جنرل نیوز

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ… ایمان، علم، تصوف اور جہاد کا ایسا درخشاں استعارہ جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ… ایمان، علم، تصوف اور جہاد کا ایسا درخشاں استعارہ جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا

قوموں کی عظمت صرف فوجی قوت سے نہیں بلکہ صالح علماء، دینی مدارس اور روحانی تربیت سے وابستہ ہوتی ہے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

حیدرآباد، 5 اگست: پریس ریلیز

اسلامی تاریخ کے افق پر چند ایسی عظیم شخصیات طلوع ہوئیں جن کی حیاتِ مبارکہ صدیوں کے فاصلے طے کرنے کے باوجود آج بھی امتِ مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ، عزم و استقلال کی علامت اور ایمان افروز مثال بنی ہوئی ہے۔ ان نابغۂ روزگار ہستیوں میں فاتحِ بیت المقدس، سلطان یوسف بن ایوب المعروف سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کا نام انتہائی احترام، عقیدت اور فخر کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ آپ نے صرف ایک عظیم سلطنت کی بنیاد نہیں رکھی بلکہ عدل و انصاف، رحم و کرم، دینی غیرت، اخلاقِ نبوی ﷺ اور اسلامی اخوت پر مبنی ایسی مثالی قیادت پیش کی جس کی نظیر تاریخِ عالم میں کم ہی ملتی ہے۔

خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز، نامپلی، حیدرآباد، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے اپنے خصوصی بیان میں کہا کہ سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کی غیر معمولی فتوحات کے پیچھے صرف عسکری مہارت یا سیاسی حکمتِ عملی نہیں تھی بلکہ ان کی اصل قوت وہ ایمانی حرارت، روحانی تربیت، علمی بصیرت اور صالح افراد تھے جو دینی مدارس، خانقاہوں اور علمی مراکز سے تیار ہوکر میدانِ عمل میں اترتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ مؤرخین نے واضح کیا ہے کہ سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کی فوج کا ایک بڑا حصہ ایسے نوجوانوں پر مشتمل تھا جنہوں نے دینی مدارس اور روحانی مراکز میں قرآن و سنت، فقہ، اخلاق، تزکیۂ نفس اور جہاد کے اسلامی آداب کی تعلیم حاصل کی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے لشکر میں بہادری کے ساتھ تقویٰ، شجاعت کے ساتھ انکساری، طاقت کے ساتھ عدل اور فتح کے ساتھ رحم و شفقت بھی نمایاں نظر آتی تھی۔

مولانا نے کہا کہ تاریخ اس حقیقت کی بھی شاہد ہے کہ اس عہد میں مدرسہ نظامیہ جیسے علمی مراکز نے امت کو ایسے باکردار علماء، قائدین اور مجاہدین عطا کیے جنہوں نے علم و عمل کی روشن مثالیں قائم کیں، جبکہ غوثِ اعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر اکابر اولیائے کرام کی روحانی تعلیمات نے معاشرے میں اخلاص، تقویٰ، ایثار اور اللہ تعالیٰ پر کامل اعتماد پیدا کیا۔ اسی ماحول نے ایسی نسل تیار کی جس نے اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے میں کبھی تردد نہیں کیا۔

مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے مزید کہا کہ سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کی حکومت میں تصوف، علم اور جہاد ایک دوسرے سے جدا نہیں تھے بلکہ ایک ہی مضبوط اسلامی تہذیب کے تین روشن ستون تھے۔ مدارس علم کی روشنی پھیلاتے تھے، خانقاہیں دلوں کی اصلاح کرتی تھیں اور میدانِ جہاد میں وہی افراد اترتے تھے جن کی شخصیت علم، عمل، تقویٰ اور اخلاق سے مزین ہوتی تھی۔ یہی وہ متوازن نظام تھا جس نے امتِ مسلمہ کو عزت، وقار اور عالمی قیادت عطا کی۔

انہوں نے کہا کہ سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے والد نجم الدین ایوب رحمۃ اللہ علیہ کی مصر اور دمشق میں قائم خانقاہیں اس حقیقت کی غماز تھیں کہ ایوبی خاندان نے اقتدار سے پہلے کردار، حکومت سے پہلے روحانیت اور طاقت سے پہلے اصلاحِ نفس کو اہمیت دی۔ یہی دینی و روحانی ماحول سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کی شخصیت کی تعمیر کا بنیادی سبب بنا۔

مولانا نے کہا کہ بیت المقدس کی فتح کے بعد سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے جس عفو و درگزر، عدل و انصاف اور انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کیا، اس نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام انتقام نہیں بلکہ رحمت، انصاف اور اعلیٰ اخلاق کا دین ہے۔ انہوں نے دشمنوں کے ساتھ بھی وہ حسنِ سلوک کیا جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے، اور یہی سیرت انہیں دیگر فاتحین سے ممتاز کرتی ہے۔

انہوں نے موجودہ حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج امتِ مسلمہ کو دوبارہ اسی فکر، اسی تربیت اور اسی کردار کی ضرورت ہے۔ اگر ہمارے مدارس، تعلیمی ادارے، مساجد اور خانقاہیں علم، اخلاق، روحانیت اور حبِ وطن سے سرشار نوجوان تیار کریں تو امت دوبارہ علمی، تہذیبی اور اخلاقی میدان میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتی ہے۔

آخر میں مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کی سیرت، عدل، دیانت، تقویٰ، اتحاد، برداشت، حسنِ اخلاق اور جذبۂ خدمت کا مطالعہ کریں، اپنے کردار کو اسلامی تعلیمات کے مطابق سنواریں اور علم و عمل کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو قوموں کو عزت، استحکام اور سربلندی عطا کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button