مضامین

استاد کا مرتبہ اور اسلامی تعلیمات 

شہزاد علی مظفرنگر

اسلام ایک ایسا دین ہے جس کا آغاز ہی علم، تحقیق اور سیکھنے کے حکم سے ہوا۔ قرآنِ مجید کی سب سے پہلی وحی "اقرأ” (پڑھ) نے انسانیت کو جہالت کے اندھیروں سے نکلنے کا راستہ دکھایا۔ اسلام میں علم محض معلومات کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ انسان کے باطن کو منور کرنے والی روشنی ہے۔ جب علم کیاہمیت اتنی مسلمہ ہے، تو علم پھیلانے والے یعنی "معلم” کا مقام خود بخود کائنات میں سب سے بلند ہو جاتا ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال "یومِ اساتذہ”(Teachers’ Day) منایا جاتا ہے تاکہ معاشرے کو اس عظیم ہستی کے احسانات یاد دلائے جا سکیں۔

 

 

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس دن کی معنویت، استاد کے حقوق اور ہماری اخلاقی ذمہ داریوں کا ایک تفصیلی جائزہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔معلمِ کائنات ﷺ اور فنِ تدریس کا تقدساسلام میں استاد کی عظمت اور تقدس کے لیے یہ باتہی کافی ہے کہ کائنات کی سب سے بہترین اور برگزیدہ ہستی، نبی کریم ﷺ نے خود کو ایک معلم کے طور پر متعارف کروایا۔ آپ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:”بے شک مجھے معلم (استاد) بنا کر بھیجا گیا ہے۔” (سنن ابن ماجہ)

 

 

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں رسول اللہ ﷺ کے فرائضِ منصبی کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:”وہی ہے جس نے امیوں کے اندر انہی میں سے ایک رسولبھیجا جو انہیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے، ان کا تزکیہ کرتا ہے اورانہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔” (سورۃ الجمعہ: 2)

 

 

اس آیتِ کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تدریس کوئی معمولی پیشہ یا ذریعہ معاش نہیں، بلکہ یہ ایک نوری مشن، انبیاء کی میراث اور انسانیت سازی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ استاد دراصل انبیاء کے اسی مشن کو آگے بڑھاتا ہے۔دوسرے الفاظ میں کہا جائے تو اساتذہ کسی بھی آدمی کے روحانی والدین ہوتے ہیں والدین انسان کی مادی پرورش کا ذریعہ بنتے ہیں۔روحانی والدین (استاد)انسان کو زمین کی پستیوں سے اٹھا کر اخلاقی اور روحانی طور پر آسمان کی بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔استاد صرف کتابی الفاظ یا خشک نظریات نہیں کرتا، بلکہ وہ انسان کے کردار کی تعمیر کرتا ہے۔ وہ شاگرد کی فکری کجی کو دور کرتا ہے، اسے اچھے اور برے کی تمیز سکھاتا ہے، اور اسےایک حیوان سے انسانِ کامل کے مرتبے پر فائز کرتا ہے۔ استاد کے بغیر کوئی بھی معاشرہ تہذیب اور تمدن کے اعلیٰ مدارج طے نہیں کر سکتا۔

 

اسلامی تاریخ اور اساتذہ کا بے مثال احترام :

اسلامی تاریخ اساتذہ کے ادب، احترام اور ان کے سامنے عاجزی کے سنہری اور

حیرت انگیز واقعات سے بھری پڑی ہے۔ ہمارے اسلاف نے اس حقیقت کو پا لیا

تھا کہ علم استاد کے احترام کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔

امیر المؤمنین حضرت علی المرتضیٰ کا طرزِ عمل: آپ کا مشہور و معروف فرمان

ہے:”جس نے مجھے ایک حرف بھی سکھایا، وہ میرا آقا ہے۔ اب چاہے وہ مجھے

بیچے، آزاد کرے یا غلام بنا کر رکھے۔

"امام ابو حنیفہ کی عقیدت:

فقہِ اسلامی کے امامِ اعظم فرماتے تھے: "میں نے جب سے علم سیکھا، کبھی اپنے استاد حماد کے گھر کی طرف پیر نہیں پھیلائے، حالانکہ ان کے گھر اورمیرے گھر کے درمیان سات گلیوں کا فاصلہ تھا۔ میں ہر نماز کے بعد اپنے‌والدین کے ساتھ اپنے اساتذہ کے لیے بھی استغفار کرتا ہوں۔”امام شافعی کا عجز:

آپ فرماتے ہیں: "میں امام مالک کے سامنے کتاب کا صفحہ اتنی آہستہ سے

پلٹتا تھا کہ کہیں کاغذ کی سرسراہٹ سے ان کے سکون میں خلل نہ پڑے۔”

خلیفہ ہارون الرشید کا واقعہ:عباسی خلیفہ ہارون الرشید نے اپنے بیٹوں (امون اور مامون) کو امام اصمعی کے پاس تعلیم و تربیت کے لیے بھیجا۔ ایک دن خلیفہ اچانک وہاں پہنچے تو‌دیکھا کہ استاد پاؤں دھو رہے ہیں اور شہزادہ پانی ڈال رہا ہے۔ خلیفہ نے اس پر استاد سے گلہ کیا کہ "میں نے اسے آپ کے پاس ادب سیکھنے بھیجا تھا، آپ نے اسے یہ حکم کیوں نہ دیا کہ ایک ہاتھ سے پانی ڈالے اور دوسرے ہاتھ

سے آپ کے پاؤں دھوئے؟

"اساتذہ کے حقوق:

اسلامی شریعت کی روشنی میںاسلام نے جہاں استاد کو بلند مرتبہ دیا، وہاں شاگردوں اور پورے معاشرے پر اساتذہ کے کچھ بنیادی حقوق عاید کیے ہیں جن کی پاسداری لازمی ہے:ادب، تعظیم اور عاجزی: شاگرد کو چاہیے کہ وہ استادکے سامنے ہمیشہ عاجزی کا مظاہرہ کرے۔ ان کی موجودگی میں اونچی آواز میںبات نہ کرے، ان کی بات کو نہ کاٹے، اور مجلس میں ان سے آگے بڑھ کر بیٹھنے کی کوشش نہ کرے۔

 

شکر گزاری اور احسان شناسی: شاگرد پر لازم ہے کہ وہ اپنے اساتذہ کا احسان

مند رہے اور یہ سمجھے کہ استاد نے اسے علم دے کر اس پر بہت بڑا احسان کیاہے۔دعا کا اہتمام: اپنے اساتذہ کے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائی، صحت اورمغفرت کی دعائیں مانگنا ایک وفادار شاگرد کی نشانی ہے۔اطاعت و فرمانبرداری: شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے، استاد کی ہر نصیحت،حکم اور تعلیمی ہدایت پر دل و جان سے عمل کیا جائے۔یومِ اساتذہ کی شرعی اور اخلاقی معنویت اسلام شکر گزاری اور احسان شناسی کا دین ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے:”جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔” (سنن ترمذی)اس تناظر میں، سال میں ایک دن "یومِ اساتذہ” کے طور پر مخصوص کرنا اور اس میں اساتذہ کی خدمات کا اعتراف کرنا، انہیں تحائف دینا اور ان کا شکریہ ادا کرنا ایک پسندیدہ اور اخلاقی عمل ہے۔ یہ دن معاشرے کو یہ یاد دلانے کا ذریعہ بنتا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو خاموشی سے قوم کے مستقبل کو تراش رہے ہیں تاہم اسلامی تعلیمات ہمیں دو اہم باتوں کی طرف متوجہ کرتی ہیں:

 

احترام کی کل وقتی نوعیت: استاد کا احترام کسی ایک مخصوص دن تک محدودنہیں ہونا چاہیے۔ یہ کوئی رسمی رشتہ نہیں بلکہ عمر بھر کا تعلق ہے۔ استاد جب بھی اور جہاں بھی ملے، وہ تعظیم کا مستحق ہے۔حدود کی پاسداریاس دن کو مناتے وقت مغربی تہذیب کی اندھی تقلید، ہلڑ بازی، اساتذہ کا مذاق اڑانے (جیسے استاد کی نقل اتارنا)، فضول خرچی اور نام و نمود جیسی خرافات سے بچنا لازم ہے۔ تقریب کا ماحول وقار اور سنجیدگی پر مبنی ہونا چاہیے۔‌آج ہمارے مسلم معاشرے میں جو اخلاقی بحران، تعلیمی پسماندگی اور بے برکتی نظر آتی ہے، اس کی ایک بڑی وجہ اساتذہ کے مقام و مرتبے کو فراموش کرنا اور تعلیمی اداروں کا تجارتی مراکز میں تبدیل ہو جانا ہے۔ علم کی برکت‌ہمیشہ استاد کے ادب سے جڑی ہوتی ہے۔اگر ہم بحیثیت قوم دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے تعلیمی اور سماجی نظام میں اساتذہ کو وہی اسلامی، تاریخی اور اخلاقی مقام دینا ہوگا جس کے وہ حقدار ہیں۔ یومِ اساتذہ کے موقع پر ہمارا یہ حقیقی عہد ہونا چاہیے کہ ہم اپنے اساتذہ کا دل سےاحترام کریں گے، ان کے حقوق ادا کریں گے اور ان کی بتائی ہوئی شمعِ علم کو امانت سمجھ کر آگے پھیلائیں گے۔

 

 

 

متعلقہ خبریں

Back to top button