دہلی فسادات: آئی بی آفیسر کے قتل میں عام آدمی پارٹی کے لیڈر طاہر حسین کو عمر قید، سزائے موت کی درخواست مسترد

نئی دہلی، یکم اگست: دہلی کی ایک عدالت نے2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے دوران انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے افسر انکت شرما کے قتل کے مقدمے میں عام آدمی پارٹی (عاپ) کے سابق کونسلر طاہر حسین اور چار دیگر مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
کرکڑڈوما کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج پروین سنگھ نے سزا کے تعین پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنایا۔ دیگر مجرموں میں جاوید، انس، ناظم اور قاسم شامل ہیں، جنہیں بھی عمر قید کی سزا دی گئی۔
عدالت نے استغاثہ کی جانب سے سزائے موت دینے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ قتل انتہائی سفاکانہ تھا، تاہم استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ مجرموں کی اصلاح کا کوئی امکان نہیں ہے۔
فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا کہ یہ ایک نہایت سنگین واقعہ تھا جس نے پورے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ عدالت کے مطابق یہ قتل شمال مشرقی دہلی میں فرقہ وارانہ فسادات کے دوران صرف مقتول کے مذہب کی بنیاد پر انتہائی بے رحمی سے کیا گیا۔
عدالت نے اپنے مشاہدات میں کہا کہ انکت شرما کی لاش کو چند باغ پلیا تک گھسیٹا گیا اور بعد ازاں نالے میں پھینک دیا گیا، جس سے اس جرم کی بربریت واضح ہوتی ہے۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ یہ مقدمہ "نایاب ترین مقدمات” کے زمرے میں نہیں آتا، اس لیے سزائے موت دینا مناسب نہیں ہوگا۔
عدالت نے مزید کہا کہ استغاثہ یہ ثابت نہیں کر سکا کہ مجرموں کی اصلاح ممکن نہیں یا انہیں معاشرے میں دوبارہ شامل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق ان کے سابقہ مجرمانہ ریکارڈ یا ناقابل اصلاح ہونے کا کوئی مضبوط ثبوت بھی پیش نہیں کیا گیا۔
دہلی پولیس نے عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ اس انتہائی بہیمانہ قتل کے پیش نظر مجرموں کو سزائے موت دی جائے۔ خصوصی سرکاری وکیل مدھوکر پانڈے نے عدالت کو بتایا کہ انکت شرما کو اغوا کرنے کے بعد بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان کے جسم پر 51 زخم تھے، جن میں 18 تیز دھار ہتھیار سے لگے تھے۔
انہوں نے عدالت میں کہا کہ جو لوگ آج رحم کی اپیل کر رہے ہیں، انہیں خود بھی رحم کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ انکت شرما پر کسی نے رحم نہیں کیا، یہاں تک کہ زخمی حالت میں انہیں اسپتال بھی نہیں پہنچایا گیا۔ استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ مجرموں نے حیوانیت کی تمام حدیں پار کر دی تھیں، اس لیے انہیں سزائے موت دی جانی چاہیے۔
واضح رہے کہ 14 جولائی کو کرکڑڈوما عدالت نے طاہر حسین اور دیگر چار ملزمان کو تعزیراتِ ہند کی مختلف دفعات، جن میں دفعہ 302 (قتل) اور دفعہ 147 (فساد) شامل ہیں، کے تحت مجرم قرار دیا تھا۔ تاہم عدالت نے تمام ملزمان کو مجرمانہ سازش کے الزام سے بری کر دیا تھا۔
استغاثہ کے مطابق آئی بی افسر انکت شرما 25 فروری 2020 کو شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران چند باغ پلیا کے قریب ایک مسلح ہجوم کے حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ ان کی لاش اگلے روز قریبی نالے سے برآمد ہوئی تھی، جس پر چاقو اور دیگر تیز دھار ہتھیاروں کے متعدد زخم پائے گئے تھے۔




