جیسے دھرمیندر پردھان کو تبدیل کیا گیا ویسے ہی کل حکومت کو بھی بدل دیں گے: کاکروچ جنتا پارٹی کا انتباہ

نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھجیت دیپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ جنتر منتر تحریک میں شریک طلبہ کو حکومت کی جانب سے ہراساں کرنا بند کیا جائے اور مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن استعمال کرنے کی اجازت دینے والے ذمہ دار شخص کے خلاف کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اپنی روش نہ بدلے تو ملک کا نوجوان خود حکومت کو بدل دے گا۔ایک ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے قومی احتجاج کے بعد وہ چہارشنبہ کے روز وہ اپنے آبائی شہر مہاراشٹر کے چھترپتی سمبھاجی نگر پہنچے۔ ہوائی اڈے پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے
انہوں نے کہا کہ پولیس طلبہ کے گھروں میں جا کر انہیں گرفتار کرنے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔انہوں نے کہا "طلبہ اس ملک کا مستقبل ہیں، وہ دہشت گرد نہیں ہیں۔ اگر انہیں اسی طرح ہراساں کیا جاتا رہا تو جیسے دھرمیندر پردھان کو تبدیل کیا گیا ویسے ہی کل حکومت کو بھی بدل دیں گے۔
بہتر ہوگا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں اور اپنی صلاحیت کے مطابق ایک انفلوئنسر بن جائیں۔ طلبہ کا غصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا ہے، اور ضرورت پڑی تو اس سے بھی بڑا احتجاج دوبارہ شروع کریں گے۔”اس موقع پر ابھجیت دیپکے کی والدہ انیتا دیپکے نے یاد دلایا کہ
جب سی جے پی نئی قائم ہوئی تھی تو انہیں ایک ویڈیو کے ذریعے دھمکی دی گئی تھی کہ”اگر تم بی جے پی میں شامل نہیں ہوئے تو تمہارے والدین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔”انہوں نے بتایا کہ انہی دھمکیوں کے باعث انہیں چھترپتی سمبھاجی نگر چھوڑ کر تقریباً پندرہ دن تک کونکن کے علاقے میں اپنے رشتہ داروں کے گھر پناہ لینی پڑی۔



