یو پی آئی لین دین پر چارج لگیں گے یا نہیں؟ آر بی آئی گورنر نے بڑی وضاحت کر دی

یو پی آئی پر مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ لاگو کرنے میں جلد بازی نہیں، آر بی آئی گورنر کا بیان
آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا نے کہا ہے کہ یو پی آئی لین دین پر مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (MDR) نافذ کرنے کے معاملے میں ابھی کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اس کی دیکھ بھال پر آنے والا خرچ کسی نہ کسی کو برداشت کرنا ہوگا، تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ اس کا بوجھ براہِ راست عام صارفین پر ہی پڑے گا۔
مالیاتی پالیسی کے جائزے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ یو پی آئی پر MDR کا معاملہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ حکومت متعلقہ قانون میں ترمیم کر رہی ہے، اس لیے حتمی فیصلہ آنے تک انتظار کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ نظام چلانے کے لیے اخراجات ناگزیر ہیں اور ان کی ادائیگی ضروری ہے، لیکن یہ اخراجات مختلف طریقوں سے بھی برداشت کیے جا سکتے ہیں، اس لیے عام صارفین کو ابھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
مرکزی حکومت نے حال ہی میں پارلیمنٹ میں پیمنٹ اینڈ سیٹلمنٹ سسٹمز ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش کیا ہے، جس کے ذریعے مستقبل میں یو پی آئی اور روپے جیسے ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام پر MDR نافذ کرنے کے لیے قانونی گنجائش فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
موجودہ قانون کے تحت نوٹیفائیڈ ڈیجیٹل ادائیگی کے طریقوں پر بینک یا ادائیگی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیاں MDR وصول نہیں کر سکتیں۔ اگر مجوزہ ترمیم نافذ ہوتی ہے تو حکومت نوٹیفکیشن کے ذریعے یہ طے کر سکے گی کہ کن ادائیگی کے طریقوں پر چارجز ہوں گے اور کنہیں استثنا دیا جائے گا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق عام صارفین کو تشویش کی ضرورت نہیں ہے۔ غور کیا جا رہا ہے کہ صرف 2 ہزار روپے سے زائد کے کاروباری یو پی آئی لین دین پر MDR نافذ کیا جائے، جبکہ دودھ، سبزیاں، کریانہ اور دیگر روزمرہ کی چھوٹی ادائیگیاں بدستور مفت رہنے کا امکان ہے۔
فی الحال کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے ہونے والے لین دین پر MDR نافذ ہے، تاہم بیشتر صورتوں میں اس کی ادائیگی تاجر کرتے ہیں۔ یو پی آئی کے معاملے میں بھی حکومت نے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے اور آر بی آئی نے بھی اس سلسلے میں کوئی باضابطہ تجویز پیش نہیں کی ہے۔



