی سرکاری ملازم، خواہ کسی بھی عہدے پر ہو، ملازمت میں برقرار نہیں رہے گا۔ ایسے افراد سرکاری فلاحی اسکیموں کے بھی اہل نہیں ہوں گے۔
وزیر فینانس نے مزید اعلان کیا کہ کسی بھی فوجداری قانون کے تحت سزا یافتہ افراد کو بھی سرکاری فلاحی اسکیموں سے محروم رکھنے کی تجویز بجٹ میں شامل کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ آسام اسمبلی نے گزشتہ سال نومبر میں تعددِ ازدواج پر پابندی سے متعلق ایک اہم بل منظور کیا تھا۔ اس قانون کے مطابق اگر کوئی شادی شدہ شخص پہلی بیوی کو طلاق دیے بغیر یا اس کی زندگی میں دوسری شادی کرتا ہے تو اسے مجرم قرار دیا جائے گا۔ ایسے مقدمات میں سات سال تک سخت قید کی سزا کی تجویز رکھی گئی ہے۔ چیف منسٹر ہمنتا بسوا سرما نے اس وقت کہا تھا کہ یہ قانون چھٹے شیڈول کے تحت آنے والے علاقوں کے علاوہ پورے آسام میں نافذ ہوگا۔



