مسلم خواتین کی آواز ایوانوں میں گونجے اور وہ قانون ساز بنیں : کویتا

مسلم خواتین کی آواز ایوانوں میں گونجے اور وہ قانون ساز بنیں
سماجی انصاف کے حصول کے لئے متحدہ جدوجہد ناگزیر
تمام طبقات بشمول اقلیتوں کی ترقی اور فلاح و بہبود ہی میری زندگی کا نصب العین
ٹی آر ایس کی جانب سے سماجی نیائے سنکلپ سبھا کا انعقاد، کلواکنٹلہ کویتا کا فکر انگیز خطاب
سماجی انصاف کے حصول کے لئے ٹی آر ایس کی جانب سے سرور نگر انڈور اسٹیڈیم میں سماجی نیائے سنکلپ سبھا کا شاندار پیمانے پر انعقاد عمل میں آیا۔ سربراہ ٹی آر ایس کلواکنٹلہ کویتا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں مسلم بھائیوں اور بہنوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ آج ہم یہاں صرف ایک تقریب میں شریک نہیں ہوئے ہیں بلکہ ایک ایسے عہد کے لئے جمع ہوئے ہیں جس کا مقصد انصاف پر مبنی سماجی تلنگانہ کے قیام کو یقینی بنانا ہے۔ اگر کسی قوم کو آگے بڑھنا ہے تو اسے تین چیزوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
پہلی چیز تعلیم،دوسری چیز (فینانشیل ایمپاورمنٹ)اور تیسری چیز سیاسی طاقت (پولیٹیکل ایمپاورمنٹ)۔ تعلیم ہوگی تو شعور آئے گا۔فینانشیل ایمپاورمنٹ ہوگی تو خودداری آئے گی اور سیاسی نمائندگی ہوگی تو انصاف ملے گا۔ جب تک اسمبلی اور پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی آواز نہیں ہوگی تب تک مسائل بھی حل نہیں ہوں گے۔اس لئے مسلمانوں کوپولیٹیکل امپاورمنٹ کی ضرورت ہے۔ اسمبلی اور پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی جتنی مضبوط نمائندگی ہوگی اتنی ہی مضبوطی سے کمیونٹی کے مسائل اٹھائے جاسکتےہیں اور انصاف بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔
میری دلی خواہش ہے کہ اسمبلی میں میری مسلم بہنوں کی آواز گونجے۔ ہماری بہنیں صرف ووٹ دینے والی نہ ہوں بلکہ قانون بنانے والی بھی ہوں۔ صرف گھریلو نہ ہوں بلکہ فیصلے کرنے والوں میں شامل ہوں۔ اپنی قوم کی نمائندگی کریں اور اپنے حقوق کی حفاظت کریں۔
میں آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا وعدوں کی سیاست سے پیٹ بھرتا ہے؟نہیں، ہرگز نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ بی سی مسلم برادری کو بی سی زمرے میں ریزرویشن ملے۔یہ احسان نہیں بلکہ ان کا حق ہے۔
ٹی آر ایس سربراہ کلواکنٹلہ کویتا نے اعلان کیا کہ سماجی انصاف کی یہ تحریک ملک کے کروڑوں عوام کی زندگیوں میں انقلابی تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی زندگی سماجی انصاف اور تمام طبقات کی مساوی ترقی کے حصول کے لئے وقف کر چکی ہیں
۔کویتا نے پرزور انداز میں کہا کہ پسماندہ طبقات کے لئے قانون ساز اداروں میں 50 فیصد ریزرویشن کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے مرکزی حکومت کو خبردار کیا کہ آئندہ بجٹ اجلاس سے قبل بی سی ریزرویشن بل منظور کیا جائے، بصورت دیگر “چلو دہلی” تحریک شروع کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف کا مطلب وسائل کی منصفانہ تقسیم ہے اور موجودہ حالات میں چند افراد وسائل پر قابض ہیں، جو کہ ناانصافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں ہونے والی کئی بڑی سماجی تبدیلیاں اعلیٰ طبقات کے جمہوریت پسند افراد کی کاوشوں سے بھی ممکن ہوئیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔کویتا نے مختلف طبقات بشمول ایس سی، ایس ٹی، بی سی، اقلیتوں اور خواتین کے حقوق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریزرویشن کے باوجود پسماندہ طبقات کی بڑی تعداد اب بھی ترقی سے محروم ہے۔ انہوں نے ایس سی، ایس ٹی کے بیک لاگ آسامیوں کو پُر کرنے اور اقلیتوں کو ان کے حقوق دینے کا مطالبہ کیا۔
اس موقع پر متعدد قراردادیں بھی منظور کی گئیں، جن میں پسماندہ طبقات کے لئے 50 فیصد ریزرویشن، خواتین کے لئے 33 فیصد ریزرویشن، آدی واسیوں کے جنگلات پر مکمل حقوق اور مختلف طبقات کی فلاح و بہبود کے اقدامات، مہاتما جیوتی راؤ پھولے کو بھارت رتن، پروفیسر جیہ شنکر کو پدم بھوشن ایوارڈ، ایس سی، ایس ٹی فنڈز کا صحیح استعمال، بیک لاگ پوسٹوں کی فوری تکمیل، آدیواسیوں کے جنگلات پر مکمل حقوق، مسلمانوں کے لیے معاشی خود کفالت اور وقف بورڈ اور اس کی املاک کا تحفظ، اقلیتوں اور ٹرانس جینڈرز کے حقوق کا تحفظ اور معذور افراد کی پنشن میں اضافہ جیسے اہم مطالبات شامل ہیں
۔کویتا نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سماجی انصاف کی اس جدوجہد میں متحد ہو کر حصہ لیں اور ملک میں برابری اور انصاف کے قیام کے لئے آگے آئیں۔



