نیشنل

جین زی کا کنگنا رناوت کو کرارا جواب۔ فلموں کے بولڈ مناظر سوشل میڈیا پر شیئر

نئی دہلی: بی جے پی رکنِ پارلیمنٹ اور اداکارہ کنگنا رناوت اپنے حالیہ متنازع بیان کے بعد سوشل میڈیا پر شدید تنقید اور ٹرولنگ کا سامنا کر رہی ہیں۔کنگنا کی جانب سے نوجوان نسل پر سخت تنقید کے بعد متعدد صارفین نے انہیں آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ دوسروں کو نصیحت کرنے سے پہلے انہیں اپنے ماضی اور فلمی کیریئر پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔

 

کنگنا نے جنریشن زیڈ کے مظاہرین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سخت الفاظ استعمال کیے تھے جس پر نوجوانوں اور متعدد سوشل میڈیا صارفین نے سخت ردِعمل ظاہر کیا۔کنگنا کے بیان کے بعد کئی صارفین نے ان کی فلموں کے مناظر اور تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے ان پر دوہرا معیار اختیار کرنے کا الزام لگایا۔

 

ان کا کہنا ہے کہ جو اداکارہ اپنی فلموں میں بولڈ اور فحش مناظر کا حصہ رہی ہیں انہیں نوجوان نسل کے لباس زبان یا طرزِ عمل پر اس انداز میں تنقید نہیں کرنی چاہیے۔اس معاملے پر مختلف سیاسی شخصیات اور سماجی کارکنوں نے بھی ردِعمل دیا جبکہ نیٹ احتجاج میں شامل طالبہ ریا اہیر نے بھی کنگنا کے بیان کو پوری جنریشن زیڈ کی توہین قرار دیا۔

 

دوسری جانب کنگنا رناوت نے اپنے دفاع میں کہا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا کا ایک طبقہ جان بوجھ کر ان کے خلاف مہم چلا رہا ہے اور ان کے مثبت کاموں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اظہارِ خیال کی آزادی کے ساتھ سماجی شائستگی اور حدود کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ اب نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج میں شامل رہنے والی وائرل طالبہ ریا اہیر نے بھی اس پر اپنا ردِعمل دیا ہے۔

 

ریا اہیر نے کہا”بی جے پی کی رکنِ پارلیمنٹ کنگنا رناوت نے کہا ہے کہ جنریشن زیڈ کو دیکھ کر انہیں الٹی آتی ہے۔ اس طرح انہوں نے پوری جنریشن زیڈ کی توہین کی ہے۔ مجھے افسوس ہوا کیونکہ جس بہادری سے وہ بالی ووڈ مافیا کے خلاف لڑیں مجھے امید تھی کہ وہ ایجوکیشن مافیا کے خلاف بھی آواز اٹھائیں گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔””ہم جانتے ہیں کہ ہم کون ہیں” ریا اہیر نے مزید کہا کہ "ضروری نہیں کہ ہر شخص کی ہر بات کا جواب دیا جائے۔

 

ہمیں معلوم ہے کہ ہم کون ہیں۔ پورے ملک میں ہماری تعریف ہو رہی ہے۔ اگر کوئی ایسی بات کہنا چاہتا ہے تو کہنے دیں۔ آپ کو خود معلوم ہے کہ آپ کس مقصد کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔””ہم اس نظام سے مایوس ہیں”ریا نے کہا "میں جانتی ہوں کہ کچھ بچوں نے گالیاں دیں اور نامناسب بیانات بھی دیے لیکن وہ بچے ہیں۔ ہم اس نظام سے مایوس ہیں۔ یہ معاملہ صرف نیٹ تک محدود نہیں رہا۔ طلبہ کی تعلیم کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا، کیونکہ لوگوں کو لگتا ہے کہ بچوں کے پاس کوئی طاقت نہیں ہے۔”

 

ریا اہیر نے مزید کہا "اگر کسی سیاست دان کی طرف سے ایسا بیان آتا ہے تو کیا ہم تمام سیاست دانوں کو گالیاں دینا شروع کر دیں؟ ہمارے اندر بھی اتنی سمجھ ہے کہ ایک خراب سیب باقی سیبوں کو بھی خراب کر دیتا ہے اس لیے اس سے دور رہنا چاہیے۔”انہوں نے آخر میں کہا”میں یہ بھی کہنا چاہوں گی کہ جن لوگوں کے پاس اختیار اور طاقت ہے، ان کی کاؤنسلنگ ہونی چاہیے تاکہ وہ ایسے بیانات نہ دیں۔

 

اس مقصد کے لیے باقاعدہ کؤنسلنگ سیشن ہونے چاہییں اور ایسے افراد کو وارننگ لیٹر بھی جاری کیے جانے چاہیے۔”

متعلقہ خبریں

Back to top button