جنسی ہراسانی کے الزامات سے برج بھوشن شرن سنگھ با عزت بری

نئی دہلی: خواتین پہلوانوں کی جانب سے لگائے گئے مبینہ جنسی ہراسانی کے الزامات سے متعلق مقدمے میں دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے سابق ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کے صدر برج بھوشن شرن سنگھ اور شریک ملزم ونود تومر کو تمام الزامات سے بری کر دیا۔
یہ فیصلہ عدالت کے ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ اشونی پنوار نے سنایا۔بری ہونے کے بعد برج بھوشن شرن سنگھ نے کہا "ہوئی ہی سوئی جو رام رچی راکھا” جس کا مطلب ہے کہ جو کچھ رام جی نے تقدیر میں لکھ دیا ہے وہی ہو کر رہتا ہے۔فیصلہ سنائے جانے سے قبل برج بھوشن شرن سنگھ راؤز ایونیو کورٹ پہنچے تھے
جہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ صرف عدالت کے فیصلے کو ہی قبول کریں گے اور ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں۔یہ مقدمہ چھ خواتین پہلوانوں کی جانب سے برج بھوشن شرن سنگھ پر لگائے گئے مبینہ جنسی ہراسانی کے الزامات سے متعلق تھا۔ شکایات کی بنیاد پر دہلی پولیس نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔
اس معاملے نے ملک بھر میں وسیع بحث اور احتجاج کو جنم دیا تھا۔ جون 2023 کو دہلی پولیس نے برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف چارج شیٹ عدالت میں داخل کی تھی جس میں ان کے خلاف مختلف دفعات کے تحت الزامات عائد کیے گئے تھے۔
بعد ازاں 10 مئی 2024 کو ٹرائل کورٹ نے پانچ خواتین پہلوانوں کی شکایات کی بنیاد پر برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف الزامات طے کیے تھے۔ اس وقت عدالت نے قرار دیا تھا کہ ریکارڈ پر موجود شواہد IPC کی دفعات 354 اور 354A کے تحت فردِ جرم عائد کرنے کے لیے کافی ہیں۔
اسی طرح دو خواتین پہلوانوں کے معاملے میں دفعہ 506(1) کے تحت مجرمانہ دھمکی کا الزام بھی برقرار رکھا گیا تھا۔عدالت نے سابق معاون سیکریٹری ونود تومر کے خلاف بھی ایک متاثرہ خاتون کو دھمکانے کے الزام میں دفعہ 506(1) کے تحت فردِ جرم عائد کی تھی۔
اس مقدمے میں ایک کم عمر خاتون پہلوان نے بھی برج بھوشن شرن سنگھ پر الزامات عائد کیے تھے، تاہم بعد میں اس نے اپنی شکایت واپس لے لی۔ اس کے بعد دہلی پولیس نے پوکسو ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں کلوزر رپورٹ پیش کی
جسے عدالت نے قبول کرتے ہوئے وہ مقدمہ بند کر دیا تھا۔تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد راؤز ایونیو کورٹ نے پیر کے روز اپنا فیصلہ سناتے ہوئے برج بھوشن شرن سنگھ اور ونود تومر کو تمام الزامات سے بری کر دیا۔



