نیشنل

خانگی اسکولوں کے  ٹیچرس کی فلاح و بہبود پر سپریم کورٹ کا مرکز اور ریاستوں سے جواب طلب

خانگی اسکولس کے  تجربس کی فلاح و بہبود پر سپریم کورٹ کا مرکز اور ریاستوں سے جواب طلب

 

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ملک بھر کے خانگی اسکول اساتذہ کی فلاح و بہبود کے لیے جامع قومی نظام وضع کرنے کی درخواست پر مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں سے جواب طلب کرلیا۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے آل انڈیا ٹیچرز فیڈریشن کی نیشنل کوآرڈینیٹر لیگیمول جارج کی جانب سے دائر درخواست پر نوٹس جاری کیا۔

 

درخواست میں کہا گیا کہ خانگی اسکولوں کے اساتذہ ملک کی تدریسی افرادی قوت کا بڑا حصہ ہیں، لیکن ان کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی مخصوص قومی قانونی نظام موجود نہیں۔ درخواست گزار نے نیشنل پرائیویٹ اسکول ٹیچرز ویلفیئر بورڈ یا اسی نوعیت کا ادارہ قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جو ریاستوں میں اساتذہ کی فلاحی اسکیموں میں رابطہ اور نگرانی کا کام انجام دے۔

 

درخواست کے مطابق موجودہ قوانین کے تحت نجی اسکول اساتذہ کو محدود اور مختلف نوعیت کا تحفظ حاصل ہے۔ UDISE+ 2023-24 کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کے تسلیم شدہ غیر امدادی خانگی اسکولوں میں 37,30,047 اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔

 

درخواست میں کہا گیا کہ متعدد خانگی اسکول اساتذہ کنٹریکٹ، عارضی یا مقررہ تنخواہ پر کام کرتے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن، طبی سہولت، انشورنس، معذوری تحفظ اور دیگر مراعات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ درخواست ایڈوکیٹ دیپک پرکاش کے توسط سے دائر کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button