نیشنل

وندے ماترم بل لوک سبھا میں بھی منظور – بیرسٹر اویسی کی شدید مخالفت ؛ کہا میں ایک مسلمان ہوں اور اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتا

نئی دہلی :  پارلیمنٹ نے مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کردہ وندے ماترم بل کو منظوری دے دی ہے۔ جمعرات کو لوک سبھا نے بھی اس بل کو منظور کر لیا، جبکہ اس سے ایک روز قبل راجیہ سبھا بھی اس کی منظوری دے چکی تھی

 

۔ اب یہ بل صدرِ جمہوریہ کی منظوری کے لیے بھیجا جائے گا، جس کے بعد یہ باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔ اپوزیشن کے شدید احتجاج اور ہنگامے کے باوجود حکومت بل کو منظور کروانے میں کامیاب رہی۔

 

اس ترمیم کے بعد قومی ترانے "جن گن من” کی طرح قومی گیت "وندے ماترم” کو بھی قانونی تحفظ اور مساوی احترام حاصل ہوگا۔ نئے قانون کے مطابق وندے ماترم کی توہین کرنے، جان بوجھ کر اس کی گائیکی میں رکاوٹ ڈالنے یا اسے گانے سے روکنے پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ایسے جرم پر تین سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

 

بل پر بحث کے دوران آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین  کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ  نے اس کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ وندے ماترم کو لازمی طور پر گانے کی شرط آئینِ ہند کے آرٹیکل 25 کے تحت حاصل مذہبی آزادی کے بنیادی حق سے متصادم ہے۔ بیرسٹر اویسی نے کہا کہ "جن گن من” ملک اور اس کے عوام کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ وندے ماترم کو ہر شہری پر لازمی طور پر مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔

 

اپنی تقریر میں بیرسٹر اویسی نے کہا کہ ملک کی آزادی کے لیے بے شمار مجاہدینِ آزادی، جن میں مولانا محمود حسن دیوبندی اور مولانا ابوالکلام آزاد جیسے رہنما شامل ہیں، نے عظیم قربانیاں دی ہیں، لیکن آج ان کی خدمات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی رائے میں 1950 میں اس وقت کے پہلے صدر راجندر پرساد نے بغیر کسی باضابطہ قرارداد کے وندے ماترم کو قومی گیت کا درجہ دے کر غلطی کی، کیونکہ آئین یا قانون میں "قومی گیت” کی واضح تعریف موجود نہیں ہے۔

 

بیرسٹر اویسی نے کہا کہ  "میں ایک مسلمان ہوں اور اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتا۔ حکومت آئین کے آرٹیکل 25، 26 اور 29 کے تحت حاصل مذہبی آزادی کے حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ کسی بھی شہری کو اس کے مذہبی عقائد کے خلاف کسی گیت کو لازمی طور پر گانے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔”

متعلقہ خبریں

Back to top button