احتجاجی طلباء کے پاسپورٹ منسوخ کرنے کی خبر پر دہلی پولیس کی وضاحت

نئی دہلی: نیٹ پیپر لیک کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے منعقد کیے گئے "چلو پارلیمنٹ” احتجاج میں شریک افراد کے خلاف دہلی پولیس نے کارروائی کی ہے ایسی خبریں سامنے آئی تھیں۔ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ احتجاج میں حصہ لینے والوں کی شناخت کر کے ان کے پاسپورٹ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تاہم دہلی پولیس نے ان خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا۔ اس سلسلے میں دہلی کے ڈی سی پی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر فیکٹ چیک کے عنوان سے ایک وضاحتی پوسٹ بھی جاری کی۔دہلی پولیس نے اپنے بیان میں کہا "سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے تمام دعوے گمراہ کن ہیں۔
سی جے پی کے احتجاج میں شریک افراد کے پاسپورٹ منسوخ کرنے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ عوام سے گزارش ہے کہ ایسی جھوٹی خبروں پر یقین نہ کریں اور نہ ہی انہیں آگے شیئر کریں۔ صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر ہی اعتماد کریں۔”
واضح رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی نے 20 جولائی کو نیٹ پیپر لیک کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا جس کے لیے "چلو پارلیمنٹ” احتجاج کا انعقاد کیا گیا۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے پارلیمنٹ کے اطراف نصب رکاوٹیں (بیریکیڈز) توڑ دیں جس کے بعد طلبہ اور پارٹی قائدین نے شدید احتجاج کیا۔
حالات کشیدہ ہونے پر پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج بھی کیا۔ اس دوران متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔گزشتہ روز بعض خبروں میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ دہلی پولیس احتجاج میں شریک افراد کی شناخت کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی
جس کے بعد پاسپورٹ منسوخ کیے جانے کی افواہیں بھی پھیلنے لگیں۔ تاہم آج دہلی پولیس نے اس معاملے پر وضاحت جاری کرتے ہوئے ان خبروں کو غلط قرار دے دیا۔دوسری جانب سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا تھا کہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے مظاہرین پر پولیس نے پیپر اسپرے کیا۔
دہلی پولیس نے اس دعوے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھی جھوٹی اور گمراہ کن اطلاع ہے۔ پولیس نے کہا کہ اس قسم کی فرضی خبروں سے عوام میں غیر ضروری خوف اور الجھن پیدا ہوتی ہے اس لیے ایسی معلومات کو شیئر کرنے سے گریز کیا جائے۔



