نئی نسل نے تو احتجاج کا مطلب ہی بدل کر رکھ دیا

نئی دہلی: احتجاج ہمیشہ سے غصے، نعرے بازی، دھرنوں اور تصادم کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے لیکن آج کی جنریشن زی نے احتجاج کا انداز ہی بدل دیا ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو تقریباً 1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہوئی ڈیجیٹل دور میں پروان چڑھی اور سوشل میڈیا کو اپنی سب سے بڑی طاقت بنالیا۔
حالیہ طلبہ احتجاجوں خصوصاً نئی دہلی کے جنتر منتر میں ہونے والے مظاہروں نے دنیا کو حیران کر دیا۔ مسئلہ انتہائی سنگین تھا مگر نوجوانوں نے احتجاج کو صرف غصے کا اظہار نہیں بنایا بلکہ اسے موسیقی، رقص، طنز، مزاح اور تخلیقی نعروں کے ذریعے ایک نئی شکل دی۔
پولیس کی لاٹھی چارج اور پانی کی بوچھاڑ کے باوجود کئی نوجوان ہنستے، ناچتے اور دلچسپ جملے کہتے نظر آئے۔ ان کے نزدیک خوف سے زیادہ اہم اپنے سوال کو زندہ رکھنا تھا۔
جنریشن زی کی سب سے نمایاں خصوصیت یہی ہے کہ وہ سوال پوچھتی ہے دلیل مانگتی ہے اور اختیار کو چیلنج کرنے سے نہیں گھبراتی۔ جنتر منتر کے احتجاج میں بھی نوجوان پولیس عہدیاروں اور ملازمین سے سوال کرتے ان سے بات کرتے اور اپنے مطالبات پیش کرتے دکھائی دیے۔
ان کے انداز میں جارحیت سے زیادہ اعتماد اور بے خوفی نمایاں تھی۔طلباء نے مزاحیہ انداز میں چبھتے ہوئے سوالات حکومت اور پولیس سے پوچھے ان کی جانب سے جو پلے کارڈس اٹھائے گئے تھے اس پر بھی دلچسپ نعرے لکھے تھے۔
بعض اوقات ان کی حرکات بزرگ نسل کو عجیب، غیر سنجیدہ یا غیر روایتی محسوس ہوتی ہیں لیکن یہی ان کی نئی سیاسی زبان ہے۔ میمز، مختصر ویڈیوز، طنزیہ جملے، رقص اور موسیقی ان کے لیے صرف تفریح نہیں بلکہ اظہارِ رائے کے مؤثر ذرائع ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل دور میں پروان چڑھنے والی یہ نسل روایتی طاقت کے مراکز سے کم خوف زدہ ہے کیونکہ اس کے پاس اپنی آواز کے احتجاج چند گھنٹوں میں سوشل میڈیا کے ذریعے لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتے ہیں۔
سماجی ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل دور میں پروان چڑھنے والی یہ نسل روایتی طاقت کے مراکز سے کم خوف زدہ ہے کیونکہ اس کے پاس اپنی آواز پہنچانے کے متبادل ذرائع موجود ہیں۔
یہ کہنا درست ہوگا کہ جنریشن زی نے احتجاج کی لغت بدل دی ہے۔ وہ صرف سڑکوں پر نہیں،بلکہ کیمروں، موبائل فونز اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی اپنی جدوجہد جاری رکھتی ہے۔ ان کا پیغام واضح ہے کہ احتجاج صرف غصے کا نام نہیں بلکہ تخلیقی انداز میں سوال اٹھانے اور تبدیلی کا مطالبہ کرنے کا بھی نام ہے۔

