آدھی رات کو برہنہ حالت میں سڑکوں پر گھومتی رہی خاتون پھر تالاب سے ملی نعش۔ حیدرآباد میں پراسرار واقعہ

حیدرآباد: تلنگانہ کے ضلع میڑچل-ملکاجگیری کے میڈی پلی پولیس اسٹیشن حدود میں واقع پیرزادی گوڑہ کے شنکر نگر علاقے میں 25 سالہ خاتون کی مشتبہ موت نے سنسنی پھیلا دی۔اطلاعات کے مطابق خاتون آدھی رات کے بعد برہنہ حالت میں گلیوں میں دوڑتی ہوئی دیکھی گئی۔
بعد ازاں مبینہ طور پر وہ ایک قریبی مندر گئی اور وہاں سے دیوی کا مجسمہ اور ایک ساڑی اپنے ساتھ لے گئی۔ کچھ ہی دیر بعد اس کی نعش قریب واقع پیرزادہ گوڑہ تالاب سے برآمد ہوئی۔پولیس اور مقامی افراد کے مطابق متوفیہ کی شناخت تیجسونی (25) سال کے طور پر ہوئی ہے جو آندھرا پردیش کے ضلع وجیانگرم کے دیوپلی گاؤں کی رہنے والی تھی۔
وہ اپنی ماں ارونا کے ساتھ پیرزادہی گوڑہ کے شنکر نگر میں کرائے کے مکان میں رہ رہی تھی۔ اس کا باپ وشاکھا اسٹیل پلانٹ میں ملازم ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تیجسونی ماضی میں بنگلورو میں سافٹ ویئر شعبے میں ملازمت کر چکی تھی۔
اطلاعات کے مطابق ماں اور بیٹی گزشتہ کچھ عرصے سے ایک ایپ کے ذریعے مختلف کرائے کے گھروں میں رہائش اختیار کر رہی تھیں۔ پہلے وہ کاپرا تالاب کے قریب رہتی تھیں بعد میں شنکر نگر منتقل ہو گئیں۔
جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب تقریباً 2:30 بجے تیجسونی نے مبینہ طور پر اپنی ماں کو گھر کے اندر چھوڑ کر باہر سے دروازے پر تالا لگا دیا اور برہنہ حالت میں سڑکوں پر دوڑنے لگی۔ بعد ازاں وہ ایک قریبی مندر پہنچی جہاں سے دیوی کا مجسمہ اور ساڑی لے گئی۔
یہ تمام مناظر قریبی سی سی ٹی وی کیمروں میں ریکارڈ ہوئے ہیں۔کچھ دیر بعد مقامی افراد نے پیرزادہ گوڑہ تالاب میں تیجسونی کی نعش دیکھی اور پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس کو شبہ ہے کہ مندر سے لے جایا گیا مجسمہ تالاب میں پھینکا گیا ہے جس کی تلاش کے لیے ڈی آر ایف ٹیموں کی مدد سے سرچ آپریشن جاری ہے۔
متوفیہ کی ماں ارونا نے پولیس کو بتایا کہ گزشتہ چھ ماہ سے انہیں اور ان کی بیٹی کو مسلسل ڈراؤنے خواب آ رہے تھے جن میں خون نظر آنے کا احساس ہوتا تھا۔پولیس اس بات کی مختلف زاویوں سے تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا
خاتون کی موت کے پیچھے ذہنی صحت سے متعلق کوئی مسئلہ تھا یا کوئی اور وجہ۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ، سی سی ٹی وی فوٹیج، عینی شاہدین کے بیانات اور دیگر تکنیکی شواہد کی بنیاد پر تحقیقات جاری ہیں۔



