تعلیمی نظام پر آر ایس ایس کا قبضہ؛ طلبہ پر فائرنگ کرنے کے امیت شاہ نے دئے تھے احکامات – راہول گاندھی کے الزامات پر پارلیمنٹ میں شدید ہنگامہ
نئی دہلی: لوک سبھا میں قائدِ اپوزیشن راہول گاندھی نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ طلبہ تحریک کے دوران مظاہرین پر فائرنگ کرنے کے احکامات امیت شاہ نے دیے تھے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ملک کا تعلیمی نظام راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے کنٹرول میں ہے۔
چہارشنبہ کو لوک سبھا میں نیٹ (NEET) پرچہ لیک، طلبہ احتجاج اور پولیس لاٹھی چارج کے معاملے پر بحث کے دوران راہول گاندھی نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ طلبہ کے خلاف طاقت کا استعمال مرکزی وزارتِ داخلہ کی نگرانی میں ہوا اور ملک کے تعلیمی و امتحانی نظام پر آر ایس ایس کا غلبہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ پورا نظام آر ایس ایس کے اثر و رسوخ میں ہے اور ملک کی جامعات میں آر ایس ایس سے وابستہ افراد اہم عہدوں پر فائز ہیں۔
راہول گاندھی کے ان بیانات پر حکومت نے سخت اعتراض کیا۔ مرکزی وزیر کیرن رجیجو اور این ڈی اے کے متعدد ارکان نے کہا کہ راہول گاندھی اپنے الزامات کے حق میں ثبوت پیش کریں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر وہ اپنے دعوے ثابت نہیں کر سکتے تو ایوان سے معافی مانگیں۔ حکومتی ارکان کا کہنا تھا کہ بغیر کسی ثبوت کے اس نوعیت کے الزامات لگانا پارلیمانی روایات کے منافی ہے۔




