تلنگانہ

تلنگانہ کے 14 اضلاع میں لڑکوں کے مقابل لڑکیوں کی پیدائش کی شرح میں کمی

File photo

حیدرآباد: ریاست تلنگانہ کے 14 اضلاع میں لڑکیوں کی پیدائش کی شرح میں کمی درج کی گئی ہے۔ سیول رجسٹریشن سسٹم کے 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق ریاست کے 33 اضلاع میں سے 14 اضلاع ایسے ہیں جہاں ہر ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں 900 سے بھی کم لڑکیاں پیدا ہوئیں۔

 

رپورٹ کے مطابق نلگنڈہ میں سب سے کم شرح ریکارڈ کی گئی جہاں ہر ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں صرف 787 لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ دوسری جانب کاماریڈی واحد ضلع رہا جہاں لڑکیوں کی پیدائش لڑکوں سے زیادہ رہی اور وہاں پیدائش کے وقت صنفی تناسب 1,060 ریکارڈ کیا گیا۔

 

اس کے علاوہ ملوگو، سدی پیٹ، حیدرآباد، وقارآباد، نارائن پیٹ، پداپلی، نظام آباد اور جنگاؤں جیسے اضلاع میں صنفی تناسب ریاستی اوسط 910 سے زیادہ تھا۔

 

کم شرح والے دیگر اضلاع میں محبوب آباد، ناگرکرنول، ونپرتی، ورنگل، یادادری بھونگیری، راجنہ سرسلہ، محبوب نگر، سوریہ پیٹ، جوگولامبا گدوال، کریم نگر، رنگا ریڈی، کھمم اور میڈچل-ملکاجگیری شامل ہیں۔

 

نلگنڈہ کی صورتِ حال اس لیے بھی قابلِ توجہ ہے کہ مجموعی صنفی تناسب کے لحاظ سے ضلع کی کارکردگی پہلے بہتر رہی ہے۔ 2001 میں وہاں مجموعی صنفی تناسب 966 تھا، جو 2011 میں بڑھ کر 983 ہو گیا، تاہم اسی دوران بچوں کے صنفی تناسب میں کمی آ کر 923 رہ گئی تھی۔

 

رپورٹ کے مطابق نلگنڈہ میں بچیوں کے خلاف جرائم کی ایک تشویشناک تاریخ بھی موجود ہے۔ رکشیتا نامی بچوں کے تحفظ کی کمیٹی کے 2017 کے سروے میں چار برس کے دوران نوزائیدہ بچیوں کے قتل کے 14 واقعات درج کیے گئے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button