مضامین

اسلام میں پیشہ تدریس کردار سازی اور تعمیر انسانیت کا وسیلہ

از :۔ پروفیسر ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی القادری الملتانی

کامل الحدیث جامعہ نظامیہ ، M.A., M.Com (Osm)

اسلام میں پیشہ تدریس کردار سازی اور تعمیر انسانیت کا وسیلہ دین اسلام نے جس طرح استاد کے مقام، عظمت و علمی و معاشرتی اہمیت کو بلند قرار دیا ہے، اسی طرح اس منصب سے وابستہ فرائض اور ذمہ داریوں کو بھی غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ استاد محض معلومات کی ترسیل کرنے والا فرد نہیں بلکہ نسل نو کا مربی، فکر و کردار کا معمار اور تہذیبی و اخلاقی اقدار کا امین ہے۔ جب وہ اپنی ذمہ داریوں کو محض ذریعہ معاش تک محدود کردیتا ہے اور تعلیم، تربیت و اصلاح سے جدا ہوجاتی ہے تو علم اپنی حقیقی روح اور مقصد سے محروم ہوجاتا ہے۔ عصر حاضر کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ تعلیم میں اخلاص، کردار سازی، خدمت انسانیت اور اخلاقی تربیت کے بجائے مادی منفعت اور تجارتی رجحانات غالب ہوتے جارہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں علم اور عمل، مہارت اور ذمہ داری نیز عقل اور اخلاق کے درمیان تعلق کمزور پڑتا جارہا ہے، جس سے فرد کی شخصیت اور معاشرے کی اخلاقی بنیادیں متاثر ہوتی ہیں

 

لہٰذا ضروری ہے کہ اسلامی تصور تعلیم اور استاد کے منصب کی حقیقی روح کو از سر نو زندہ کیا جائے۔ تعلیم کو محض حصولِ معاش کا ذریعہ بنانے کے بجائے امانت، خدمت، کردار سازی اور تعمیرِ انسانیت کا وسیلہ سمجھا جائے، کیونکہ استاد کی اصلاح ہی طالب علم، معاشرے اور بالآخر انسان کی فکری و اخلاقی اصلاح کی بنیاد ہے۔ دین اسلام میں تعلیم کو محض معلومات کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی شخصیت کی ہمہ جہت تعمیر اور تکمیل کا بنیادی وسیلہ قرار دیا گیا ہے۔ اسی لیے استاد کو اس عظیم عمل کا محض ایک پیشہ ور عامل نہیں ، بلکہ نسلوں کے فکری سرمایہ کا امین، اخلاقی اقدار کا محافظ اور انسانی شخصیت کا معمار تصور کیا گیا ہے۔ اسلامی تصور تعلیم کی روح اس حقیقت میں مضمر ہے کہ انسان کی تعمیر صرف عقل کی نشو و نما سے مکمل نہیں ہوتی

 

بلکہ اس کے لیے کردار کی تہذیب، روح کی پاکیزگی، ارادے کی تربیت اور معاشرتی شعور کی بیداری بھی ضروری ہے۔ چنانچہ اسلامی روایت میں استاد بیک وقت معلم، مربی، اور مودب کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن مجید نے علم کو انسانی رفعت، فکری امتیاز اور بصیرت کا سرچشمہ قرار دیا ہے۔ اہل علم اور غیر اہل علم کے درمیان فرق کو نمایاں کرتے ہوئے قرآن انسان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ علم صرف معلومات کا ذخیرہ نہیں، بلکہ حقیقت شناسی، صحیح و غلط کے امتیاز اور ذمہ دارانہ فیصلے کی صلاحیت کا نام ہے۔ اسی طرح اہل علم کے درجات کی بلندی کا ذکر اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ علم کے حامل اور اس کے منتقل کرنے والے افراد پر ذمہ داری بھی اسی قدر عظیم عائد ہوتی ہے۔

 

استاد کا ہر لفظ، اس کا طرزِ فکر، اس کی علمی دیانت اور اس کا عملی کردار نسلوں کی ذہنی و اخلاقی تشکیل میں اپنا اثر چھورتا ہے۔قرآنی تصور تعلیم کی ایک نہایت اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ تعلیم کو تزکیہ نفس سے جدا نہیں کرتا۔ مشین نبویؐ کے بیان میں تلاوتِ آیات، تزکیہ اور تعلیم کتاب و حکمت کو ایک دوسرے مربوط اجزا کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی تعلیم کا مقصد محض ذہن کو معلومات سے معمور کرنا نہیں، بلکہ انسان کی پوری شخصیت کو اس طرح سنوارنا ہے کہ اس کا علم اس کے کردار میں اور اس کا کردار اس کے عمل میں جلوہ گر ہو۔اسی لیے حکمت اور حسن اسلوب کو تعلیم کا بنیادی اصول قرار دیا گیا۔ استاد کے لیے صرف یہ جاننا کافی نہیں کہ وہ کیا پڑھا رہا ہے، بلکہ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اسے کس انداز، کس موقع اور کس ذہنی سطح کے مطابق پیش کرنا چاہیے۔ یہی حکمتِ تدریس کا جوہر ہے۔

 

سنت نبویؐ نے ان اصولوں کو عملی صورت عطا فرمائی۔ رسول اکرمؐ کا اسلوب تعلیم شفقت، تدریج، آسانی، مخاطب کی ذہنی استعداد کے لحاظ اور عملی رہنمائی کا حسین نمونہ تھا۔نبوی تعلیم میں جبر اور غیر ضروری سختی کے بجائے سہولت اور دل نشینی کو ترجیح دی گئی۔ یَسِّرُوا وَ لاَ تُعَسِّرُوا (آسانی پیدا کرو دشواری نہیں) کا اصول اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ تعلیم کا مقصد علم کے دروازے کھولنا ہے، انہیں دشوار اور پیچیدہ بناکر بند کرنا نہیں۔ اسی طرح تعلیم کو ایک عظیم انسانی خدمت قرار دیتے ہوئے علم کو امانت کے مفہوم سے وابستہ کیا گیا۔ اس بنا پر استاد کی ذمہ داری صرف مہارت نہیں، بلکہ علمی دیانت، اخلاص اور احساسِ جواب دہی بھی ہے۔ اسے مستند اور غیر مستند معلومات، علمی تحقیق اور شخصی رائے، یقین اور احتمال کے درمیان امتیاز کو ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہیے۔ مسلم فلسفیانہ روایت نے تعلیم کو انسانی کمال اور اخلاقی فضیلت کے وسیع تر تناظر میں دیکھا ۔ الفارابی کے نزدیک علم کی حقیقی قدر اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ انسان کو اعلیٰ خیر کی معرفت عطا کرے اور اسے اجتماعی زندگی میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کے قابل بنائے۔

 

ان کے نزدیک فکری ترقی کو اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داری سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ ابن مسکویہ نے انسانی کردار کی تشکیل میں تربیت، عادت اور مسلسل مشق کو بنیادی اہمیت دی اور واضح کیا کہ اخلاقی فضائل مناسب تربیت کے ذریعہ پروان چڑھائے جاسکتے ہیں۔ اس نظریے کی روشنی میں استاد کا کردار نصابی تدریس سے کہیں وسیع ہوجاتا ہے، کیونکہ اس کا اپنا کردار بھی طلبہ کے لیے ایک خاموش مگر موثر درس گاہ ہوتا ہے۔ ابن سینا نے تعلیم میں انسانی ذہنی صلاحیتوں کی تدریجی نشو و نما اور طلبہ کے انفرادی تفاوت کو خاص اہمیت دی۔ ان کے نزدیک تمام طلبہ استعداد، مزاج اور فکری رجحان کے اعتبار سے یکساںنہیں ہوتے، اس لیے تدریس کا یکساں اور جامد طریقہ ہر فرد کے لیے موثر نہیں ہوسکتا۔ ایک کامیاب استاد وہ ہے جو اپنے مضمون کے علم کے ساتھ اپنے طلبہ کی ذہنی سطح، ضروریات اور صلاحیتوں کو بھی سمجھتا ہو اور انہیں اسی مقام سے آگے لے جائے جہاں سے ان کی حقیقی فکری نشو و نما ممکن ہو۔

 

ابن خلدون نے تعلیم کے نفسیاتی اور عملی پہلوئوں پر نہایت گہری بصیرت کے ساتھ گفتگو کی۔ ان کے نزدیک تعلیم معلومات کی میکانکی منتقلی نہیں بلکہ انسانی استعداد کی تدریجی تشکیل کا عمل ہے۔ انہوں نے ضرورت سے زیادہ سختی اور خوف پر مبنی تدریسی ماحول کے نقصانات کو نمایاں کیا اور بتایا کہ ایسا رویہ طالب علم کے اعتماد، آزادیِ فکر اور تخلیقی صلاحیت کو مجروح کرسکتا ہے۔ اس کے برعکس انہوں نے تدریج، تکرار اور مسلسل مشق کے ذریعے علمی ملکہ پیدا کرنے پر زور دیا۔ اس تصور کی رو سے حقیقی تعلیم وہ ہے جو طالب کو محض جوابات یاد کرنے والا نہ بنائے بلکہ اسے سوچنے، سمجھنے ،سوال کرنے اور استدلال کرنے کی صلاحیت عطا کرے۔ امام غزالیؒ کے نزدیک علم کی حقیقی قدر اس کی کثرت میں نہیں بلکہ اس کے تزکیہ نفس، اصلاح عقل، تواضع، اخلاص اور اخلاقی کردار پر مرتب ہونے والے اثر میں ہے۔ اسی لیے استاد کی اپنی شخصیت اور کردار تعلیم کا بنیادی وسیلہ ہیں، قول و عمل کی یکسانیت، علمی دیانت، عدل، تحمل، تواضع، کردار کی پاکیزگی اور دیانت داری استاد کی بنیادی صفات ہیں۔ استاد کی ذمہ داریاں علمی، اخلاقی، تدریسی، روحانی اور معاشرتی دائروں پر مشتمل ہیں۔ اسے مستند علم حاصل کرنے، مسلسل مطالعہ و تحقیق سے وابستہ رہنے، علمی اختلاف اور ذاتی رائے میں امتیاز کرنے اور عدم علم کو دیانت داری سے تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔

 

تدریس میں وضاحت، تدریج، مکالمہ، سوال و جواب، عملی مثال اور حوصلہ افزائی کے ذریعے طلبہ کو محض معلومات کا ذخیرہ بنانے کے بجائے تنقیدی فکر، فہم اور عملی تطبیق کی صلاحیت عطا کرنا اس کی اہم ذمہ داری ہے۔ اخلاقی و روحانی اعتبار سے اسے طلبہ کے انسانی وقار کا احترام کرتے ہوئے اخلاص، ذمہ داری، خدمت ، خدا شناسی اور حسن کردار کی تربیت کرنی چاہیے۔ عصر حاضر میں معلومات کی فراوانی نے استاد کی اہمیت کم نہیں کی بلکہ مزید بڑھا دی ہے کیونکہ موجودہ دور کا بنیادی مسئلہ معلومات کا حصول نہیں بلکہ ان کی صحت، تفہیم، تنقید، تربیت اور اخلاقی استعمال ہے۔ چنانچہ استاد کو طلبہ کو صرف یہ نہیں سکھانا چاہیے کہ کیا سوچنا ہے، بلکہ یہ بھی کہ کیسے سوچنا ہے اور درست سوالات کیسے قائم کرنے ہیں۔ المختصر دین اسلام کے تصور تعلیم میں استاد کی عظمت اس بات میں مضمر ہے کہ وہ علم کو بصیرت، بصیرت کو کردار اور کردار کو خدمت انسانیت میں تبدیل کرنے کی صلاحیت پیدا کرے۔ یہی علم کی اخلاقی و روحانی غایت، استاد کی حقیقی ذمہ داری اور تعلیم کا بلند ترین مقصد ہے۔

 

آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ بطفیل نعلین پاک مصطفیﷺ ہمیں قرآن اور صاحب قرآن ﷺ کی تعلیمات کے مزاج کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائیں۔آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین طہ و یسین۔

متعلقہ خبریں

Back to top button