نظام آباد میں غیر قانونی طور پر 9 دیسی ساختہ بندوقیں رکھنے پر 10 افراد گرفتار

غیر قانونی طور پر 9 دیسی ساختہ بندوقیں رکھنے پر 10 افراد گرفتار
نظام آباد ضلع میں 2 چیتوں کی ہلاکتوں پر کامیاب تحقیقات، پولیس کمشنر پی چیتنیا کی پریس کانفرنس

نظام آباد: 16/جولائی (اردو لیکس) تلنگانہ کے نظام آباد پولیس کمشنر نظام آباد سائی چیتنیا نے بتایا کہ آج صبح کے اولین ساعتوں میں نظام آباد ضلع کے بھیمگل حدود میں واقع دیو کا پیٹ گاؤں کے حدود میں سی سی ایس پولیس اور بھیمگل پولیس کی تلاشی مہم کے دوران مشتبہ افراد کے نظر آنے پر انہیں حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی اور 10 افراد کو گرفتار کر تے ہوئے ان کے قبضے سے 9 دیسی ساختہ بندوقیں برامد وہ ضبط کی گئیں
۔پولیس کمشنر سائی چیتنیا نے آج پولیس کمشنریٹ کانفرنس ہال میں ضلع فارسٹ آفیسر اور آرمور اے سی پی وینکیٹیشور ریڈی، سی سی ایس اے سی پی شری سیلم، کے ہمراہ صحافتی کانفرنس سے مخاطب تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ضبط کی گئی بندوقیں کے کوئی لائسنس نہیں تھے اور نہ ہی کوئی ڈاکومنٹس جس کے پیشِ نظر ان 10ملزمین کے خلاف آرمڈ ایکٹ کے تحت کیس کیا گیا
۔ پولیس کمشنر سائی چیتنیا نے بتایا کہ 10 ملزمین رگھوپتی، انجینا، مداوت تروپتی، بوکیا چندر، گنگا نرسیا، لمبادری، ملاوت کومبھا، بناوت گنگا ریڈی، ملاوت داری سنگھ، اور اکنور راجو گرفتار ملزمین میں شامل ہے۔ اسی نظام آباد ضلع کے دو الگ الگ مقامات آرمور ڈویژن کے حدود میں بھیمگل منڈل کے کارے پلی میں ایک چیتا کو کچھ افراد ہلاک کرنے کی ملی اطلاع کمر پلی رینج افیسر انیتا اپنی اہل کاروں کی ہمراہ جائے وقوف پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا اور تحقیقات کا آغاز کر دیا
اسی طرح نظام آباد ڈویژن میں ایک اور چیتا کے شکار کیے جانے کے سلسلے میں محکمہ میں جنگلات کی عہدیداروں نے کامیابی کے ساتھ سراغ لگایا اندلوائی جنگلات کی حدود میں انسان پلی بیٹ کمپارٹمنٹ نمبر 416 میں تقریبا تین تا پانچ مہینے قبل چیتا کے ہلاک کیے جانے کا واقعہ پیش آیا تھا
جس کے دانت اور ناخن بھی دستیاب ہوئے شکاریوں نے چیتا کو مار کر اس کی نعش کو درپلی گاؤں کے ایک آم کے باغ میں لے جا کر اس کی کھال بھی نکال لی اس کے جسم کو ایک باولی میں پھینک دیا تھا پولیس کمشنر سائی چیتنیا نے عوام الناس سے کہا کہ جہاں کہیں بھی ایسے واقعات پیش آرہے ہیں پولیس کو اطلاع دیں
۔ اس پریس کانفرنس میں ڈی سی پی شبم، سی سی ایس انسپکٹر سائی ناتھ، سریش، ستیہ نارائن گوڑ، تروپتی و محکمہ جنگلات کے عہدیداران موجود تھے۔



