نیشنل

سنبھل تشدد پہلے سے منصوبہ بند تھا، عدالتی کمیشن کی رپورٹ اترپردیش اسمبلی میں پیش

نئی دہلی: اتر پردیش اسمبلی میں چہارشنبہ کو 2024 کے سنبھل تشدد سے متعلق عدالتی کمیشن کی رپورٹ پیش کی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ تشدد "پہلے سے منصوبہ بند” تھا۔ رپورٹ میں سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق اور سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی اقبال محمود کے بیٹے سہیل اقبال کے مبینہ کردار کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

 

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسجد کے سروے کے تعلق سے مسلمانوں میں غلط معلومات پھیلائی گئیں۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ جن گولیوں سے ہلاکتیں ہوئیں وہ پولیس نے نہیں چلائیں، جبکہ ہنگامہ آرائی کرنے والوں نے پولیس کے ہتھیار لوٹنے کی بھی کوشش کی۔

 

گزشتہ سال اگست میں اتر پردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا تھا کہ عدالتی کمیشن کی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ 2024 کے فسادات کے لئے کس طرح مبینہ طور پر سازش کی گئی تھی۔

 

تین رکنی عدالتی کمیشن نے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ سے ملاقات کرکے اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔ یہ رپورٹ 24 نومبر 2024 کو شاہی جامع مسجد کے آثارِ قدیمہ کے سروے کے دوران بھڑکنے والے تشدد سے متعلق ہے، جس میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

 

رپورٹ میں سنبھل کی آبادی میں ہونے والی بڑی تبدیلی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق آزادی کے وقت سنبھل میں ہندو آبادی 45 فیصد تھی، جو اب کم ہو کر 15 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ مسلم آبادی 85 فیصد ہو چکی ہے۔

 

سنبھل میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح اور سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ اتر پردیش "خوشامد کی سیاست” سے نکل کر "اطمینان کی سیاست” کی طرف بڑھ رہا ہے اور ریاست میں آبادی کے تناسب میں کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سابق حکومتوں کے دور میں ہندوؤں کو نشانہ بنانے کے متعدد واقعات پیش آئے تھے۔

 

چیف منسٹر نے کہا کہ عدالتی کمیشن کی رپورٹ میں 2024 کے سنبھل تشدد کی مبینہ سازش کے مختلف پہلوؤں کو سامنے لایا گیا ہے۔

 

پی ٹی آئی کے مطابق رپورٹ میں سنبھل میں فرقہ وارانہ کشیدگی کی تاریخ کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ 1953 میں شیعہ اور سنی برادریوں کے درمیان تصادم کے بعد 1956، 1959، 1962، 1966 اور 1976 میں بھی بڑے فسادات ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق 1962 میں جن سنگھ کے رکن اسمبلی مہیش گپتا پر چاقو سے حملہ کیا گیا تھا، جبکہ 1976 میں مسجد کمیٹی کے تنازع اور ایک مولوی کے قتل کے بعد مندروں پر حملے اور کرفیو نافذ کرنا پڑا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button