جنرل نیوز

حلال سرمایہ کاری دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت، مشتبہ اور سودی معاملات سے حتیٰ الامکان اجتناب ہر مسلمان کی ذمہ داری: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

حلال سرمایہ کاری دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت، مشتبہ اور سودی معاملات سے حتیٰ الامکان اجتناب ہر مسلمان کی ذمہ داری: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

حیدرآباد، 30 جولائی (پریس ریلیز):

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی انفرادی، اجتماعی، معاشرتی اور معاشی زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال، عدل، دیانت اور پاکیزگی کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ کریم نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دے کر اسلامی معیشت کی بنیاد انصاف، امانت داری اور باہمی رضامندی پر رکھی ہے۔ موجودہ دور میں سرمایہ کاری کے متعدد ذرائع رائج ہونے کے باعث مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کون سی سرمایہ کاری شریعتِ اسلامیہ کے مطابق ہے اور کن معاملات میں احتیاط ضروری ہے۔ ان ہی اہم سوالات کے جوابات دیتے ہوئے خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز، نامپلی، حیدرآباد، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تفصیلی رہنمائی فرمائی۔

مولانا نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾

"اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔”

انہوں نے فرمایا کہ اسلام میں حلال روزی کو نہ صرف باعثِ برکت قرار دیا گیا ہے بلکہ یہی عبادات کی قبولیت، دعاؤں کی اثر پذیری اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بھی ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی آمدنی اور سرمایہ کاری کے ذرائع کے بارے میں شرعی رہنمائی حاصل کرے اور حلال و حرام کی حدود کا مکمل لحاظ رکھے۔

مختلف سائلین کے سوالات کے جواب میں مولانا نے فرمایا کہ جدید مالیاتی نظام میں سرمایہ کاری کی متعدد صورتیں رائج ہیں، جن کی شرعی حیثیت ان کی حقیقی نوعیت، معاہدے کی شرائط اور عملی طریقۂ کار کو سامنے رکھ کر متعین کی جاتی ہے۔ اس لیے کسی بھی سرمایہ کاری کے بارے میں عمومی فیصلہ کرنے کے بجائے اس کے تمام شرعی پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

انہوں نے مزید فرمایا کہ اگر کوئی سرمایہ کاری مضاربہ، مشارکہ یا دیگر اسلامی اصولوں کے مطابق ہو، اس میں سود، دھوکہ، غرر، فریب یا ناجائز معاملات شامل نہ ہوں اور سرمایہ جائز کاروبار میں استعمال کیا جائے تو ایسی سرمایہ کاری شرعی اعتبار سے قابلِ غور ہو سکتی ہے۔ تاہم ہر نئی مالیاتی اسکیم یا سرمایہ کاری کے طریقے کو اختیار کرنے سے پہلے اس کی شرعی حیثیت معلوم کرنا ضروری ہے۔

مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ موجودہ دور میں سرمایہ کاری کی مختلف صورتوں کے بارے میں فقہائے کرام اور ماہرینِ اسلامی معاشیات نے تفصیلی بحث کی ہے، اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ کسی بھی سرمایہ کاری سے قبل مستند علماء و مفتیانِ کرام سے رجوع کرے تاکہ اس کی کمائی ہر قسم کے سود، شبہات اور ناجائز عناصر سے محفوظ رہے۔ احتیاط اور تقویٰ ہی مؤمن کی شان ہے، اور یہی طرزِ عمل دنیا و آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے۔

انہوں نے فرمایا کہ اسلام دولت حاصل کرنے سے منع نہیں کرتا بلکہ دولت کے حصول اور اس کے استعمال کو اخلاقی، شرعی اور انسانی اقدار کا پابند بناتا ہے۔ حلال ذرائع سے حاصل ہونے والی تھوڑی آمدنی بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک باعثِ خیر و برکت ہے، جبکہ ناجائز ذرائع سے حاصل ہونے والی کثیر دولت انسان کے لیے سکون اور برکت کا سبب نہیں بن سکتی۔

آخر میں مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو حلال رزق اختیار کرنے، سود اور ہر قسم کے مشتبہ معاملات سے بچنے، دیانت و امانت کے ساتھ تجارت کرنے اور اپنی معاشی زندگی کو قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق استوار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

متعلقہ خبریں

Back to top button