انٹر نیشنل

عبدالسعید کی مشی گن کی ڈیموکریٹک سینیٹ پرائمری جیت ، بائیں بازو کے لیے وسط مغربی خطے میں اہم کامیابی

نئی دہلی: عبدالسید نے مشی گن کی ڈیموکریٹک سینیٹ پرائمری میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے سخت مقابلے میں رکن ایوانِ نمائندگان ہیلی اسٹیونز کو شکست دے کر پارٹی کی نامزدگی حاصل کی۔ اس کامیابی کے ساتھ ترقی پسند بائیں بازو کی سیاست نے وسط مغربی ریاست میں ایک اہم مقام حاصل کر لیا ہے۔

 

عبدالسید نے تقریباً 65 ملین ڈالر کی بیرونی مالی مدد اور اسٹیونز کے حق میں کھڑے ہونے والے پارٹی اسٹیبلشمنٹ کا مقابلہ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔ مقبول گورنر گریچن وِٹمر نے گزشتہ ماہ کے آخر میں ہیلی اسٹیونز کی حمایت کی تھی جسے عبدالسعید کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کی آخری کوشش قرار دیا گیا تھا۔

 

عبدالسید جو صحتِ عامہ کے سابق عہدیدار رہ چکے ہیں اب نومبر کے عام انتخابات میں سابق رکن کانگریس مائیک راجرز کا سامنا کریں گے جنہوں نے منگل کو بغیر کسی مخالفت کے ریپبلکن نامزدگی حاصل کی۔ یہ مقابلہ ملک کے سب سے زیادہ سخت مقابلوں میں شامل ہو سکتا ہے اور اس سے یہ طے ہونے کا امکان ہے کہ امریکی سینیٹ پر کس جماعت کا کنٹرول ہوگا جو امیدوار کامیاب ہوگا وہ ڈیموکریٹ سینیٹر گیری پیٹرز کی جگہ لے گا

 

جنہوں نے تیسری مدت کے لیے انتخاب نہ لڑنے کا فیصلہ کیا تھا اور پرائمری میں ہیلی اسٹیونز کی حمایت کی تھی۔ریپبلکن پارٹی کے پاس سینیٹ میں 53 نشستیں ہیں جبکہ ڈیموکریٹس اکثریت حاصل کرنے کے لیے چار نشستیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم انہیں جارجیا اور مشی گن سمیت کئی مقابلہ جاتی ریاستوں میں اپنی نشستوں کا دفاع بھی کرنا ہوگا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ جن کی ابتدائی حمایت نے مائیک راجرز کے لیے ریپبلکن پرائمری کو آسان بنا دیا تھا، نے منگل کی رات فاکس نیوز کے انٹرویو میں عبدالسید کی کامیابی پر بات کی۔

 

انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ یا اس سے وابستہ امیدوار "ملک کو تباہ کر دیں گے”۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ سوشلسٹ اور کمیونسٹ نظریات رکھنے والے گروہوں کے زیرِ اثر شہر "گندے اور تباہ حال” ہوتے ہیں۔تاہم عبدالسید کو ڈی ایس اے کی باضابطہ حمایت حاصل نہیں ہے لیکن نیویارک کی رکن کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیو کارٹیز اور ورمونٹ کے سینیٹر برنی سینڈرز جیسے جمہوری سوشلسٹ رہنماؤں نے ان کی انتخابی مہم چلائی۔

 

عبدالسید نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا تھا کہ وہ "تکنیکی یا عملی طور پر ڈی ایس اے کا حصہ نہیں ہیں”۔مائیک راجرز اور قومی ریپبلکن رہنماؤں نے اشارہ دیا تھا کہ وہ عبدالسید کو ہیلی اسٹیونز کے مقابلے میں آسان حریف سمجھتے ہیں۔ نیشنل ریپبلکن سینیٹریل کمیٹی نے عبدالسید کے ترقی پسند نظریات اور برنی سینڈرز کی حمایت کو نمایاں کرنے والا ڈیجیٹل اشتہار بھی جاری کیا جسے کئی مبصرین نے عام انتخابات میں ان کی مدد کی کوشش قرار دیا۔

 

برنی سینڈرز اور الیگزینڈریا اوکاسیو کارٹیز نے عبدالسید کے لیے ریاست بھر میں مہم چلائی۔ ان کی مہم میں "میڈی کیئر فار آل”، سیاست میں بڑی رقم کے اثرات کی مخالفت اور اسرائیل کو امداد دینے پر ہیلی اسٹیونز کی تنقید اہم نکات تھے۔یہ پرائمری اس بات کا امتحان بھی سمجھی جا رہی تھی کہ آیا نیویارک اور کولوراڈو جیسی ڈیموکریٹک ریاستوں میں کامیابی حاصل کرنے والی ترقی پسند عوامی تحریک صنعتی وسط مغربی علاقے کی ایک ایسی ریاست میں بھی جگہ بنا سکتی ہے جہاں سیاسی مقابلہ سخت ہے۔

 

عبدالسید نے دیگر بائیں بازو کے ڈیموکریٹس کی طرح اسرائیل پر غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کا الزام بھی عائد کیا۔ مشی گن میں یہ مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ وہاں بڑی تعداد میں مسلم اور عرب امریکی آبادی موجود ہے۔انہوں نے ہیلی اسٹیونز کو کارپوریٹ سے حاصل ہونے والی مالی مدد اور بڑے اتحادی گروپوں کی جانب سے چلائی جانے والی مہنگی ٹی وی مہمات پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

 

ان میں اسرائیل کی حمایت کرنے والی طاقتور تنظیم AIPAC سے وابستہ ایک گروپ کی 30 ملین ڈالر سے زیادہ کی مدد بھی شامل تھی۔ہیلی اسٹیونز اور ان کے اتحادیوں نے اشتہارات پر عبدالسید اور ان کے حمایتی گروپوں کے مقابلے میں تقریباً نو گنا زیادہ رقم خرچ کی۔عبدالسید نے ایک مباحثے میں کہا "اگر آپ کو 60 ملین ڈالر کے سہارے کی ضرورت ہے تو شاید آپ اپنی شرائط پر منتخب نہیں ہو سکتے۔”چار بار رکنِ کانگریس رہنے والی ہیلی اسٹیونز نے خود کو ڈیموکریٹک پارٹی کی مرکزی قیادت کے قریب رکھا۔

 

انہیں مشی گن کی گورنر گریچن وِٹمر، سینیٹر گیری پیٹرز اور سینیٹ کے اقلیتی رہنما چک شومر کی حمایت حاصل تھی۔دوسری جانب عبدالسید نے برنی سینڈرز اور اوکاسیو کارٹیز جیسے قومی ترقی پسند رہنماؤں کے ساتھ ساتھ یونائیٹڈ آٹو ورکرز یونین کی حمایت بھی حاصل کی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button