’’عمر خالد، شرجیل امام کو رہا کرو…‘‘ پوسٹر دکھانے پر دانش نامی نوجوان کو حراست میں لیا گیا

نئی دہلی: مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد گوا کے پنجی کے آزاد میدان میں کچھ لوگ جشن منا رہے تھے۔ اسی دوران ایک نوجوان کے ہاتھ میں ایک پوسٹر تھا جس پر لکھا تھا:’’عمر خالد، شرجیل امام اور بھیما کوریگاؤں 16 کو رہا کرو۔‘‘
پولیس کے مطابق اس نوجوان کا نام دانش ہے۔دھرمیندر پردھان نے نیٹ پرچہ لیک معاملے پر کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں ہونے والے ملک گیر احتجاج کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔پولیس کے مطابق دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد موقع پر نعرے بازی ہو رہی تھی۔
جب پولیس نے دانش کے ہاتھ میں یہ پوسٹر دیکھا تو اس سے شناختی کارڈ طلب کیا گیا۔ شناختی دستاویز نہ ہونے پر اسے پوچھ گچھ کے لیے پنجی پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔اس واقعے کے بعد بی جے پی یوا مورچہ کے کارکنوں نے پولیس اسٹیشن کے باہر دھرنا دیا اور پوسٹر دکھانے والے شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔
میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے دانش نے کہا کہ وہ عمر خالد کی رہائی کے مطالبے کی حمایت کرتا ہے۔ احتجاجی مقام پر موجود ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق دانش کو حراست میں لیے جانے کے بعد آزاد میدان میں موجود مظاہرین اس کی حمایت میں پولیس ہیڈکوارٹر کی جانب مارچ کرنے لگے اور اس کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
اسی دوران پولیس نے سدین دلوی کو بھی حراست میں لے لیا۔سدین دلوی پر الزام ہے کہ انہوں نے بھی عمر خالد کی حمایت کی اور میڈیا کے ساتھ بدتمیزی کی۔ پولیس نے بتایا کہ دونوں افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
عمر خالد سن 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات سے متعلق ایک مقدمے میں اس وقت جیل میں بند ہیں۔



