Uncategorized

جین زی کی زبان اور بےخوف انداز ۔ اقتدار کا سامنا کرنے والی ہر قسم کے خوف سے آزاد نئی نسل

نئی دہلی: دھرمیندر پردھان کے استعفے کے ساتھ طلبہ تحریک کا سب سے بڑا مطالبہ پورا ہو گیا۔ اس تحریک کی کامیابیوں اور اثرات پر طویل عرصے تک بحث ہوتی رہے گی لیکن اس نوجوان تحریک نے ایک اور اہم سوال بھی اٹھایا ہے اور وہ ہے زبان کا سوال۔

 

کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم جس نسل کو جنریشن زی (Gen-Z) کہا جاتا ہے، اس کی زبان اور اظہارِ خیال پر پورے ملک میں مختلف ردِعمل سامنے آ رہے ہیں۔ جو لوگ اس تحریک کی حمایت کرتے ہیں وہ اس نئی زبان کو تازگی اور جرات کی علامت سمجھتے ہیں جبکہ حکومت کے حامی اسی زبان کو تحریک پر تنقید کا سب سے بڑا ہتھیار بنا رہے ہیں۔

 

نسلوں کے درمیان فرق ہمیشہ سے موجود رہا ہے مگر اس بار جنتر منتر اور دیگر مقامات پر جمع ہونے والی جنریشن زی کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ یہ فرق پہلے سے کہیں زیادہ گہرا ہو چکا ہے۔ اب تک والدین ہی اپنی جنریشن زی اولاد کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن اچانک اس نسل کا براہِ راست سامنا اقتدار سے ہو گیا۔

 

جس تحریک کو ابتدا میں محض چند نام نہاد احتجاجی کارکنوں اور یوٹیوبرز کا اجتماع قرار دیا جا رہا تھا اس میں جنریشن زی کی بھرپور شمولیت نے سب کو حیران کر دیا۔ وہ بزرگ نسل جو ماضی کی کئی بڑی تحریکیں دیکھ چکی ہے یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ واضح رہنما اور مرکزی قیادت کے بغیر یہ تحریک اتنی کامیاب کیسے ہو گئی۔

 

اب تک کی نسلیں کسی نہ کسی سماجی تحفظ کے ڈھانچے کے اندر پروان چڑھی تھیں لیکن یہ پہلی نسل ہے جس کے پاس کھونے کے لیے ایسا کوئی مضبوط ڈھانچہ نہیں۔ اس نسل نے ایسے سیاسی دور کو دیکھا ہے جہاں نظریات کی اہمیت کمزور پڑ چکی ہے۔

 

جدیدیت مابعد جدیدیت اور اب اس نئے عہد نے ایک ایسی بےفکر زبان کو جنم دیا ہے جو ہر قسم کے خوف سے آزاد ہے۔ یہی نسل پولیس کی پانی کی بوچھاڑ کے درمیان بھی رقص کرتی ہے اور اپنے اظہار کے لیے ایک نئی علامتی اور خفیہ زبان بھی تخلیق کر چکی ہے۔

 

بھارت جیسے معاشرے میں فحش گالیاں اب گھروں سے لے کر گلیوں تک عام ہو چکی ہیں۔ جنریشن زی گھر میں بھی وہی زبان بولتی ہے جو باہر استعمال کرتی ہے۔پرانی نسل کا رویہ اس سے مختلف تھا وہ گھر میں ایک انداز اختیار کرتی تھی اور عوامی پلیٹ فارم پر دوسرا۔ لیکن جنریشن زی اپنی روزمرہ زندگی میں بھی اور کیمرے کے سامنے بھی کسی فلٹر پر یقین نہیں رکھتی۔

 

اس کی شخصیت اور زبان گھر اور سڑک دونوں جگہ یکساں رہتی ہے۔سیاسی نظریہ چاہے کوئی بھی ہو ایک بات تقریباً ہر سوچ میں مشترک ہے کہ صحیح بات کا ساتھ دینا چاہیے۔ ہر شخص اپنی سمجھ کے مطابق سچ کی تلاش کرتا ہے لیکن اکثر اس کا ذاتی مفاد اس کے سچ پر غالب آ جاتا ہے۔

 

جنریشن زی نے اپنے سماجی ثقافتی اور سیاسی ماحول میں اتنی غیر یقینی اور عدم تحفظ دیکھا ہے کہ اس کے بیشتر خوف ختم ہو چکے ہیں۔اس نسل کی زندگی میں دوہرا پن نہیں اس لیے اسے عوامی تقریروں میں بناوٹی ادبی زبان یا لفاظی کا سہارا لینے کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی۔ کیمرہ اور انٹرنیٹ ہی اس کا اپنا اسٹیج ہیں۔

 

اسی لیے اسے اسٹیج پر جگہ برقرار رکھنے کے لیے سمجھوتے کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ مرکزی اختیارات پر مبنی طرزِ حکمرانی کا اس خوداعتماد اور خودمتحرک نسل سے سامنا مستقبل کی سیاست کی ایک نئی تعریف لکھ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button