جنرل نیوز

پروفیسر سرور ساجد کے اعزاز میں شعبۂ اردو، رانچی یونیورسٹی میں تہنیتی نشست کا انعقاد

پروفیسر سرور ساجد کے اعزاز میں شعبۂ اردو، رانچی یونیورسٹی میں تہنیتی نشست کا انعقاد

 

رانچی، 18 جولائی 2026: یونیورسٹی شعبۂ اردو، رانچی یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام شعبے کے سابق استاد اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پروفیسر کے عہدے پر تقرری پانے والے معروف شاعر و نقاد پروفیسر سرور ساجد کے اعزاز میں یونیورسٹی ڈپارٹمنٹل سیمینار ہال میں ایک پروقار تہنیتی اور اعزازی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کی صدارت شعبۂ اردو کے صدر ڈاکٹر محمد رضوان علی نے کی۔

 

اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر محمد رضوان علی نے کہا کہ پروفیسر سرور ساجد رانچی کی مٹی کی پیداوار اور رانچی یونیورسٹی کے قابلِ فخر سپوت ہیں کہ جن کو اس شعبہ نے جنم دیا۔ اور تب انھوں نےاپنی علمی و ادبی صلاحیتوں کے بل پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسے عالمی شہرت یافتہ ادارے میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ڈاکٹر رضوان علی نے پروفیسر سرور ساجد کو پروفیسر کے عہدے پر فائز ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صدیق مجیدی، وہاب دانش، پرکاش فکری اور اظفر جمیل کی ادبی روایت کو اپنے شعری سفر میں آگے بڑھایا ہے۔

 

ڈاکٹر رضوان علی نے کہا کہ اگرچہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مقابلے میں رانچی یونیورسٹی کے وسائل محدود ہیں، تاہم یہاں کے طلبہ کو کسی احساسِ کمتری کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ جھارکھنڈ قدرتی حسن، معدنی وسائل اور انسانی صلاحیتوں سے مالا مال خطہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح سونم وانگ چک نے محروم اور پسماندہ طبقے کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرکے انہیں کامیاب بنایا، اسی طرح رانچی یونیورسٹی بھی دیہی اور مضافاتی علاقوں کے طلبہ کو تعلیم کے ذریعے باصلاحیت اور خوداعتماد بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

 

اس موقع پر پروفیسر سرور ساجد کو بہ کثرت کی گل پوشی کی گئی اور انہیں گلدستے کے یادگار نزرانے پیش کرکے تہنیت پیش کی گئی۔

 

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شعبۂ اردو کے سابق صدر ڈاکٹر شکیل احمد نے ماضی کی علمی و ادبی یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ سرور ساجد اپنے زمانۂ طالب علمی ہی سے علمی سنجیدگی اور ادبی ذوق کے باعث اساتذہ کے درمیان ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔اور علم العروض کے اچھے جانکار بھی تھے۔

 

شعبۂ اردو کے دوسرے سابق صدر پروفیسر سید اسلم ارشد نے کہا کہ پروفیسر سرور ساجد ایک ایسے ادارے میں پروفیسر مقرر ہوئے ہیں جو عالمی سطح پر اپنی علمی روایت کے لیے معروف ہے۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تاریخی و تہذیبی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔اور ترانہ علی گڑھ کے حوالے سے خوبصورت گفتگو کی۔

 

ڈاکٹر غالب نشتر نے پروفیسر سرور ساجد کی تصانیف اور ادبی خدمات کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے ان کے علمی و ادبی سفر کا خاکہ پیش کیا، جبکہ ڈاکٹر اعجاز احمد نے کہا کہ سرور ساجد جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے اہم شعرا میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی شاعری فکری گہرائی اور عصری شعور کی آئینہ دار ہے۔

 

تقریب میں ڈاکٹر اشرف (مولانا ابوالکلام آزاد کالج)، ڈاکٹر محمد اقبال انصاری (آر ٹی سی کالج) سمیت متعدد اساتذۂ کرام نے شرکت کی۔

 

نشست کی نظامت ڈاکٹر محمد دانش اور شمس الحق نے مشترکہ طور پر انجام دی، جبکہ اظہارِ تشکر کے فرائض ڈاکٹر محمد اقبال نے ادا کیے۔

 

اس تقریب میں بڑی تعداد میں ریسرچ اسکالرز اور طلبہ بھی شریک ہوئے۔ڈاکٹر وارث جمال نے بہت ہی خوبصورت انداز میں تلاوت قران پیش کیا۔مولانا کلیم اشرف نے حمد باری پیش کیا۔شمس الحق، انتخاب علی، نوری فردوس، حنا کوثر، گلناز پروین، محمد کلام، مشتری بیگم، شبانہ خاتون اور سینکڑوں کی تعداد میں طلبہ و طالبات نے اس اعزازی پروگرام میں شرکت کی۔

 

تقریب خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی اور شرکاء نے پروفیسر سرور ساجد کی علمی و ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button