مضامین
خبر پہ شوشہ “برق گرتی ہے تو بےچارے مسلمانون پر”

کے این واصف
پچھلے دنوں جنتر منتر دہلی اور ملک کے دیگر شہروں میں پیپر لیک پر جنزی (Gen-z) کے احتجاج نے ایوان اقتدار کو ہلادیا۔
اس ملک گیر احتجاج کے دوران طلبہ نے حکومت، وزراء اور وزیرآعظم کے خلاف جس قسم کے پلے کارڈز دیکھائے اور نعرے لگائے ان کو یہاں دہرایا بھی نہیں جاسکتا نہ ہم ان کی تائید ہی کرتے ہیں۔ ویسے حکومت نے بچون کے اس قصور کو معاف بھی کردیا گیا۔
شائد اہل اقتدار نے اس کو “سب کچھ جائز ہے محبت اور جنگ میں” کے تحت نظر انداز کردیا۔ مگر قانون کی “محافظ” پولیس نے جنتر منتر پر طلبہ کے لئے مفت کھانے اور پانی کا انتظام کرنے والے جنید ملک اور
“عمر خالد اور شرجیل امام کو رہا کرو” کے پلے کارڈ دکھانے والے دانش کو گرفتار کرلیا۔ شائد ان کا جرم مسلمان ہونا قرار پایا۔



