ٹمریز جونیر کالجس سے ڈی ای او کی پوسٹ ختم کرنے کا فیصلہ غیر دانشمندانہ – ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین محمد صہیب، محمد اشواق اور دستگیر احمد کی پریس کانفرنس

ٹمریز جونیر کالجس سے ڈی ای او کی پوسٹ ختم کرنے کا فیصلہ غیر دانشمندانہ
ڈپٹی وارڈن پر کام کا بوجھ بڑھنے سے مسائل پیدا ہوں گے
روزگار کی فراہمی کے بجائے بے روزگار کرنے کی پالیسی قابل مذمت
ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین محمد صہیب، محمد اشواق اور دستگیر احمد کی پریس کانفرنس

ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین محمد صہیب، محمد اشواق اور دستگیر احمد نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقلیتی اقامتی تعلیمی اداروں بالخصوص ٹمریز (TGMREIS) کے تحت چلنے والے جونیئر کالجوں سے متعلق حکومت کے حالیہ فیصلہ پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ٹی آر ایس قائدین نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ سرکلر کے تحت علیحدہ کیمپس میں چلنے والے جونیئر کالجوں سے ڈیٹا انٹری آپریٹر (DEO) کی پوسٹ ختم کر دی گئی ہے اور اس کی ذمہ داریاں ڈپٹی وارڈن پر ڈال دی گئی ہیں، جو کہ ایک غیر دانشمندانہ اور ناقابلِ عمل فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ علیحدہ کیمپس میں انتظامی امور پہلے ہی پیچیدہ ہوتے ہیں
، ایسے میں اسٹاف میں کمی کرنا تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ وارڈن اور ڈپٹی وارڈن کی ذمہ داریاں نہایت اہم اور حساس نوعیت کی ہوتی ہیں، جن میں طلبہ کی نگرانی، ہاسٹل کا نظم و نسق، ڈسپلن برقرار رکھنا، طلبہ کے روزمرہ مسائل کو حل کرنا اور خاص طور پر طلبہ کو فراہم کی جانے والی غذا کے معیار کی نگرانی شامل ہے۔ ایسے میں ان پر اضافی طور پر ڈیٹا انٹری جیسے تکنیکی اور دفتری کام کا بوجھ ڈالنا نہ صرف غیر عملی ہے بلکہ طلبہ کی فلاح و بہبود کو بھی متاثر کرے گا۔
ٹی آر ایس قائدین نے حکومت کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ علیحدہ کیمپس میں “کام کا بوجھ کم” ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ علیحدہ کیمپس میں کام کا دائرہ وسیع اور زیادہ ذمہ داریوں پر مشتمل ہوتا ہے، جسے ایک ہی فرد کے ذریعے سنبھالنا ممکن نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلہ کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جن ملازمین (DEO) کو اس پالیسی کے تحت ہٹایا جا رہا ہے، ان کے مستقبل کا کوئی واضح لائحہ عمل نہیں دیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کام کے بوجھ میں کمی کا بہانہ بنا کر ان ملازمین کو بے روزگار کر دیا جائے گا؟ پہلے ہی ریاست میں روزگار کے مواقع محدود ہیں،
ایسے میں اس طرح کا فیصلہ نوجوانوں کو مزید معاشی مشکلات میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔قائدین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ سرکلر میں واضح تضادات موجود ہیں، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ فیصلہ بغیر کسی ٹھوس پالیسی، منصوبہ بندی اور متعلقہ افراد سے مشاورت کے کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ملازمین میں بے چینی اور اداروں میں بدانتظامی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
ٹی آر ایس اقلیتی قائدین نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اس سرکلر کو فوری طور پر واپس لے، ڈیٹا انٹری آپریٹر کی پوسٹس کو بحال کیا جائے، متاثرہ ملازمین کے روزگار کو تحفظ فراہم کیا جائےاور خاص طور پر علیحدہ کیمپس والے اداروں کے لئے اضافی عملہ اور سہولیات فراہم کی جائے تاکہ تعلیمی نظام متاثر نہ ہو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس فیصلے کو واپس نہیں لیا گیا تو وہ جمہوری طریقے سے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔



