نیشنل

مدھیہ پردیش کی بھوج شالا-کمال مولا مسجد معاملہ میں جمعہ کو دو گھنٹے نماز کی اجازت – سپریم کورٹ کا فیصلہ

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش کے دھار میں واقع بھوج شالا-کمال مولا مسجد کمپلیکس سے متعلق مقدمہ میں مسلم فریق کو محدود عبوری راحت فراہم کی ہے۔ عدالت نے منگل کو حکم دیا کہ مقدمہ کے حتمی فیصلہ تک مسلمانوں کو ہر جمعہ دوپہر ایک بجے سے تین بجے تک متنازعہ مقام کے قریب واقع کھلی جگہ پر نماز ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔

 

چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ یہ عبوری انتظام دونوں فریقوں کے حقوق پر اثر انداز ہوئے بغیر کیا جا رہا ہے اور مقدمہ کے حتمی فیصلے کے تابع ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے 15 مئی کے فیصلے کے بعد آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی جانب سے کمپلیکس میں کی جانے والی کسی بھی تبدیلی پر سپریم کورٹ کی اجازت کے بغیر عمل نہ کیا جائے۔

 

یہ معاملہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے 15 مئی کے اس فیصلے سے متعلق ہے، جس میں بھوج شالا-کمال مولا مسجد کمپلیکس کے متنازع حصے کو دیوی سرسوتی کے مندر والی بھوج شالا قرار دیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ نے اے ایس آئی کے 2003 کے اس حکم کو بھی منسوخ کر دیا تھا جس کے تحت مسلمانوں کو وہاں نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی، اور کہا تھا کہ مسلم فریق مسجد کی تعمیر کے لئے متبادل جگہ کے لیے حکومت سے رجوع کر سکتا ہے۔

 

اس فیصلہ کے خلاف قاضی معین الدین نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ ان کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ حذیفہ احمدی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ہائی کورٹ نے متنازع حقائق کا مکمل جائزہ لئے بغیر فیصلہ دیا اور کئی دہائیوں سے جاری نماز کی اجازت کو اچانک ختم کر دیا، جو درست نہیں ہے۔

 

سینئر ایڈوکیٹ اے ایم سنگھوی نے بھی کہا کہ اگر ہر تاریخی دعوے کی بنیاد پر مذہبی مقامات کی حیثیت تبدیل کی جانے لگی تو ملک میں بڑے مسائل پیدا ہوں گے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ایودھیا کیس کا فیصلہ صرف اسی معاملے تک محدود تھا اور اسے دیگر مقدمات پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے عبادت گاہوں سے متعلق 1991 کے قانون اور آئین میں اخوت اور سیکولرزم کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

 

سولیسٹر جنرل تشار مہتا نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد نافذ کیے گئے انتظامات کو برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مسلم فریق دو ماہ بعد سپریم کورٹ آیا ہے، اس دوران کئی انتظامی تبدیلیاں ہو چکی ہیں، اس لئے پرانی صورت حال بحال کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

 

مسلم فریق کی وکیل سینئر ایڈوکیٹ میناکشی اروڑا نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے دونوں برادریوں کے درمیان باہمی اتفاق رائے کے تحت یہ مقام استعمال ہوتا رہا ہے اور جب سول کورٹ میں مقدمہ زیر سماعت تھا تو ہائی کورٹ کو اس معاملے میں فیصلہ نہیں دینا چاہیے تھا۔

 

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے دریافت کیا کہ آیا متنازعہ مقام کے قریب کوئی ایسی جگہ موجود ہے جہاں مسلمانوں کو نماز کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ اس پر دونوں فریقوں نے اس تجویز پر اتفاق کیا، جس کے بعد عدالت نے عبوری طور پر ہر جمعہ دوپہر ایک سے تین بجے تک قریب کی کھلی جگہ پر نماز ادا کرنے کی اجازت دے دی۔

 

سماعت کے دوران بھوج شالا سے برطانوی دور میں لندن لے جائی گئی دیوی سرسوتی کی مورتی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ وہ ایسا کوئی حکم نہیں دے گی جس سے یہ تاثر ملے کہ مرکزی حکومت لندن سے مورتی واپس لانے کی پابند ہے۔ جسٹس جوئے مالیا باغچی نے کہا کہ آئینی عدالت کو ایسی کوئی رائے نہیں دینی چاہیے جسے بیرون ملک موجود نوآبادیاتی دور کے تمام تاریخی نوادرات واپس لانے کی ہدایت سمجھا جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button