شادی کی رات دلہے کی پراسرار موت – خوشیاں ماتم میں بدل گئیں

سہاگ رات پر دلہا کی پراسرار موت، شادی کی خوشیاں ماتم میں بدل گئیں

اتر پردیش کے ضلع بدایوں کے اوگھیتی پولیس اسٹیشن علاقے کے ریونائی گاؤں میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں سہاگ رات کے دوران 22 سالہ دلہا ببلو کی مشتبہ طور پر سانپ کے ڈسنے سے موت ہوگئی۔ اس افسوسناک سانحے سے شادی کی تمام خوشیاں چند گھنٹوں میں غم میں بدل گئیں اور پورا گاؤں سوگ میں ڈوب گیا۔
ببلو جمعرات کو اپنی دلہن نیتو کو رخصت کرا کے گھر لایا تھا۔ رات دیر گئے اچانک اس کے پیٹ میں شدید درد شروع ہوا۔ گھر والوں نے فوری طور پر اسے قریبی کلینک لے گئے، مگر وہاں علاج سے انکار کر دیا گیا۔ اس کے بعد اسے سہسوان کمیونٹی ہیلت سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے شبہ ظاہر کیا کہ اسے سانپ نے ڈسا ہے اور زہر جسم میں پھیل چکا ہے۔ بہتر علاج کے لئے اسے فوراً بدایوں میڈیکل کالج ریفر کیا گیا، لیکن وہاں پہنچنے پر ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
ببلو کے والد کنور پال موریہ نے بتایا کہ ڈاکٹروں اور بعد میں جھاڑ پھونک کرنے والوں نے بھی سانپ کے ڈسنے کا شبہ ظاہر کیا، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ببلو کے جسم پر سانپ کے کاٹنے کا کوئی نشان نہیں ملا۔ گھر والوں امید میں اسے ایک کے بعد ایک تقریباً 12 زہر نکالنے والوں کے پاس بھی لے گئے، مگر اس کی جان نہ بچ سکی۔ انہوں نے ایک سانپ پکڑنے والے کو بلا کر پورے گھر کی تلاشی بھی کرائی، لیکن کہیں بھی سانپ نہیں ملا۔ آخرکار ہفتہ کی صبح ببلو کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں۔
نئی نویلی دلہن نیتو ابھی سہاگ کے جوڑے میں ہی تھی اور شادی کی کئی رسمیں باقی تھیں، جو جمعہ کی صبح ادا کی جانی تھیں۔ مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ جس شوہر کے ساتھ اس نے نئی زندگی کے خواب سجائے تھے، وہ صرف چند گھنٹے اس کا ساتھ دے کر دنیا سے رخصت ہو گیا۔ شوہر کی اچانک موت سے نیتو شدید صدمے میں ہے۔ وہ بار بار روتے ہوئے بے ہوش ہو جاتی رہی اور ہفتہ دوپہر تک اس کی حالت انتہائی خراب رہی۔
بیٹے کی موت نے ببلو کے والد کنور پال موریہ کو بھی توڑ کر رکھ دیا۔ انہوں نے روتے ہوئے کہا، "اب کیا بتائیں، ہماری دنیا ہی اجڑ گئی۔” انہوں نے بتایا کہ بڑی امیدوں اور خوشیوں کے ساتھ بیٹے کی شادی کی تھی۔ ببلو کھیتی باڑی میں ان کا ہاتھ بٹاتا تھا۔ خاندان میں پانچ بچے ہیں، جن میں ببلو دوسرے نمبر پر تھا۔ بڑی بیٹی ممتا کی شادی ہو چکی ہے، جبکہ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ابھی غیر شادی شدہ ہیں۔
ببلو کی والدہ رام وتی بھی اس صدمے سے نڈھال ہیں۔ کئی دنوں سے وہ بیٹے کی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھیں، لیکن ایک ہی رات میں ان کی تمام خوشیاں غم میں بدل گئیں۔ ان کی آنکھوں کے سامنے اب بھی بیٹے کا سہرا باندھے شادی کے منڈپ میں بیٹھا منظر گھوم رہا ہے، اور وہ اسے یاد کر کے مسلسل اشک بہا رہی ہیں۔



