اسپشل اسٹوری

“سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب ۔۔۔”سعودی لڑکیوں میں گھڑسواری کی مقبولیت

کے این واصف 

سعودی عرب میں سن 2014 میں خواتین کو کار ڈرائیو کرنے کی اجازت دی۔ اس کے بعد مملکت میں خواتین پر عائدسماجی سطح پر پابندیاں کم ہونے لگیں۔

 

اب مملکت میں گھڑ سواری کے کھیل میں لڑکیوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ اس کے ساتھ اصطبل کی تعداد میں اضافہ، تربیتی پروگرم کی توسیع اور خواتین کے لیے خصوصی ٹرینرز کی دستیابی بھی بڑھی ہے۔

 

یہ سہولتیں گھڑ سواری کی تربیت اور مقامی مقابلوں خواتین کی موجودگی کو مضبوط بنانے اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مدد دے رہی ہیں۔ سعودی پریس ایجنسی “ایس پی اے” نے تبوک ریجن میں گھوڑوں کے اصطبل کا دورہ کیا اور متعدد خواتین گھڑ سواروں سے گفتگو کی۔

 

خاتون ٹرینر سارہ المشیطی نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران گھڑ سواری کے اس کھیل میں خواتین کی نمایاں شرکت دیکھنے میں آئی ہے۔ جسمانی فٹنس اور مہارت کے علاوہ خوداعتمادی اور نظم وضبط پیدا کرنے میں گھڑ سواری کا اہم کردار ہے۔‘

 

سارہ المشیطی نے مزید کہا کہ سب سے پہلے زیرِ تربیت لڑکیوں کو حفاظتی ضوابط کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ گھوڑے کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہیے۔ اس کے علاوہ گھڑ سواری کے دوران توازن برقرار رکھنے، گھوڑے اور سوار کے مابین باہمی اعتماد کو قائم کرنے پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔

 

گھڑ سواری سیکھنے کی شوقین سعودی خاتون دلال الایدا نے بتایا کہ ابتدا میں شوق کے لیے گھڑسواری شروع کی مگر بعد میں یہ شوق ایک جذبے اور مستقل سرگرمی میں تبدیل ہو گیا۔ یہ محض ایک کھیل نہیں بلکہ ایک ایسا تجربہ ہے جس سے زندگی میں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔

 

ماہر گھڑ سوار خاتون رغدالعنزی کے مطابق انہیں بچپن سے اس کھیل کا شوق تھا۔ مسلسل تربیت اور مہارت کے بعد متعدد مقامی مقابلوں میں تبوک کی نمائندگی بھی کی۔

 

ایک اور خاتون عبیر شجاع کا کہنا ہے کہ انہوں نے گھڑ سواری کا آغاز تین برس قبل کیا تھا۔ ابتدائی تربیت کے بعد رکاوٹوں کو عبور کرنے میں مہارت حاصل کی۔ اس کھیل میں کامیابی کے لیے صبر، مستقل مزاجی اور مرحلہ وار مہارت کا حصول انتہائی اہم ہوتا ہے۔

 

عبیر شجاع، ینبع اور جدہ میں ہونے والی متعدد چیمپیئن شپ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر چکی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button