آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے دور میں نئی مہارتوں پر عبور ضروری۔ مکرم جاہ اسکول گریجویشن ڈے سے سابق ڈی جی پی انجنی کمار آئی پی ایس کا خطاب

حیدرآباد۔25 /جولائی: سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس، تلنگانہ، مسٹر انجنی کمار، آئی پی ایس نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI)، تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی اور عالمی مسابقت کے اس دور میں کامیابی صرف انہی طلبہ کا مقدر بنے گی جو مسلسل نئی مہارتیں حاصل کرتے رہیں گے، خود کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالتے رہیں گے اور دیانت داری، نظم و ضبط اور محنت کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں گے۔
وہ 25 جولائی کو مکرم جاہ اسکول کے تعلیمی سال 2025-26 کے فارغ التحصیل طلبہ کی گریجویشن ڈے سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کی کامیاب ترین فٹ بال ٹیمیں بھی صرف صلاحیت کے بل پر نہیں بلکہ برسوں کی مسلسل مشق، ٹیم ورک، باہمی ہم آہنگی اور نظم و ضبط کی بدولت فیفا ورلڈ کپ جیتتی ہیں۔ طلبہ کو بھی اپنی زندگی میں انہی اوصاف کو اپنانا ہوگا کیونکہ کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔مسٹر انجنی کمار نے کہا کہ آج کے طلبہ صرف اپنے شہر یا ملک کے طلبہ سے مقابلہ نہیں کر رہے بلکہ ان کا مقابلہ پوری دنیا کے ذہین ترین نوجوانوں سے ہے۔
جی میٹ (GMAT)، ایس اے ٹی (SAT) اور دیگر عالمی امتحانات نے تعلیم کو بین الاقوامی سطح پر مسابقتی بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی تہذیب اسی لیے ترقی کرتی رہی ہے کیونکہ ہر نئی نسل نے اپنے سے پچھلی نسل سے زیادہ علم، بہتر صلاحیت اور زیادہ نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا ہے۔انہوں نے معاشرتی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 130 برس قبل ایک عام انسان کی پوری زندگی تقریباً 20 کلومیٹر کے دائرے تک محدود رہتی تھی۔ پیدائش، تعلیم، روزگار، شادی، خاندان اور زندگی کے بیشتر مراحل اسی محدود علاقے میں گزر جاتے تھے۔ مگر آج ٹرانسپورٹ، مواصلات اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے پوری دنیا کو ایک عالمی گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا:’’آج پوری دنیا آپ کا محلہ بن چکی ہے‘‘۔ ایسے حالات میں نوجوانوں کو عالمی سوچ اپنانا ہوگی اور ہر لمحہ خود کو بہتر بناتے رہنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی ہر چند ماہ بعد نئے انداز میں سامنے آ رہی ہے، اس لیے طلبہ کو بھی مسلسل نئی مہارتیں سیکھنی چاہئے تاکہ وہ بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔ انہوں نے طلبہ کو انٹرنیٹ کا مثبت استعمال کرنے، اسے علم حاصل کرنے کا ذریعہ بنانے اور گمراہ کن رجحانات اور آسان کامیابی کے جھانسوں سے بچنے کا مشورہ دیا۔والدین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ بھی بدلتے ہوئے دور کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کریں
اپنے بچوں کی صلاحیتوں اور خوابوں کو سمجھیں اور انہیں اپنی پسند کے شعبوں میں آگے بڑھنے کی حوصلہ افزائی کریں۔اس موقع پر انہوں نے نواب ایم اے فیض خان، ٹرسٹی، مکرم جاہ ٹرسٹ فار ایجوکیشن اینڈ لرننگ کو حیدرآباد کے تاریخی محلات کی بحالی کی کوششوں پر مبارکباد پیش کی۔اس سے قبل خطاب کرتے ہوئے نواب ایم اے فیض خان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت نے روزگار اور تعلیم کے روایتی تصورات کو بدل دیا ہے اور اب کامیابی صرف انجینئرنگ یا میڈیکل جیسے روایتی شعبوں تک محدود نہیں رہی۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ نئی ٹیکنالوجیز سے ہم آہنگ ہوں، اپنے اساتذہ اور سرپرستوں سے رہنمائی حاصل کریں اور مستقبل کے نئے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پرانی حویلی کی تاریخی عمارتوں کی مرحلہ وار بحالی کا کام جاری ہے اور تقریب حال ہی میں بحال کیے گئے آصف جاہی ہال میں منعقد ہوئی۔تقریب کا آغاز اسکول کے نیشنل کیڈٹ کور (NCC) کے طلبہ و طالبات کی جانب سے شاندار مارچ پاسٹ اور گارڈ آف آنر سے ہوا، جس نے حاضرین سے بھرپور داد حاصل کی۔اس موقع پر یہ بھی بتایا گیا کہ مکرم جاہ اسکول نے مسلسل چوتھے سال ایجوکیشن ورلڈ انڈیا اسکول رینکنگز میں بجٹ اسکول زمرے میں ملک بھر میں اول مقام حاصل کیا ہے، جو معیاری اور کم خرچ تعلیم کی فراہمی کے لیے ادارے کی مسلسل کاوشوں کا اعتراف ہے۔تقریب میں ایم اے باسط، خالد احمد، کرنل ایس اینڈی اپن (ریٹائرڈ)، سیکریٹری، حشمت علی سمور، جوائنٹ سیکریٹری، اور پرنسپل محترمہ ریکھا واڈھے بھی موجود تھیں۔مکرم جاہ اسکول کی بنیاد آٹھویں نظامِ حیدرآباد حضرت والا شان نواب میر برکت علی خان مکرم جاہ بہادر کے تعلیمی وژن کے تحت رکھی گئی تھی۔
انہوں نے پرانی حویلی، اس کے آٹھ محلات اور تاریخی مسرت محل کو تعلیم کے فروغ کے لیے وقف کر کے ایک لازوال مثال قائم کی۔گزشتہ تقریباً چار دہائیوں سے یہ ادارہ اپنی شاندار تاریخی روایت کو جدید تعلیمی نظام کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہوئے ہزاروں طلبہ کی علمی، اخلاقی اور قائدانہ صلاحیتوں کی آبیاری کر رہا ہے۔



